11

یہ ’اسٹیلتھ‘ کشتی منٹوں میں آبدوز بن جاتی ہے

لندن: برطانیہ میں فوجی کشتیاں اور بحریہ کےلیے دیگر ساز و سامان تیار کرنے والی کمپنی ’’وکٹا‘‘ نے ’’سب سی کرافٹ‘‘ کے نام سے ایک جدید کشتی تیار کی ہے جو ’اسٹیلتھ‘ ہونے کے علاوہ، ضرورت پڑنے پر صرف چند منٹوں میں کشتی سے آبدوز بن جاتی ہے۔

واضح رہے کہ عسکری ٹیکنالوجی کی زبان میں جو چیز ریڈار پر نظر نہیں آتی یا اپنی اصل جسامت سے بہت کم دکھائی دیتی ہے، وہ ’اسٹیلتھ‘ (Stealth) کہلاتی ہے۔

سب سی کرافٹ کو مضبوط اور ہر ممکن حد تک ہلکا رکھنے کےلیے کاربن فائبر کے ساتھ ساتھ خاص طرح کے ’’ڈائی ایب‘‘ (Diab) فوم کا استعمال بھی کیا گیا ہے۔ تاہم اس کے وزن کے بارے میں تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔

اس میں کُل 8 افراد بیٹھ سکتے ہیں جن میں 6 غوطہ خور سپاہیوں کے علاوہ ایک پائلٹ اور ایک نیوی گیٹر شامل ہیں۔ یہ 39.2 فٹ لمبی اور 7.5 فٹ چوڑی ہے۔

کشتی کے طور پر یہ اپنا 725 ہارس پاور والا ڈیزل انجن استعمال کرتے ہوئے 74 میل فی گھنٹہ کی زیادہ سے زیادہ تیز رفتار سے سفر کرسکتی ہے، جبکہ اس کی اوسط رفتار 56 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔

وکٹا کمپنی کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ مکمل طور پر ایندھن بھرنے کے بعد یہ 463 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرسکتی ہے۔

جب اسے کشتی سے آبدوز بنانا ہوتا ہے تو ایک خاص نظام اس میں پانی بھرنا شروع کردیتا ہے، جس کے دو منٹ بعد ہی یہ آبدوز کی طرح پانی کی گہرائی میں اترنے لگتی ہے۔

اس مقصد کےلیے ’سب سی کرافٹ‘ میں سوار تمام افراد پہلے ہی سے غوطہ خور ماسک اور لباس پہنے ہوتے ہیں، جن میں سانس لینے کا نظام اس کشتی پر موجود ’اوپن ایئر سرکٹ سسٹم‘ سے منسلک ہوتا ہے۔

یہ واٹرپروف نظام خاصی گہرائی میں جانے کے بعد بھی پانی سے متاثر نہیں ہوتا اور آبدوز میں سوار تمام عملے کو 4 گھنٹے تک آکسیجن کی فراہمی جاری رکھ سکتا ہے۔

آبدوز میں تبدیل ہوجانے کے بعد یہ کشتی اپنے 6 الیکٹریکل تھرسٹرز استعمال کرتی ہے جو اسے زیرِ آب رہتے ہوئے 11 کلومیٹر فی گھنٹہ کی اوسط رفتار سے لے کر 15 کلومیٹر فی گھنٹہ کی زیادہ سے زیادہ رفتار پر آگے بڑھاتے ہیں۔

یہ تھرسٹرز لیتھیم آئن بیٹری پیک سے توانائی حاصل کرتے ہیں اور ایک بار مکمل چارج ہونے کے بعد کم از کم 2 گھنٹے تک ’سب سی کرافٹ‘ کو زیرِ آب حرکت میں رکھتے ہیں اور اس دوران یہ 46 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرسکتی ہے۔

اب تک ’سب سی کرافٹ‘ کے پروٹوٹائپ کو بڑے تجرباتی تالابوں میں آزمایا جاچکا ہے جبکہ کھلے سمندر میں اس کی آزمائشیں اگلے سال 2021 کی جنوری میں شروع ہونے کی توقع ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں