54

کورونا وبا؛ مزید 28 افراد جاں بحق، فعال کیسز کی تعداد 32 ہزار514 ہوگئی

اسلام آباد: ملک بھر میں کورونا وائرس سے ایک دن میں 28 افراد جاں بحق ہوگئے جب کہ ایک ہزار سے زائد مثبت کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 33 ہزار 319 کورونا ٹیسٹ کئے گئے، جس کے بعد مجموعی کووڈ 19 ٹیسٹس کی تعداد 81 لاکھ55 ہزار 766 ہوگئی ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں مزید ایک ہزار 286 مثبت کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، اس طرح پاکستان میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 5 لاکھ 53 ہزار 128 ہوگئی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک سندھ میں 2 لاکھ50 ہزار 043 ، پنجاب میں ایک لاکھ 60 ہزار 162، خیبر پختونخوا میں 68 ہزار 180، اسلام آباد میں 41 ہزار 819، بلوچستان میں 18 ہزار 849، آزاد کشمیر میں 9 ہزار 160 اور گلگت بلتستان میں 4 ہزار 915 افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ملک بھر میں کورونا کے فعال مریضوں کی تعداد32ہزار514 ہے۔ جب کہ ایک ہزار سے زائد مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کورونا سے مزید 28 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں جس کے بعد اب اس وبا سے جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد مجموعی طور پر 11 ہزار 914 ہوگئی ہے۔

این سی او سی کے مطابق کورونا سے ایک دن میں ایک ہزار 198 مریض صحت یاب ہوئے جس کے بعد صحت یاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 5 لاکھ 08 ہزار 700 ہوگئی ہے۔

کورونا وائرس کے خلاف یہ احتیاطی تدابیراختیارکرنے سے اس وبا کے خلاف جنگ جیتنا آسان ہوسکتا ہے۔ صبح کا کچھ وقت دھوپ میں گزارنا چاہیے، کمروں کو بند کرکے نہ بیٹھیں بلکہ دروازے کھڑکیاں کھول دیں اور ہلکی دھوپ کو کمروں میں آنے دیں۔ بند کمروں میں اے سی چلاکربیٹھنے کے بجائے پنکھے کی ہوا میں بیٹھیں۔

سورج کی شعاعوں میں موجود یو وی شعاعیں وائرس کی بیرونی ساخت پر ابھرے ہوئے ہوئے پروٹین کو متاثر کرتی ہیں اور وائرس کو کمزور کردیتی ہیں۔ درجہ حرارت یا گرمی کے زیادہ ہونے سے وائرس پرکوئی اثرنہیں ہوتا لیکن یو وی شعاعوں کے زیادہ پڑنے سے وائرس کمزور ہوجاتا ہے۔

پا نی گرم کرکے تھرماس میں رکھ لیں اورہرایک گھنٹے بعد آدھا کپ نیم گرم پانی نوش کریں۔ وائرس سب سے پہلے گلے میں انفیکشن کرتا ہے اوروہاں سے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتا ہے، گرم پانی کے استعمال سے وائرس گلے سے معدے میں چلا جاتا ہے، جہاں وائرس ناکارہ ہوجاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں