215

کیا یہی اندازِ مسلمانی ہے؟

تحریر: خرم علی راؤ

کہیں کبھی پڑھا تھا اور بعد میں ثقہ اہل علم افراد سے سننے کا بھی اتفاق ہوا کہ ایک عام مسلمان اچھا انسان ہوتا ہے اور ایک اچھا مسلمان تو بہت اچھا انسان ہوتا ہے۔ بات تو صحیح ہوگی لیکن عملی طور پر وطن عزیز میں جو کچھ دیکھا اور برتا جارہا ہے وہ اس سے قطعاً مختلف ہے۔

ہم اخلاقی طور پر ایسے ہمہ گیر زوال اور بگاڑ کی دلدل میں پھنس چکے ہیں جو ہمیں اچھا خاصا نگل چکی ہے۔ کیا عوام کیا خواص، کیا علما کیا جہلا، کیا امیر کیا غریب، جسے دیکھیں وہ مذکورہ بالا قول کے الٹ ہی عمل کرتا نظر آرہا ہے، سوائےتھوڑی سی اقلیت کے۔ خاص طور پر دنیا میں پھوٹ پڑنے والی عالمی وبا کووڈ 19 یا کورونا وائرس کے گزشتہ مہینوں میں جو ہمارے اعمال ہیں جوکہ تاحال بھی اپنے تسلسل میں جاری و ساری ہیں، وہ کیسے عجیب، شرمناک بلکہ ہولناک ہیں، اس کی چند مثالیں پیش کرتا ہوں۔

حالیہ کورونا کی عالمی وبا سے دنیا بھر میں تہلکہ مچ گیا اور یورپ و امریکا جیسے ترقی یافتہ خطے تک لرز اٹھے ہیں۔ وہاں کی حکومتیں اور عوام اپنے اپنے طور پر بہترین دستیاب طریقے اور تجاویز پر عمل کرکے اس ہولناک خواب سے نکلنے کی کوشش کررہے ہیں اور اپنی اپنی زندگیوں کو معمول پر لانے کےلیے کوشاں ہیں۔ لیکن ہم مملکت خداداد اسلامیہ کے باشندوں کی اکثریت کیا کررہی ہے؟ ہم اس سارے بحران اور اس ساری صورتحال کو بیک وقت جھوٹ بھی سمجھ رہے ہیں اور سچ بھی۔ یعنی بری طرح سے الجھاؤ اور بے یقینی میں پھنسے گومگو کے عالم میں ہیں کہ پتہ نہیں یہ ساری بات سچ ہے یا جھوٹ؟ اور پھر مزید طرز اعمال ملاحظہ فرمائیں، جو ہماری بے حسی پر دلالت کرتا ہے کہ جب پتہ چلا اس وبا سے نمٹنے کےلیے ماسک ضروری ہیں تو راتوں رات ماسک کی قیمتوں کو جیسے پر لگ گئے اور ماسک ایک نایاب شے بن کر رہ گئے۔ بلیک میں بکنے لگے اور اب بھی ذرا مشکل ہی سے اس قیمت میں مل پاتے ہیں جو کہ ان کی معمول کی قیمت ہے۔
پھر کرونا کے حوالے سے ایک بات مشہور ہوئی اور اس بات سے قطع نظر کہ وہ کس قدر غلط یا صحیح ہے، لیکن جب یہ بات بھیلی کہ سنا مکھی، جو کہ ایک مشہور جڑی بوٹی ہے اور زمانوں سے طب مشرق میں نزلہ زکام اور دیگر کئی ادویات میں استعمال ہوتی آرہی ہے، وہ کورونا وائرس کے علاج کےلیے اکسیر ہے تو 200 روپے میں ملنے والی یہ جڑی بوٹی اب 1000 روپے میں بھی مشکل سے مل رہی ہے۔ پیاز سے علاج کی افواہ اڑی تھی تو یکایک پیاز کی قیمتوں کو پر لگ گئے تھے، جو کہ اب پھر واپس معمول پر آگئے ہیں۔ ایسی اور بھی کئی مثالیں ہیں جو پیش کی جاسکتی ہیں اور جو اب بھی افواہ سازی کے ذریعے سے قیمتوں میں بے جا اضافے کےلیے اور ناجائز منافع خوری کے لیے استعمال ہورہی ہیں، لیکن بات تکرار کی طرف چلی جائے گی۔ بس کہنے کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کے انداز تو ایسے نہیں ہوا کرتے تھے۔ یہ ہم کیسے مسلمان بن گئے ہیں؟

منافع کمانا تاجروں کا حق ہے لیکن کڑے وقت میں ضرورت کی چیز کو روک کر اور مصنوعی قلت پیدا کرکے اس کی زائد قیمت وصول کرنا، جسے ذخیرہ اندوزی کہا جاتا ہے، کتنا بڑا گناہ ہے، اس سے ہمارے تاجر بھائی یقیناً واقف تو ہوں گے کہ تجار کی اکثریت اچھا خاصا دینی علم رکھتی ہے اور ماشا اللہ ذوق عبادت بھی ان میں خوب پایا جاتا ہے لیکن نہ جانے معاملات میں، جوکہ دین کا بہت بڑا حصہ ہیں اور علما کہتے ہیں کہ دینی احکامات کا 17 فیصد حصہ عبادات اور ایمانیات پر مشتمل ہے اور بقایا 83 فیصد حصہ معاملات، معاشرت اور معیشت پر مشتمل ہے، ویسا دینی ذوق کیوں ذرا کم کم ہی نظر آتا ہے۔

یہ تو عوامی سطح کا ذکر تھا، اب ذرا خواص کی سطح پر آجائیے تو حکومت اگر آٹا سستا کرے تو آٹا غائب ہوجاتا ہے۔ ابھی حال ہی میں پٹرول سستا کیا گیا تو پٹرول کےلیے لمبی لمبی لائنیں پمپس پر لگی سب نے دیکھیں اور سستا کرنے کے اعلان کے ابتدائی تین دن تک پٹرول گویا غائب ہی ہوگیا تھا۔ چینی کی سبسڈی کا معاملہ کھلا، بڑی بڑی حقیقتیں بے نقاب ہوئیں اور کس طرح قانونی اور غیر قانونی، سرکاری اور غیر سرکاری طریقے سے خواص کی جانب سے سرکاری خزانے کو لوٹا جاتا ہے۔ اس حوالے سے نت نئے طریقوں کی نقاب کشائی ہوئی اور ہم سب کی معلومات میں بڑا اضافہ ہوا لیکن خواص کے اس میگا اسکینڈل کے بے نقاب ہونے کے باوجود عوام کے لیے چینی کی قیمت میں تاحال ایک روپے کی بھی رعایت نہیں مل سکی۔ اور ان تمام مذکورہ معاملات میں عوامی مفاد کو دیکھنے والے ادارے جن پر عوام کے ٹیکسوں سے بھاری اخراجات کیے جاتے ہیں، میٹھی نیند سوئے ہیں کہ کچھ کریں یا نہ کریں، سرکاری ملازمت ہے تنخواہ تو مل ہی جانی ہے۔

اب یہ تو اس بگاڑ کی صرف ایک جھلک ہے جو اس تحریرمیں دکھانے کی کوشش کی گئی ہے، ورنہ ہر ہر شعبہ زندگی میں ہم ہر ہر کام جیسے ملاوٹ، رشوت، اقربا پروری، میرٹ کا قتل عام، تعصب کا فروغ، بدعنوانی، خیانت اور بھی بہت کچھ بڑی دلیری سے سینہ تانے کرتے نظر آرہے ہیں، جن کے کرنے پر دین اور شریعت کی طرف سے انتباہات اور وعیدیں ہیں اور مزے کی بات یہ کہ ساتھ ساتھ حمیت اسلامی کے لمبے چوڑے دعوے بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔

اب آگے کیا ہوگا یہ تو خدا ہی بہتر جانتا ہے لیکن ہماری یہ منافقت اور دو رنگی لمحہ موجود تک تو ہمیں دنیا بھر کی نظر میں ایک بے اعتباری عطا کر ہی چکی ہے۔ ہمارے عمل بے روح ہیں، ہماری تقاریر و بیانات صرف لفاظی کے اعلیٰ مظاہرے اور ماضی کی روشن داستانوں کے تذکرے ہیں اور ہم اپنی اس روش سے ہٹنے کےلیے بظاہر تیار بھی نظر نہیں آتے۔ الا ماشااللہ۔

تو گویا وہ جو علامہ اقبال نے اپنی شہرۂ آفاق نظم ’جواب شکوہ‘ میں شعر کہا ہے ناں کہ

حیدری فقر ہے نہ دولت عثمانی ہے
تم مسلماں ہو یہ انداز مسلمانی ہے؟

تو ہم فی زمانہ اسی شعر کی اکثریت میں بحیثیت قوم عملی تفسیر کرتے نظر آرہے ہیں۔ (بشکریہ ایکسپریس نیوز)

خرم علی راؤ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں