249

کورونا وائرس: خود تفتان والوں پر کیا بیتی؟

تحریر:علی رضا رند

ہمسایہ ملک ایران میں کورونا وائرس کے کیسز کی تصدیق اور پھر وہاں سے ہزاروں پاکستانی شہریوں کی وطن واپسی کا سلسلہ شروع ہوا تو یہ بوجھ ضلع چاغی کے پندرہ ہزار آبادی پر مشتمل سرحدی قصبے تفتان کے کاندھوں پر ڈال دیا گیا۔ وہاں بنائے گئے قرنطینہ مراکز کی حالت زار اور متعلقہ مسائل پر تو بہت کچھ لکھا اور کہا گیا لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس دوران تفتان کے باسیوں اور اس کے انتظام و انصرام کی ذمہ دار انتظامیہ پر کیا بیتی۔ میں نے پیشہ ورانہ سرگرمیوں کی ادائیگی کےلیے حالیہ عرصے میں کچھ روز تفتان میں گزارے، اس دوران وہاں موجود سول و عسکری حکام اور مقامی شہریوں سے ملاقاتیں کرکے ان کی باتیں سننے کا موقع ملا۔ یقین کیجیے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے اس ہنگامی حالت سے نمٹنے کےلیے واضح پالیسی کا وضع نہ کرنا تمام تر مسائل اور مشکلات کی جڑ نظر آئی۔ مجھے وہاں پنجاب میں نام کمانے والے نورالامین مینگل جیسے سینئر بیوروکریٹ بھی بے بس اور در در کی خاک چھانتے نظر آئے جبکہ صحت ایمرجنسی کے باوجود محمکہ صحت کا کردار انتہائی محدود نظر آیا۔

جب ایران سے پاکستانی شہریوں کا ریلہ تفتان آیا تو چند درجن لیویز فورس، پی ڈی ایم اے اور فرنٹیئر کور کے اہلکار مطلوبہ حفاظتی سہولیات کے بغیر میدان عمل میں نکل آئے جس کی وجہ سے ایف سی کے 8 اور پی ڈی ایم اے کے دو اہلکار کورونا وائرس کا شکار بن گئے۔ چاغی کے ضلعی منتظم صحت ڈاکٹر عبدالغنی بلوچ نے بتایا کہ تفتان میں زائرین اور دیگر افراد کی اسکریننگ، طبی معائنہ اور ٹیسٹ کرنے والا طبی عملہ اور ڈاکٹرز کو مطلوبہ ماسک، سینیٹائزرز اور دیگر حفاظتی سامان تک نہیں دیا گیا جبکہ وہ خود اپنی گاڑی کے تیل اور مطلوبہ ادویہ کےلیے بارہا کوئٹہ میں متعین محکمہ صحت کے حکام کی منتیں کرکے ادھار اور ضلعی انتظامیہ کی معاونت پر گزارا کرتے آرہے ہیں۔

دوسری جانب انسانی وسائل اتنے کم پڑگئے کہ رخشان ڈویژن کے کمشنر ایاز مندوخیل اور چاغی کے ڈپٹی کمشنر آغا شیرزمان جیسے افسران کو بھی قرنطینہ مراکز میں قیام و طعام کےلیے مزدوروں کی طرح کام کرنا پڑا۔ لیویز فورس کے ایک افسر نے بتایا کہ ان سمیت تمام افسران ابتدائی دنوں میں ایک ہفتے تک دن رات اتنے مگن رہے کہ انہیں کئی راتوں تک سونے کا موقع نہیں ملا۔ اس تمام صورتحال کے دوران کئی افسر بیمار پڑ گئے لیکن انہوں نے کام جاری رکھا۔

تفتان پورے ملک کا وہ واحد علاقہ ہے جہاں لاک ڈاؤن سے قبل ہی لاک ڈاؤن شروع ہوگیا تھا۔ اس کی بنیادی وجہ 23 فروری کو پاک ایران سرحد کی بندش تھی۔ تفتان سمیت بلوچستان کے اکثر سرحدی علاقوں کی معیشت اور روزمرہ ضروریات کا دارومدار ایرانی سرحد سے وابستہ ہے کیونکہ سستے داموں ملنے والی پیٹرول، ڈیزل، ایل پی جی گیس اور اشیائے خور و نوش سمیت، تعمیراتی سامان بھی وہیں سے آتا ہے۔ تفتان سرحد کی بندش کے فوری بعد تفتان کے بازار اور مارکیٹیں بند ہوگئے۔ تفتان سرحد کی تجارتی راہداریوں پر کام کرنے والے کم از کم تین ہزار مزدور بے روزگار ہوگئے جبکہ مقامی تاجروں کا بھٹہ بھی بیٹھ گیا جس کی وجہ سے کئی خاندان وہاں سے دیگر شہروں کی طرف نقل مکانی کرگئے۔

اس کے علاوہ تفتان سے تعلق رکھنے والے ڈیڑھ سو افراد روزانہ اجرت پر قرنطینہ مراکز میں کام پر تو لگ گئے لیکن ان سمیت ان کے خاندانوں کےلیے کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے کوئی لائحہ عمل نہیں بنایا گیا۔ مقامی شہریوں نے بتایا کہ مذکورہ مزدوروں سمیت طبی عملے کے وہ مقامی اہلکار جو قرنطینہ مراکز اور آئسولیشن وارڈز میں خدمات انجام دیتے ہیں، وہ شام کو چھٹی کرکے سیدھے اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں جو ہرگز خطرات سے خالی نہیں۔

تفتان میں صحت کی سہولیات اور بنیادی ڈھانچے کی حالت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہاں صرف ایک بنیادی مرکز صحت وجود رکھتا ہے۔ جس وقت ایران سے پاکستانی شہریوں کا ریلہ تفتان پہنچا تو مقامی شہریوں کےلیے اس واحد بنیادی مرکز صحت کے دروازے بھی بند ہوگئے جبکہ مقامی انتظامیہ اپنے روزمرہ فرائض چھوڑ کر قرنطینہ مراکز کے معاملات میں مگن ہوگئی۔ اب تک کورونا وائرس سے بچاؤ کےلیے نہ مقامی لوگوں کی اسکریننگ کی اور نہ ہی ان کے ٹیسٹس لیے گئے جس کے سبب ان میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

تفتان کے مکین ہر فورم پر یہ شکوہ کرتے نظر آئے کہ ان کے علاقے میں مہلک وائرس پھیلنے کے خطرات کے باوجود کورونا وائرس سے ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے ہزاروں مشتبہ افراد کو رکھا گیا اور انہوں نے اس سلسلے میں کسی قسم کی مزاحمت کئے بغیر حکومت کا پورا ساتھ دیا لیکن حکومت کو ان کی مشکلات اور مسائل کا احساس نہیں۔ تفتان کے ناگفتہ بہ حالات حکومتی بے حسی کے عکاس ہیں۔ اس وقت اگر کسی علاقے کو احساس ایمرجنسی کی سب سے زیادہ ضروت ہے تو وہ شاید تفتان ہی ہے جسے ہر سطح پر بھلا دیا گیا ہے۔(بشکریہ ایکسپریس نیوز)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں