159

ہم سب ایک ہیں؟

تحریر: محمد عنصر عثمانی
یہ 8 ستمبر 1947 کی شام ہے۔ مسلمان آزاد ریاست پاکستان حاصل کرچکے ہیں۔ ہندوستان کے مسلمان اپنا سب کچھ چھوڑ کر پاکستان کو اپنا مسکن بنانا چاہتے ہیں، تو پاکستانی ہندو، سکھ قافلوں کی شکل میں ہندوستان کےلیے رخت سفر باندھ چکے ہیں۔ اے رب ذوالجلال! کہیں دشمن سے سامنا نہ ہو۔ 8 ستمبر کی شام مسلم کارواں ایک گاؤں سے گزرتا ہے۔ موسم بہت پیارا ہے۔ ٹھنڈی ہواؤں کے تھپیڑے فرحت بخش خوشی دے رہے ہیں۔ مائیں اپنے نونہالوں کو لوریاں دینے میں مصروف ہیں۔ نوجوان لڑکیاں طلسمی کہانیاں سن اور سنا رہی ہیں۔ نوجوان لڑکوں کا ٹولہ چوکنا اور بوڑھے کاندھوں کا سہارا بننے کےلیے کسی بھی ممکنہ خطرے کی بو سونگھتے سب کو ہوشیارباش کررہے ہیں۔ پھر ایک پل آتا ہے، جہاں یہ کارواں پت جھڑ کے موسم میں درخت کے پتوں کی طرح بکھر جاتا ہے۔ نوجوان لڑکے، لڑکیاں گاجر مولی کی طرح کاٹ دیے جاتے ہیں۔ ماؤں کی لوریاں، چیخوں اور آہوں میں بدل جاتی ہیں۔ بوڑھے لڑتے لڑتے اپنی جان، جانِ آفریں کے سپرد کرکے ابدی نیند سوجاتے ہیں۔ زمین خون پی جاتی ہے۔ فلک پر اڑتے پرندے پھٹی آنکھوں سے یہ منظر دیکھتے رہتے ہیں۔ نہر کا پانی جو پہلے خاک آلود تھا، اب سرخ ہوجاتا ہے۔ ہر طرف خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں۔ لیکن ایک کلمہ، ایک قرآن، ایک دین کے نام لیوا اس قافلے کا ایک قوم بننے کا جذبہ، الگ وطن کی خاطر سب کا ایک ہی نعرہ تھا۔ ہم آج بھی ایک ہیں۔
یہ 15 اگست 1947 ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کرنے والا طالب علم اور قائداعظم محمد علی جناح کا دست راست، مسلم لیگ و تحریک پاکستان کا سرکردہ رہنما نوابزادہ لیاقت علی خان پاکستان کے پہلے وزیراعظم کا حلف اٹھاتا ہے۔ قوم کو ایک سچا، مخلص، ہمدرد وزیراعظم مل جاتا ہے۔ لیاقت علی خان صاحب رحم دل اور ملک وملت پر سب کچھ قربان کردینے والے انسان تھے۔ انہوں نے اپنی موروثی جائیداد ملک و قوم پر اور اس کی خوش حالی پر خرچ کر ڈالی تھی۔ مگر قوم کے امتحان ابھی باقی تھے۔ 16 دسمبر 1951 کے بعد ایک نیا سلسلہ شروع ہوا۔
ہم اس ملک کے ابتدائی گیارہ برسوں کی بات کریں یا اس کی 74 سالہ مکمل زندگی کا احاطہ کریں، بدقسمتی سے ہمیں آج تک ایسا وزیراعظم نہیں ملا، جس نے بدعنوانی، نااہلی اور نکمے پن کا مظاہرہ نہ کیا ہو۔ اس قوم نے اپنے اندر کے میر جعفروں، میر صادقوں کو بھی جھیلا اور اس قوم نے ارض وطن کو ہر سو توڑنے والوں کو بھی پرکھا۔ اس قوم کو اپنے محسنوں سے جدائی بھی سہنا پڑی۔ غم و الم کی داستانیں بھی رقم ہوئیں۔ لیکن اس قوم کا نعرہ تب بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے کہ ہم سب ایک ہیں۔
دیکھا جائے تو اس قوم کے نصیب میں روڑے نہیں تھے۔ ملکی دفاع کمزوری سے مضبوطی کی طرف گامزن ہونے کو تھا۔ دھرتی ماں اپنا جگر کاٹ چکی تھی۔ رواں دواں وقت قوم کو ماضی کی داستان حیات پر کف افسوس ملنے نہیں دے رہا تھا۔ طوفان بہت تھے۔ کشتی بھنور میں تھی۔ قریب تھا کہ کل کی بھولی بسری قوم دوبارہ اخوت کے رشتے کو مضبوط کرتی، قوم پھر یک لخت ہوئی۔ 16 دسمبر1971 مشرقی پاکستان کو لسانی، نسلی تعصب کی نذر کردیا گیا۔ پہلے برصغیر پاک وہند سے، ہندوستان اور پاکستان بنے۔ اب مشرقی پاکستان الگ کرکے یہ پیغام دیا گیا کہ ’تم اور ہو، اور ہم اور ہیں‘ کی طویل دیوار کھڑی کردی گئی۔
ملک اس سال اپنی 74 ویں بہار دیکھے گا۔ یہ مٹی اپنوں کے دیے ہزاروں زخم اپنے سینے پر سجائے ہوئے ہے۔ غیروں کی ستم ظریفی سے چور، اندرونی و بیرونی سازشوں سے نبرد آزما، پانی، روٹی، صحت سے قوم محروم۔ موذی امراض سے ہم آج تک لڑتے پھر رہے ہیں۔ امیر کی امیری کو غریب دیکھ رہا ہے۔ امیر، غریب کو حقارت و ناپسندیدگی سے دیکھ رہا ہے۔ ایوانوں میں بیٹھے سیاسی ہیرو، وطن کو نوچتے ان کے لوہے کے ناخن، ملکی ترقی میں کارہائے نمایاں انجام نہ دینے والا پاکستانی، سرحدوں کی حفاظت کرنے والے محافظ جوان، گلی کوچوں، چوراہوں میں مسلکی، مذہبی، لسانی دہشت گردی کرنے والے اور ان کے آلہ کار کارندے، کرپشن کے گرو، جوتے سینے والا موچی، اس ملک پر محبتیں نچھاور کرنے والا اور اس دھرتی سے شکوہ کناں ہر فرد، ساری زندگی سچائی سے محب وطن رہنے والا یا اس میں قد غنیں لگانے والا، اس مرتبہ بھی حسب عادت سب نے یہی کہنا ہے ’ہم سب ایک ہیں‘۔
کاش! ہم سب ایک ہوتے؟ (بشکریہ ایکسپریس نیوز)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں