17

کورونا اتنی تیزی سے کیوں پھیلتا ہے، سائنسدانوں نے وجہ ڈھونڈ نکالی

لندن: کورونا وائرس نے دنیا کو یکسر تبدیل کرکے رکھ دیا ہے اس ننھے سے وائرس نے جہاں 11 لاکھ سے زائد انسانوں کی زندگیوں کے چراغ گل کردیئے وہیں کاروبار کا پہیہ بھی منجمد اور سماجی سرگرمیاں بھی صفر ہو کر رہ گئیں۔ وباء کے دوران سب سے بڑا سوال یہ اُٹھا کہ آخر یہ وائرس اتنا متعدی کیوں ہے جس کا سائنسدانوں نے جواب ڈھونڈ نکالا ہے۔

سائنسی جریدے جنرل سائنس میں شائع ہونے والی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ برطانیہ کی برسٹل یونیورسٹی کے محققین نے کورونا وائرس کے انسانی جسم میں داخل ہونے کے راستے کو دریافت کرلیا ہے۔ یہ ایک ریسیپٹر ہے جس کا نام نیوروویلین 1 ہے جس کے ذریعے وائرس انسانی جسم میں داخل ہوجاتا ہے اور اسے استعمال کرتے ہوئے جسم میں تیزی سے پھیل جاتا ہے۔

محققین نے اپنے مقالے میں انکشاف کیا کہ نئے کورونا وائرس کے اسپائیک پروٹین کے سیکونس کا تجزیہ کرنے کے بعد ہم نے ایسے امینو ایسڈز کے چھوٹے سیکونس کو دیکھا جو انسانی پروٹینز یعنی نیوروپلین 1 میں پائے جانے والے سیکونس کی نقل جیسا تھا۔ جس سے سوال اُٹھا کہ کیا اسپائیک پروٹین، نیوروپلین 1 سے مل کر انسانی خلیات میں اس بیماری کا باعث بنتا ہے۔

قبل ازیں ایک اور تحقیق میں یہ معلوم ہوچکا تھا کہ کورونا وائرس ’ایس 2‘ نامی ایک ریسیپٹر کے ذریعے انسانی خلیات کو جکڑنے کا کام کرتا ہے، انسانی خلیات کی سطح پر موجود اسپائیک پروٹین کووڈ 19 کے پہلے مرحلے کے دوران میزبان خلیے کو وائرس کا ہدف بناکر اس میں داخل ہونے میں مدد دیتا ہے اور وائرس تیزی سے اپنی نقول بنانا شروع کردیتا ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے اس تحقیق سے کورونا کی دوا بنانے والی کمپنیوں کو مدد مل سکے گی، ریسپٹر نیوروویلین 1 کے راستے میں رکاوٹ کھڑی کردی جائے تو وائرس ریسیپٹر تک نہیں پہنچ کر انسانی جسم میں داخل نہیں ہوسکے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں