278

کورونا کورونا، آلودگی کے بغیر جینا

تحریر:خطیب احمد

ارے کیا کورونا کورونا! یہ سن کر تو ہماری سماعتیں اضطراب کا شکار ہونے لگی ہیں۔ دل بے سکون، دماغ بدظن اور ذہنی دباؤ میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ نفسیاتی محاذ پر کئی چیلنجوں کا سامنا ہے جبکہ ان مسائل کا مقابلہ کرنے کےلیے اعصاب کا مضبوط ہونا بے حد ضروری ہے۔

چلیے، یہ سب چھوڑیئے۔ یہ تمام باتیں ایک طرف لیکن دوسری جانب اکثر طبی ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ اگر آپ ذہنی تناؤ کا شکار ہوجائیں تو اس سے بچ نکلنے کا ایک آزمودہ نسخہ یہ ہے کھلی فضا میں چہل قدمی کیجیے، کیونکہ یہ سبزہ دل و دماغ کو تسکین بخشتا ہے۔ لیکن پہلے تو کھلی فضا میں بھی آلودہ ہوا ہوتی تھی جس وجہ سے صاف ستھری ہوا بھی میسر نہیں ہوتی تھی۔ مگر جب سے عالمی سطح پر لاک ڈاؤن ہوا ہے تو آلودگی میں خاصی کمی ہوئی ہے۔ آلودگی میں کمی کی وجہ سے کراچی میں سورج کے گرد روشنی کا ہالہ بننے لگا ہے۔ یہ جب ہی بنتا ہے جب آلودگی میں کمی واقع ہوتی ہے۔ سورج کے گرد اس ہالے کو سائنسی اصطلاح میں Sun Halo کہتے ہیں۔ یہ تو شکر ہے کہ آلودگی میں کمی ہوئی، نہیں تو اس نے تو انسانوں سمیت چرند پرند سے بھی جینے کا حق چھین لیا تھا۔

البتہ قدرے حال ہی میں پرنسٹن یونیورسٹی میں جیو سائنسز اور عالمی امور کے پروفیسر مائیکل اوپن ہائمر نے بتایا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے مزید چار سال وائٹ میں ہونے کا مطلب ہوگا کہ دنیا کا اہم ملک عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی کے مسلے سے نمٹنے سے دور رہے گh جبکہ ماہرین بھی خبردار کرچکے ہیں کہ عالمی تباہ کن درجہ حرارت سے نمٹنے کے لیے 2020 ممکنہ طور پر بےحد اہم سال ہے جس میں انسانوں کو اس بارے میں منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔
ماحولیاتی تحفظ کی طرف جانے میں کئی رکاوٹیں ہیں جن میں امریکی انتخابات سے لےکر بریگزٹ تک شامل ہیں؛ جبکہ 2017 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کو دھچکا دیا تھا کہ امریکا تاریخ میں سب سے زیادہ کاربن خارج کرنے والا ملک ہے۔

خیر! یہ بات تو عالمی سطح کی بات تھی کہ کاربن کی مقدار فضا میں مزید بڑھتی جارہی ہے۔ مگر اہم بات یہ ہے کہ ہم اپنے ملک کی صورتحال دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ ہم نے زمین کے ساتھ نہروں، دریاؤں اور سمندر کو بھی آلوده کر دیا ہے۔ ساحل سمندر پر بھی اس قدر گندگی ہے کہ انسان کا جی ہی اکتا جائے۔ ہمارا بس چلے تو ہم ساحلی جنگلات کو بھی کاٹ دیں، مگر تیمر (مینگروو) کے ساحلی جنگلات کو کسی انسان کی دیکھ بھال کی ضروت نہیں۔ یہ سمندر کے نمکین پانی کو 99 فیصد اپنے لیے کارآمد بنا لیتے ہیں اور اپنا وجود قائم و دائم رکھتے ہیں۔

لیکن ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں یہ سمجھ میں نہیں آتا کے روئیں یا ہنسیں؟ جدید تحقیق سے کے مطابق اُن شاپنگ سینٹرز میں زیادہ خریداری ہوتی ہے جن کے آس پاس زیادہ سبزہ ہوتا ہے۔ دوسری جانب سرمایہ دار بھی بنجر زمینوں پر درخت لگا رہے ہیں اور سبزہ بڑھا کر ہاؤسنگ اسکیموں اور پلاٹوں کو منہ مانگی قیمتوں پر فروخت کر رہے ہیں۔

ہمارے ملک میں بالعموم اور صوبہ سندھ میں بالخصوص، سبزہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ سونے پہ سہاگہ کہ کورونا وائرس کی وجہ سے ذہنی دباؤ کم کرنے کےلیے گرد آلود ماحول میں چہل قدمی بیماریوں کو دعوت دے گی۔ لیکن اس کا نوکھا حل جاپان کے پاس ہے۔ وہ ”شن رِن“ نامی عمل سے ذہنی تسکین حاصل کرتے ہیں۔ اس عمل کو Forest Bathing یا ”جنگل میں غسل“ کہتے ہیں جبکہ باقاعدہ طور پر اس سے طبی فیض حاصل کرتے ہیں۔ اس میں لوگ جنگل کی تنہائی میں جاکر درختوں کے بیچ خاموشی سے مراقبے کی صورت میں بیٹھ جاتے ہیں۔ اس عمل سے بلڈ پریشر، کولیسٹرول، ڈپریشن، السر اور ذہنی دباؤ میں کمی آتی ہے، کیونکہ درختوں سے ’’فائٹون سائیڈ‘‘ نامی مرکبات کا اخراج ہوتا ہے جو صحت کےلیے مفید ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جاپانی حکومت نے تحقیق کے بعد اس عمل کو ملکی پالیسی برائے صحت کا حصہ بنالیا ہے۔ لیکن ہم اب بھی کسی ایک جگہ کے منتظر ہیں کہ کہیں تو سبزہ ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں