229

کورونا وائرس سےاب تک 45 اموات، مریضوں کی تعداد 3059 ہوگئی

لاہور: (جاگیرنیوز) پاکستان میں دن بدن کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اب تک پورے ملک میں وباء سے متاثرہ افراد کی تعداد 3059 ہو چکی ہے۔صوبہ پنجاب وباء سے سب سے زیادہ متاثر ہے جہاں 1319 کنفرم مریض مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ دیگر صوبوں کی بات کی جائے تو سندھ 881، خیبر پختونخوا 372، گلگت بلتستان 206، بلوچستان 189، اسلام آباد 78 جبکہ آزاد کشمیر میں 14 مریض کورونا میں مبتلا ہیں۔گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 179 نئے کیس رپورٹ ہوئے۔ اب تک اس وبا سے اموات کی تعداد 45 ہو چکی ہے۔ 18 مریضوں کی حالت تشویشناک جبکہ 170 مکمل صحتیاب ہو چکے ہیں۔
ترجمان پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر کے مطابق پنجاب میں کورونا وائرس کے 1319 کنفرم مریض ہیں۔ 537 عام شہریوں، 312 زائرین سنٹرز، 347 رائے ونڈ سے منسلک افراد اور 3 قیدیوں میں کورونا کی تصدیق ہو چکی ہے۔ڈی جی خان 213، ملتان 91، فیصل آباد 5، رائے ونڈ مرکز 303، منڈی بہاء الدین 3، سرگودھا 13، وہاڑی 13، راولپنڈی 6، ننکانہ 2، گجرات 5 اور رحیم یار خان کے دو شہریوں میں کورونا وائرس پایا گیا ہے۔ رائے ونڈ اجتماع میں شرکت کرنے والے 10263 تبلیغی ارکان کو قرنطینہ سینٹرز میں رکھا گیا ہے۔ صوبہ بھر کے 33 اضلاع میں تبلیغی ارکان کے لیے یہ سینٹرز بنائے گئے ہیں۔ پنجاب کے 26 اضلاع سے کورونا وائرس کے مریض رپورٹ ہو چکے ہیں۔ لاہور میں کورونا وائرس کے 220 کنفرم مریض ہیں۔ تمام کنفرم مریض آئسولیشن وارڈز میں داخل ہیں۔ مریضوں کو مکمل طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہے۔ترجمان پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیرنےعوام سے اپیل کی ہے کہ حفاظتی تدابیر اختیار کرکے خود کو محفوظ بنائیں۔ گزشتہ 14 روز میں متاثرہ ممالک سے آئے افراد گھر میں آئسولیشن اختیار کریں۔ متاثرہ ممالک سے آئے افراد میں آئسولیشن کے دوران علامات ظاہر ہوں تو 1033 پر رابطہ کریں۔

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سے صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے ملاقات کی۔ انہوں نے چینی ڈاکٹروں اور ماہرین کے کورونا وائرس سے بچاؤ اور علاج معالجے کیلئے اقدامات سے انھیں آگاہ کیا جبکہ کورونا وبا پر قابو پانے کے حوالے سے چینی ماڈل کے بارے میں بھی تفصیلی بریفنگ دی۔

وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے چین کے کامیاب ماڈل پر عملدرآمد کیلئے ضروری اقدامات اٹھانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وبا پر قابو پانے کیلئے چین کا لائن آف ایکشن بروقت اور انتہائی کامیاب رہا ہے۔ پنجاب حکومت چین کے ماڈل کو اپنا کر کورونا وبا پر قابو پانے کیلئے اقدامات کرے گی۔ مریضوں کے علاج معالجے کے حوالے سے بھی چینی ماڈل پر عمل کریں گے۔ کورونا وبا کا پھیلاؤ روکنے کے حوالے سے چین کے اقدامات کو اپنے ایس او پیز کا حصہ بنائیں گے۔ متاثرہ مریضوں کے علاج معالجے کیلئے بھی چینی ڈاکٹروں کے مشوروں کو اہمیت دیں گے۔

بلوچستان میں بھی کورونا وائرس کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مزید 3 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد متاثرہ افراد کی تعداد 189 ہو گئی ہے۔ 43 ٹیسٹ رپورٹس موصول ہوئے جن میں 3 مثبت اور 40 کے نتائج منفی آئے۔
ترجمان بلوچستان لیاقت شاہوانی کے مطابق مریضوں کو ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب بلوچستان میں اب تک 32 مریض مکمل صحتیابی کے بعد ہسپتال سے ڈسچارج کر دیے گئے ہیں۔
ملتان میں کورونا وائرس سے ایک شخص کے جاں بحق ہونے پر تغلق ٹاؤن کے علاقے کو سیل کر دیا گیا ہے۔ محکمہ صحت کے مطابق جاں بحق شخص کے رشتے دار میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ علاقے کو میٹرو پولیٹن کارپوریشن نے سیل کیا۔ علاقے میں سپرے کیساتھ ساتھ تمام افراد کی سکریننگ بھی کی جائے گی۔
محکمہ اوقاف پنجاب نے شب برات کے موقع پر گھروں میں عبادات کرنے کے حوالے سے مراسلہ جاری کر دیا ہے۔ ایڈیشنل چیف سیکریٹری محکمہ داخلہ پنجاب کو لکھے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ شہری کورونا وائرس کے باعث نماز تراویح اور شب برات کی عبادات گھروں میں ادا کریں۔ نماز پنجگانہ کی طرح نماز تراویح بھی 3 تا 5 کا عملہ مساجد میں ادا کر سکتا ہے۔ نماز تراویح کی ادائیگی بھی گھروں میں ادا کی جائیں۔وزیر اوقاف صاحبزادہ سید الحسن کی سربراہی میں علمائے اوقاف کے اجلاس میں یہ تجویز دی گئی تھی۔

سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ صوبے میں اب تک 123 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں جبکہ 743 افراد مہلک وائرس کے مرض میں مبتلا ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے جاری ویڈیو بیان میں کہا گیا ہے کہ 380 افراد گھروں میں آئسولیشن، 224 حکومتی آئسولیشن سینٹر میں زیر علاج جبکہ 139 افراد مختلف ہسپتالوں میں کورونا سے جنگ لڑ رہے ہیں۔ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس سے اب تک 15 افراد انتقال کر چکے ہیں۔ صوبے بھر میں 123 افراد صحتیاب ہوکر گھروں کو جا چکے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ عوام سے التجا ہے کہ وہ اپنے گھروں میں رہیں، اس مرض کا علاج صرف سماجی دوری ہے۔
جبکہ پاک بحریہ کی جانب سے ساحلی پٹی اور کریک ایریا سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں ہزاروں ضرورت مند خاندانوں میں راشن تقسیم کیا گیا۔ اس کے علاوہ کراچی میں مختلف اداروں کے کم آمدنی والے ملازمین کے ساتھ ساتھ نواحی جزیروں کے ماھی گیروں کو بھی راشن فراہم کیا گیا۔

دوسری جانب اسلام آباد کی کچی آبادیوں اور لاہور کی یونین کونسلز میں بھی راشن تقسیم کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں