147

تحریر:خرم شہزاد
وباء کے ان دنوں میں جب دنیا کے بیشتر ممالک میں نفسا نفسی کا عالم ہے، جب باپ بیٹے کو اور ماں بیٹی کو نہیں پہچان رہی، جب زندہ انسان خوف میں گھرے ہوئے ہیں اور گفتگو صرف مردہ انسانوں کے گرد گھومتی ہے، ایسے میں آپ خوش قسمت ہیں کہ قدرت نے ابھی تک آپ کو تحفظ فراہم کیا ہوا ہے۔ جہاں ایک طرف سپر پاورز کے ہاں دو سے ڈھائی ہزار افراد ہر دن موت کے منہ میں جا رہے ہیں وہاں آپ کی بائیس کروڑ آبادی میں ابھی تک صرف آٹھ ہزار مریض اور مشکوک افراد موجود ہیں۔ اس سے زیادہ شکر گزاری اور حوصلے کی کیا بات ہو سکتی ہے لیکن پھر بھی ہمارے معاشرے میں کچھ لوگ اپنی ذات کے برے پن سے مجبور ہوکر ناشکری کرتے ہوئے جھوٹ کی اشاعت میں مصروف ہیں۔

وبا کے ان دنوں میں آپ کو نہ صرف خود بلند حوصلہ رہنے کی ضرورت ہے بلکہ اپنے ارد گرد کے لوگوں کا حوصلہ بننا ہے۔ آج ہم آپ کو وہ سب نہیں بتائیں گے جو پہلے ہی آپ سوشل میڈیا سے جان چکے ہیں لیکن موقعے کے لحاظ سے ہر شخص سے کچھ گزارشات ہیں جن کے بارے ہم پر امید ہیں کہ ان پر عمل بھی ضرور کیا جائے گا۔

سب سے پہلی بات: کورونا یا کسی بھی بیماری، وبا، سیاسی و سماجی واقعے کے بعد شروع ہونے والے ڈیجیٹل تشدد کا نہ خود حصہ بنیں اور نہ اس کےلیے خود کو پیش کیجیے کہ دوسرے آپ پر تجربات کرتے رہیں۔ ہمارے پاس ہزاروں سال کی معلوم تاریخ میں ہر گھر، گلی، محلے، شہر اور ملک میں کچھ نہ کچھ ہوتا رہا ہے اور ہوتا رہے گا۔ زندگی رک نہیں جاتی اس لیے اپنے ایمان کو مضبوط کیجیے اور کسی بھی پینک یا میڈیا ریٹنگ کا شکار نہ ہوں۔
ہر بیس منٹ بعد ہاتھ دھونے کی نفسیاتی کیفیت سے باہر نکلیے۔ اگر آپ گھر کے اندر ہیں اور کوئی بھی باہر نہیں گیا یا باہر سے گھر میں داخل نہیں ہوا تو سکون سے رہیے۔ باہر سے آنے والے کو چاہیے کہ ہاتھ منہ دھو لے اور کپڑے تبدیل کرے۔ اتارے ہوئے کپڑے دھوپ میں ڈال دیجیے کیونکہ جراثیم صرف ہاتھوں پر نہیں لگتے بلکہ کپڑوں پر جھولے لیتے ہوئے بھی وہ آپ کے گھر میں داخل ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح بار بار ہاتھ دھونے کے بجائے وضو کیجیے، نماز پڑھیے، نوافل ادا کیجیے اور تلاوت کا اہتمام کیجیے۔ اگلی نماز کے وقت تازہ وضو کرلیجیے۔ خواتین بھی گھر کے کاموں کے مصروفیت سنانے کے بجائے ایسے ہی کاموں میں حصہ ڈالیں۔

تیسرا اور اہم کام یہ کہ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے دور رہیے۔ فیس بک کا استعمال بھی نہ ہونے کے برابر کر دیجیے جبکہ واٹس ایپ کو بھی صرف ماں باپ بہن بھائیوں سے رابطوں کےلیے استعمال میں رکھیے۔ یہ بھی کوشش کیجیے کہ جو بھی آپ کو کسی نئی تحقیق اور علاج کے بارے بتانے کی کوشش کرے، اسے بلاک کر دیں۔ اگر بلاک نہیں کرسکتے تو کم از کم میوٹ کا آپشن ضرور استعمال کیجیے تاکہ جھوٹے اور فضول لوگوں سے آپ کی جان چھوٹ جائے۔ روز درجن بھر سے زائد طریقہ علاج اور نئی تحقیقات سے آپ کے جاننے والے آپ کی معلومات میں اضافہ کرتے ہیں۔ کچھ سفید کوٹ والوں کی ویڈیوز بھی آپ کو روز دیکھنے کو ملتی ہوں گی، انہیں مزید آگے شیئر نہ کیجیے کیونکہ جھوٹ پھیلانا منافقوں کا کام ہے۔

جب بھی کوئی کورونا کے علاج یا حفاظتی تدبیر کے بارے بتائے تو اس سے ضرور پوچھیے کہ یہ علاج کب اور کہاں، کس ادارے میں کن ڈاکٹروں کی نگرانی میں ہوا؟ مریض کتنے تھے اور نتائج کہاں باقاعدہ شائع ہوئے؟ حکمت، ایلوپیتھی یا کوئی بھی اور طریقہ علاج بتانے والوں کی سند کا مطالبہ کیجیے اور اس حکیم یا ڈاکٹر کی متعلقہ ادارے سے تصدیقی کروائیے۔ ایسے تو کوئی بھی چار پیاز، تین گونگلو اور ہرا دھنیا تجویز کرتا رہے گا اور آپ اندھوں کی طرح عمل کرتے رہیں گے۔ کورونا سے مریں یا نہ مریں، یہ عجیب و غریب ٹونے ٹوٹکے آپ کو ضرور موت کے گھاٹ اتار دیں گے۔

یہ بھی یاد رکھیے کہ چین، یورپ، امریکا اور دوسرے مغربی ممالک میں بھی ڈاکٹر انسان ہی ہوتے ہیں، فرشتے نہیں کہ ان کی ہر بات پر آنکھ بند کرکے اعتبار کرلیا جائے۔ آپ کو اکثر ایسی پوسٹیں پڑھنے اور دیکھنے کو ملتی ہیں کہ جی چین کے ڈاکٹروں نے یہ کہا… امریکا میں ڈاکٹروں نے وہ کہا… ان سب پر بالکل بھی اعتبار نہ کیجیے گا، جب تک باقاعدہ طور پر ان ڈاکٹروں کے نام اور وابستہ اداروں، اسپتالوں کے نام نہ بتائے جائیں۔ نام معلوم ہونے پر بھی پہلے اس ادارے یا اسپتال کی ویب سائٹ پر جائیے اور تصدیق کیجیے کہ کیا واقعی یہی ڈاکٹر صاحب اسی ہسپتال سے وابستہ ہیں اور ان کا بیان کسی آفیشل سائٹ پر موجود ہے کہ نہیں۔

حکومت پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیجیے اور صرف حکومت کی طرف سے بتائی گئی احتیاطی تدابیر ہی اختیار کیجیے۔

اپنے آپ کو بہت زیادہ اپڈیٹ رکھنے کی کوشش نہ کیجیے کیونکہ ہر بات سچی نہیں ہوتی اور ہر سچی بات آپ سے متعلق بھی نہیں ہوتی۔

اب جب آپ اوپر بتائی گئی باتوں پر عمل کریں گے تو آپ کو بہت سا وقت مل جائے گا جو آپ خود پر اور اپنے خاندان پر صرف کر سکتے ہیں۔ یاد رکھیے کہ اٹلی میں آج چھ سو ستر افراد مرے یا پھر چار سو بیانوے، اس سے آپ کی زندگی پر کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن آپ نے اپنے والد سے بات کی، والدہ کا حال پوچھا، بیوی سے مسکرا کر تبادلہ خیال کیا، بھائیوں اور بھابھیوں کو وقت دیا، بہنوں سے ہنسی مذاق کیا کہ نہیں اور بچوں کے ساتھ کھیل کود میں حصہ لیا کہ نہیں… ان سب باتوں سے آپ کی زندگی میں بہت فرق پڑتا ہے اور فرق پڑے گا۔ اس لیے اٹلی فرانس جرمنی کے بجائے اپنوں کو وقت دیجیے کہ قسمت سے یہ وقت ملا ہے اور اس فارغ وقت میں آپ بے شمار کام کر سکتے ہیں جو ابھی تک شاید آپ کی وش لسٹ میں بھی نہ ہوں، جیسے کہ:

گھر کی ایک بار صفائی ستھرائی میں حصہ ڈالیے تو آپ کو پتا چلے کہ گھر کے کس کونے میں کیا چیز کب سے رکھی ہوئی ہے اور آپ کو معلوم ہی نہیں۔ آپ اپنے ہی گھر کو کتنا جانتے ہیں، آپ کا یہ وہم ایک بھرپور صفائی سے صاف ہوجائے گا۔

کرنے والے کاموں میں یہ بھی ہے کہ کچھ نیا سیکھیے، بھلے روٹیاں پکانا ہوں یا پھر سائیکل کو پنکچر لگانا۔ یوٹیوب پر ہر چیز کی ویڈیو مل جاتی ہے۔ وقت سے فائدہ اٹھا کر کوئی بھی ہنر آن لائن سیکھا جا سکتا ہے۔

لکھاریوں سے کتابیں خریدیئے کیونکہ اس وقت انہیں آپ کی مدد کی ضرورت ہے اور کسی بھی لکھاری کی اس سے اچھی مدد اور کیا ہو سکتی ہے کہ آپ اس سے کتاب خرید لیں۔ یوں لکھاری کا بھرم بھی رہ جائے گا اور آپ کو وقت گزاری کےلیے کتاب بھی میسر آجائے گی۔

لاک ڈاؤن کے ان دنوں میں جہاں ہم سوشل میڈیا پر غریبوں کے درد سے بے حال نظر آنے کی کوشش کرتے ہیں، وہیں کیا ہی اچھا ہو کہ اپنی درد مندی کا کوئی عملی نمونہ بھی پیش کریں۔ یہ کہاں لازم ہے کہ آپ کے محلے میں رہنے والے غریب شخص کو چوک میں ریڑھی ہی لگانی پڑے تبھی آپ چوک میں جا کر خریداری کر یں گے۔ ایسے لوگ جو ریڑھیاں لگاتے ہیں یا کوئی چھوٹی موٹی دکانداری کرتے ہیں، آپ محلے کے اندر گھروں میں بات کرکے انہیں گھر پر ہی چیزوں کا آرڈر دے سکتے ہیں۔ وہ لوگ بھی گھر پر رہتے ہوئے اشیا تیار کرکے آپ کو محلے میں مہیا کر دیں گے۔ اس طرح وہ عام دنوں جیسا تو نہیں کما سکیں گے لیکن ان کے گھر کا چولہا جلنے کا کسی حد تک بندوبست ہوجائے گا۔

یہ کہنا بھی مناسب ہے کہ اپنے کھانے پینے کا خیال رکھیں تو وہیں اپنے محلے میں موجود لوگوں کا بھی خیال رکھیے۔ لازم نہیں کہ کوئی آپ کے گھر مانگنے آئے تبھی آپ کو اس کی مجبوری کا پتا چلے گا۔ آپ خود کسی کے گھر سے پیالی سالن مانگ کر اس کے گھر کے حالات کا اندازہ کرسکتے ہیں۔

یہ بھی یاد رکھیے کہ آپ گھر پر ہیں تو لازم نہیں کہ اب باورچی خانے میں چولہا ٹھنڈا ہی نہ ہو۔ گیس اور بجلی کے بل آپ کو خود دینے ہیں اس لیے استعمال میں احتیاط کیجیے۔ خواتین کو بھی آرام دیجیے اور قسمت سے ملنے والا وقت ایک دوسرے کے ساتھ گزاریئے، بجائے کہ یہ وقت جگالی میں گزار دیں۔ ورزش اور یوگا جیسے خواب پورے کیجیے اور کھانا تین کے بجائے دو وقت پر لانے کی کوشش کیجیے۔ اس طرح ملک میں کسی بھی ممکنہ غذائی قلت کے مسئلے کا حل بھی ہو سکے گا اور آنے والے رمضان کی بہتر تیاری بھی ممکن ہوگی۔

تمام کاروباری حضرات سے بھی گزارش ہے کہ خدارا منافع اور حرام میں فرق کریں۔ دو روپے کی چیز دس روپے میں بیچنا کاروباری گر نہیں بلکہ حرام خوری ہے جس کے بعد نمازیں اور حج بھی منہ پر دے مارے جاسکتے ہیں، دعائیں قبولیت کھو بیٹھتی ہیں۔ پھر تہجد ہو یا چھتوں پر چڑھ کر دی جانے والی اذان، عرش تک سب کچھ مشکل سے ہی پہنچتا ہے۔

یہ سب تو تھے کچھ مردانہ سے مشورے لیکن خواتین سے بھی گزارش ہے کہ وہ موقع غنیمت جانیں اور اپنی زندگی بدلنے کی بھرپور کوشش کریں۔ مثلاً:

ملازمت پیشہ خواتین جو آج کل گھر پر ہیں، وہ اپنی تعلیم مکمل کرنے کی تیاری کریں۔ اگلے امتحانوں کی تیاری کا اس سے بہتر موقع اور بھلا کون سا ہو سکتا ہے۔

ایم فل اور پی ایچ ڈی خواتین (حضرات شامل) سے جب پوچھا جاتا ہے کہ کوئی نیا مضمون لکھا یا کوئی ریسرچ ورک کیا تو ان کا ایک ہی جواب ہوتا ہے کہ وقت نہیں ملتا۔ خواتین و حضرات، اب جب کہ قدرت کی طرف سے وافر وقت آپ کو مہیا کر دیا گیا ہے تو اس سے فائدہ اٹھائیے، مضامین اور ریسرچ ورک کا انبار لگا دیجیے کہ آپ کے پڑھے لکھے ہونے کا کسی دوسرے کو بھی فائدہ ہو اور آپ کو بھی پتا چلے کہ آپ خود کتنے پڑھے لکھے ہیں اور لکھنے کےلیے مزید کتنا پڑھنے کی ضرورت ہے۔

خواتین سے یہ بھی گزارش ہے کہ بچے گھر پر ہیں تو ان کے لاڈ پیار میں گیس اور بجلی کا بل دو ہزار سے بیس ہزار نہ کر دیجیے گا۔ یہ دن بچوں کی تربیت کے ہیں نہ کہ ان کی ہر بات مان کر انہیں مزید بگاڑنے کے۔ بچوں کو خود نماز اور قرآن پڑھنے کی طرف راغب کیجیے، بلکہ کوشش کیجیے کہ بہت سی چھوٹی سورتیں بچوں کو زبانی یاد کروا دیں۔ ترجمہ اور تفسیر کا پڑھنا کئی خواتین و حضرات کا ایک خواب ہوتا ہے لیکن وقت کی قلت کا بہانہ برسوں ان لوگوں سے سننے کو ملتا ہے۔ لیکن اب میسر وقت میں یہ خواب بھی پورا کیا جا سکتا ہے۔ بزرگ گھر کا سرمایہ ہیں، یہ بات بچوں کو سمجھائیں اور بزرگوں کی قربت اور اہمیت کا احساس بھی دلائیں کیونکہ اپنی جس جوانی کے احساس میں آپ اندھے ہو چکے ہیں، وہ بس چند روزہ ہے پھر آپ کو بھی گھر میں موجود فالتو اور بے کار بزرگوں کی جگہ ہی لینی ہے۔ بہتر ہے کہ اپنی دنیا اور آخرت کی تیاری انہی دنوں میں بہتر انداز میں کر لی جائے۔

شادی شدہ خواتین سے یہ بھی گزارش ہے کہ آپ گھر، بچوں اور باورچی خانے کے نکاح میں نہیں آئی ہیں بلکہ ایک شخص کے نکاح میں آئی ہیں جو آپ کا شوہر ہے اور اسے بھی آپ کے وقت کی ضرورت ہے۔ لازم نہیں کہ پورے گھر کو ہر روز جھاڑو لگائی جائے پھر پانی سے دھویا جائے، بچوں کے ساتھ سارا دن سر پٹھوّل کی جائے اور اپنی مصروفیت کو خدمت کا لبادہ پہنایا جائے۔ دو چار بچے ہونے کا یہ بھی مطلب ہرگز نہیں کہ سر جھاڑ منہ پہاڑ کی عملی تفسیر بنے رہا جائے۔ کچھ نک سک سے آپ بھی تیار ہوں اور اپنے شوہر کو کچھ وقت دیجیے کہ اسے احساس ہو کہ وہ اس گھر میں رہنے والا ایک شادی شدہ شخص ہے نہ کہ کسی جیل کا مزدور ہے۔ یاد رکھیے، جن بچوں کی مصروفیت کا بہانہ آج آپ کے پاس ہے، نوکریوں اور شادیوں کے بعد یہ اپنی زندگیوں میں مصروف ہوجائیں گے۔ تب آپ کو جس شخص کی طرف پلٹنا ہوگا، کیا حرج کہ جوانی میں بھی اسے کچھ وقت دے دیا جائے کہ اب تو قسمت نے اسے بھی آپ کے پاس ہونے کا وقت دیا ہے۔

پاکستان میں شادی کا دوسرا مطلب خواتین کےلیے زندگی ختم لیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے بہت سی خواتین کا سسرال کی طرف سے کوئی روک ٹوک نہ ہونے کے باوجود یہی جواب ہوتا ہے کہ نہیں بھئی اب کیا کرنا، اب تو شادی ہوگئی ہے۔ خدارا اس کیفیت سے باہر نکلیے اور کوئی ہنر سیکھیے یا کچھ عملی کام کیجیے تاکہ آپ کے ہونے، بلکہ زندہ ہونے کا کوئی تو ثبوت ہو۔

خواتین سے یہ بھی گزارش ہے کہ اپنی، بچوں اور بزرگوں کی نیند کا خاص خیال رکھیں کیونکہ بھرپور نیند جسم کےلیے بے حد ضروری ہوتی ہے۔ لیکن یہ بھی خیال رہے کہ بھرپور نیند کا مطلب چوبیس گھنٹے کی نیند یا بستر کی جان نہ چھوڑنا ہرگز نہیں۔

خواتین و حضرات سے ایک مشترکہ گزارش یہ بھی ہے کہ وبا کے ان دنوں میں آپ کو خود اپنے گھر کے حالات کا بخوبی پتا ہے۔ سوشل میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا کے شور کے باوجود ہم میں بہت سے لوگ اس قدر بھی غریب نہیں جتنا واویلا کیا جاتا ہے، اس لیے خدا کا شکر کرتے ہوئے کسی نہ کسی غریب کی مدد کا جذبہ اپنے اندر جگائیے اور اس جذبے سے اپنے بچوں کو بھی روشناس کروائیے۔

آخر میں یہی کہوں گا کہ آپ سب حوصلے والے ہیں اور حوصلہ شکنی آپ کو راس نہیں۔ یاد رکھیے کہ ہمارا خدا چھٹی پر نہیں جاتا، اس لیے اپنے رب سے اپنا کمزور تعلق دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کیجیے۔ قضا پر راضی ہوجائیے اور اپنے آج کو بہتر کرنے کی کوشش کیجیے تاکہ آپ کا آنے والا کل بہتر ہوسکے۔ افراتفری اور ڈیجیٹل تشدد سے نہ صرف خود بچیے بلکہ دوسروں کو بھی بچائیے۔ یاد رکھیے کہ آپ کے ماں باپ، بہن بھائی اور بیوی بچے آپ کی اپنی ذمہ داری ہیں، انہیں دوسروں کا مقروض نہ ہونے دیجیے۔ موسم، وبا اور نادیدہ دشمن کے سامنے بہادر بننے کے بجائے اپنا اور اپنوں کا خیال رکھیے کہ انہیں آپ کی سخت ضرورت ہے۔ قسمت سے ملے وقت کو بہترین مصرف میں لائیے کہ ایسا موقع اب شاید ہی آپ کو اپنی زندگی میں دوبارہ نصیب ہو۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ایک اچھی اور نیک زندگی گزارنے کی توفیق دے، آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں