29

ہسپتالوں سے بچوں کی گمشدگی اور تبدیلی

تحریر: ضیاء الرحمٰن ضیاء

چند روز قبل بینظیر بھٹو اسپتال میں بچوں کی تبدیلی کے واقعے نے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا۔ واقعہ کچھ یوں پیش آیا کہ حویلیاں سے والدین اپنے تین دن کے بچے کو راولپنڈی کے بینظیر بھٹو ہسپتال کے شعبہ پیڈز میں لائے۔ ڈاکٹرز نے ہیپٹائٹس کا بتا کر بچے کو ایمرجنسی میں داخل کردیا۔ کچھ دیر کے بعد والدین کو خون میں لت پت ایک مردہ بچے کی لاش دے کر اسے اسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا، اور ساتھ یہ بھی کہا کہ بچے کی جلد ہی تدفین کردیں۔ والدین بچے کو لے کر حویلیاں کی طرف روانہ ہوگئے۔ وہاں پہنچ کر بچے کو دفن کردیا۔ تدفین کے بعد ماں نے بچے کا پیمپر دیکھا تو اس نے بتایا کہ یہ پیمپر اس کے بچے کا نہیں ہے۔ جب بچے کا کڑا دیکھا گیا تو اس پر بھی ماں کے بجائے کسی اور خاتون کا نام درج تھا۔ والدین نے ہسپتال پہنچ کر احتجاج کیا اور بات میڈیا پر آئی تو اسپتال انتظامیہ کی دوڑیں لگ گئیں اور انہوں نے فوراً ان کا بچہ ان کے حوالے کردیا، جو خوش قسمتی سے ابھی اسپتال میں ہی موجود تھا۔ والد نے بتایا کہ اسپتال انتظامیہ نے بچے کے والدین کو میڈیا سے بات نہ کرنے اور کسی قسم کی قانونی کارروائی نہ کرنے کےلیے ایک کاغذ پر دستخط بھی لیے تھے۔

اس واقعے نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے کہ اگر یہ غلطی تھی تو ڈاکٹروں نے مردہ بچے کو جلد از جلد دفنانے کا مشورہ کیوں دیا؟ جب کڑوں پر بچوں کے نام درج ہوتے ہیں تو پھر بچے تبدیل کیسے ہوگئے؟ اگر یہ غلطی سے ہوا تو ہسپتال انتظامیہ نے والدین کو میڈیا سے گفتگو اور قانونی کارروائی سے کیوں منع کیا؟ پھر جو دوسرا بچہ یا بچی ان کے حوالے کیا اور انہوں نے اسے دفن کردیا، وہ کس کا تھا اور اس کے والدین کو کیا کہانی سنائی گئی؟ یہ تمام سوالات مل کر ایک بڑے سوال کو جنم دیتے ہیں کہ کیا اس طرح کرنے والے کہیں بچوں کے کاروبار میں تو ملوث نہیں ہیں؟ کیوںکہ ایسے انکشافات ماضی میں ہوتے رہے ہیں کہ ہسپتالوں سے بچوں کو غائب کرکے ان کا کاروبار ہوتا رہا، جس میں اسپتالوں کی انتظامیہ بھی ملوث رہی۔

اس سے قبل بھی ملک کے مختلف شہروں کے اسپتالوں میں بچوں کی گمشدگی کے کئی واقعات پیش آتے رہے ہیں۔ ستمبر 2019ء میں ساہیوال کے ڈی ایچ کیو ہسپتال سے نومولود بچی غائب ہوگئی۔ دو سال قبل 2018ء ستمبر کے مہینے میں ہی پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال سے ایک نومولود پراسرار طریقے سے گم ہوگیا تھا، جب والدین نے احتجاج کیا تو بچہ انہیں واپس مل گیا۔ اسی طرح دو سال قبل ہی لاہور کے جناح ہسپتال سے 2 دن کی بچی کو غائب کردیا گیا اور اسپتال انتظامیہ نے یہ موقف اپنایا کہ بچی کو کسی نے اغوا کرلیا ہے۔ اسی طرح لاہور کے لیڈی ولنگٹن ہسپتال سے بھی ایک نومولود کو غائب کر دیا گیا تھا اور کئی گھنٹے کی تلاش کے بعد بچہ بادشاہی مسجد کے قریب ایک پارک سے ملا تھا۔

2016ء میں پشاور پولیس نے بچوں کے اغوا میں ملوث ایک گینگ کے خلاف کارروائی کی، جس میں سابق پولیس افسر کی اہلیہ بھی گرفتار ہوئی، جو بچوں کے اغوا اور فروخت میں ملوث تھی۔ اسی طرح اس گینگ میں شامل ایک لیڈی ڈاکٹر گرفتاری سے بچنے کےلیے لندن فرار ہونے میں کامیاب ہوگئی۔ پولیس کے مطابق یہ گروہ ’سرکاری ہسپتالوں‘ اور میٹرنٹی ہومز سے نومولود بچوں کے اغوا اور انہیں پیسوں کے عوض فروخت کرنے میں ملوث تھا۔ جبکہ پولیس کی طرف سے بتایا گیا کہ سابق پولیس افسر نے اپنی اہلیہ کو بچانے کےلیے اپنا اثرورسوخ استعمال کرنے کی بھی کوشش کی لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہوا۔ اس واقعے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایسے واقعات میں اثرورسوخ رکھنے والے افراد کے ساتھ ہسپتال انتظامیہ اور ڈاکٹر وغیرہ بھی ملوث ہوتے ہیں۔

ایسے واقعات کی روک تھام انتہائی ضروری ہے۔ اگر ان واقعات کے خلاف بروقت کارروائی نہ کی گئی تو نہایت گمبھیر صورتحال پیدا ہوجائے گی۔ راولپنڈی کے ہسپتال میں بچے کی تبدیلی کے حالیہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائے۔ ہسپتال کے عملے سے سختی سے پوچھ گچھ کی جائے اور ذمے داروں کا تعین کرنے کے ساتھ اس بات کا بھی تعین کیا جائے کہ آیا یہ واقعی غلطی سے ہوا یا کوئی شیطانی گروہ اس میں ملوث تھا؟

اگر ہسپتالوں میں اس قسم کے واقعات پیش آتے رہے تو لوگ اپنے بچوں کو کہاں لے کر جائیں گے؟ گھر میں علاج تو ممکن نہیں ہے، لامحالہ انہیں ہسپتالوں کا ہی رخ کرنا پڑے گا۔ لیکن ہسپتالوں میں اگر ان کے بچے محفوظ نہیں ہوں گے تو عوام کیا کریں گے۔ والدین کےلیے بچوں کی جدائی ایک بہت بڑا صدمہ ہوتا ہے جسے برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ عوام میں تو پہلے ہی یہ بات مشہور ہے کہ ہسپتالوں میں بچوں کو غائب یا تبدیل کردیا جاتا ہے۔ اگر ایسے واقعات پیش آتے رہے تو جو لوگ اپنے بچوں کو ہسپتالوں میں لے کر جاتے ہیں وہ بچوں کی بیماری کے علاوہ اس بات سے بھی خوف زدہ رہیں گے کہ کہیں ان کے بچے کو غائب ہی نہ کردیا جائے۔ اس لیے جلد از جلد ذمے داروں کا تعین کرکے انہیں سخت سزا دی جائے اور ایسے واقعات کی روک تھام کےلیے موثر قانون سازی کی جائے، جس کے تحت ہسپتالوں میں بچوں کے وارڈز کی خصوصی نگرانی ہو تاکہ بچوں کی گمشدگی اور اغوا کے واقعات کی روک تھام ہوسکے اور عوام کو ہسپتالوں اور ڈاکٹروں پر اعتماد ہو اور وہ اطمینان کے ساتھ اپنے بچوں کا علاج کرا سکیں۔ (بشکریہ ایکسپریس نیوز)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں