245

ہم راتوں رات نتائج چاہتے ہیں جس کی وجہ سے پلیئرز تیار نہیں کرپاتے، شان مسعود

ہم راتوں رات نتائج کی طرف جاتے ہیں جس کی وجہ سے ہم پلیئرز تیار نہیں کرپاتے۔
آن لائن گفتگو میں شان مسعود نے کہا کہ پلیئرز کو تحفظ کا احساس دینا ضروری ہے، یہ نیچرل ہے کہ اگر آپ عدم تحفظ کا شکار ہوں گے تو آپ کھل کر پرفارم نہیں کر پائیں گے، اگر جیت کی طرف جانا ہے تو ہار بھی برداشت کرنا ہوگی، برے دن بھی دیکھنا ہوں گے، سہے بغیر کچھ نہیں ملتا اس لیے ہمیں تسلسل کا مظاہرہ کرنا ہوگا، ہم راتوں رات نتائج کی طرف جاتے ہیں جس کی وجہ سے ہم پلیئرز تیار نہیں کرپاتے۔
30 سالہ بیٹسمین کا کہنا تھا کہ کرکٹ ایسا گیم ہے کہ 30 دن کھیلتے ہیں باقی 330 دن کھیلے گئے 30 دن کا سوچنے میں گزر جاتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ چار سال کیلئے گروپ بناکر ٹیم کو تیار کیا جائے۔
شان مسعود نے کہا کہ جسین رائے اور روہت شرما بھی مسلسل کرکٹ کھیل کر ٹاپ پلیئر بنے ہیں، انگلینڈ کی کرکٹ دو ہزار پندرہ کے بعد تبدیل ہوئی جب انہوں نے اپنی ڈائریکشن طے کہ کہ اب کرنا کیا ہے، پلیئرز کا ایک کور گروپ بنایا اور پھر اسکو ہی ساتھ لے کر چلتے رہے جس کا نتیجہ آج سب کے سامنے ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی پلیئرز کے پاس دیگر ٹیموں کے پلیئرز کی طرح ہوم ایڈوانٹج بھی نہیں تھا جس کی وجہ سے ٹیم میں وہ جارح مزاجی نہیں بن پائی جو دیگر ٹیموں میں تھی۔
پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے مستتقل رکن نے بغیر تماشائیوں کے کرکٹ کرانے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تو جو بھی کرکٹ مل جائے ہم کھیلیں گے، کسی بھی اسپورٹس مین کیلئے گھر بیٹھنا آسان نہیں، اگر بتدرج اسپورٹس کی بحالی کی طرف جائیں تو پہلا قدم بغیر تماشائیوں کے میچز کرانا ہی ہے، فینز کو ٹی وی پر دیکھنے کا موقع ملے گا، پلیئرز کو بھی کھیلنے کا موقع ملے گا، بغیر کراوڈ کے مزہ نہیں ہوگا لیکن اس کے علاوہ آپشن بھی نہیں۔
انہوں نے کہا کہ فٹنس کے کلچر کو اپنانا ہر کسی کا فرض ہے، صرف یہ نہ ہو کہ فٹنس ٹیسٹ پاس کرنے کی تیاری کی جائے بلکہ فٹنس کے معیار کو پورے سال ہر وقت برقرار رکھا جائے کیوں کہ دنیا کی جو بہترین ٹیمیں ہیں وہ فٹ ترین ٹیمیں بھی ہیں۔

شان مسعود نے دبے لفظو ں میں ڈپارٹمنٹل کرکٹ کی بحالی کی بھی حمایت کی اور کہا کہ ڈپارٹمنٹل کرکٹ نے انہیں سیکھنے میں کافی مدد دی، پہلے حبیب بینک میں ٹاپ پلیئرز کے ساتھ کھیلا پھر یو بی ایل میں یونس خان جیسے پلیئر کی مینٹورشپ ملی جو کافی مفید ثابت ہوئی، ڈپارٹمنٹل کرکٹ ہونی چاہیے، پی سی بی کوشش بھی کررہا ہے، امید ہے کوئی ونڈو ضرور نکل آئے گی۔

پاکستان سپر لیگ میں ملتان سلطانز کی قیادت کرنے والےشان مسعود نے کہا کہ کوشش یہی ہونی چاہیے کہ جب بھی ممکن ہو پی ایس ایل کے بقیہ میچز ری شیڈول کرکے فائنل کا فیصلہ کیا جائے کیوں کہ لیگ کا حسن پلے آف اور ناک آؤٹ اسٹیج ہی ہے۔

اپنے کیریئر پر بات کرتے ہوئے شان مسعود نے کہا کہ اتار چڑھاؤ ہونا کسی بھی کھلاڑی کے کیریئر کا حصہ ہے، اس سے کھلاڑیوں کو سبق سیکھنا چاہیے، میں نے بھی غلطیوں سے سبق سیکھا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں