172

کسٹمز محصولات کے لیے نئی کمپنی کے قیام کا فیصلہ

اسلام آباد: وفاقی حکومت کی تحت ایک نجی کمپنی کا قیام عمل میں لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کا مقصد عالمی تجارت کو کسٹمز کی سطح پر موثر طریقے سے نمٹانا ہے، یہ فیصلہ ایک ایسے موقع پر کیا گیا جب وفاقی حکومت کی جانب سے شدید معاشی بحران کے باعث اداروں کی نج کاری کا عمل بھی جاری ہے۔ پاکستان سنگل ونڈو کمپنی کے قیام کا مقصد وہ تمام امور سرانجام دینا ہے جو اس وقت فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے تحت کام کرنے والے ادارے پاکستان کسٹمز انجام دے رہا ہے، نئی تشکیل کردہ کمپنی کے بعد بھی ایسے تمام امور پاکستان کسٹمز ہی انجام دیتا رہے گا جیسا کہ وہ دیتا آرہا ہے تاہم اب اسے زیادہ مالیاتی آزادی اور فوائد حاصل ہوں گے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مالیات بدھ کے روز (آج) پاکستان سنگل ونڈو کمپنی 2020 بل کی منظوری دے گی تاکہ اسے آئینی حیثیت حاصل ہوسکے تاہم قانون کی منظوری سے قبل ہی ایف بی آر نے اس کمپنی کے اعلی انتظامی عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کرلی تھیں۔
اس کمپنی کے دفاتر کراچی اور اسلام آباد میں کرائے پر حاصل کرلیے گئے ہیں جبکہ پاکستان کسٹمز کے افسران کو ذرائع کے مطابق ایک لاکھ 75 ہزار روپے تک کا الاؤنس بھی ملنا شروع ہوگیا ہے جبکہ کام وہ وہی پرانا کررہے ہیں۔
نئی مجوزہ کمپنی جو پاکستان کسٹمز کو ایک موثر انفارمیشن ٹیکنالوجی کا پلیٹ فارم مہیا کرے گی، اس کا قیام ایک ایسے وقت میں لایا جارہا ہے جب حکومت کی جانب سے 67 ہزار سرکاری نوکریوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ معاشی بحران کے باعث اس سال سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بھی کوئی اضافہ نہیں کی گیا ہے۔
قائمہ کمیٹی میں پیش کیے گئے بل کے مطابق پاکستان سنگل ونڈو کمپنی کے قیام کا مقصد انفارمیشن اور مواصلات کی بنیاد پر ایسی سہولیات فراہم کرنا ہے کہ کوئی بھی شخص یا ادارہ جو تجارت کرنا چاہتا ہے وہ درآمدات یا برآمدات کی صورت میں درکار تمام کاغذات کو ایک ہی جگہ جمع کراسکتا ہے اور ایسا دوبارہ کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے زیادہ تر مور ایف بی آر اپنے سافٹ ویئر WeBOC کے ذریعے سرانجام دیتا آرہا ہے۔ اس تمام پیش رفت میں شامل ایک سرکاری اہکار نے بتایا کہ نئی کمپنی کا قیام عالمی بینک کی سفارش پر عمل میں لایا جارہا ہے جس کا مقصد تجارت میں آسانیاں پیدا کرنا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں