223

کروڑوں ڈالر فریٹ کمانے والی شپنگ کمپنیوں کا حکومتی احکام پر عمل سے انکار

کراچی: پاکستان سے کروڑوں ڈالر فریٹ کمانے والی شپنگ کمپنیوں نے کرونا وائرس کی وباکے باعث صنعت و تجارت کو پہنچنے والے بھاری نقصان کے باوجود حکومتی احکامات پر عمل درآمد سے انکار کردیا ہے۔
تاجروں کے وفاق ایف پی سی سی آئی نے حکومت پاکستان سے شپنگ کمپنیوں کے اس دہرے طرز عمل اور مشکل حالات میں پاکستان کی صنعت کو ریلیف نہ دینے کا نوٹس لیتے ہوئے حکومتی رٹ قائم کرنے کا مطالبہ کردیا۔
ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر خرم اعجاز کے مطابق ماڈل کسٹم کلیکٹریٹ کراچی نے 3اپریل کو شپنگ ایسوسی ایشن اور شپ ایجنٹس ایسوسی ایشن کو جاری کردہ مراسلے میں کرونا وائرس کی وبااور لاک ڈاؤن کے سبب بحرانی کیفیت کا شکار پاکستانی تاجروں اور صنعتوں کو ریلیف فراہم کرنے اور پانچ روز کی مہلت کے علاوہ مزید 25مارچ سے 16اپریل تک آنے والے کارگو پر ڈیٹینش وصول نہ کرنے ،کسی قسم کے تاخیری یا دیگر چارجز عائد نہ کرنے کی ہدایت کی تھی جو شپنگ کمپنیوں نے نہ صرف نظر انداز کردی بلکہ جوابی مراسلے میں درجن بھر مجبوریاں بیان کرتے ہوئے کسٹم کلیکٹریکٹ کے مذکورہ فیصلہ پر نظر ثانی کا مطالبہ بھی کردیا۔
شپنگ کمپنیوں نے کسٹم حکام کو جاری خط میں کرونا کی وباء سے شپنگ کمپنیوں کو درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے پاکستانی درآمد کنندگان کو کیس ٹو کیس کی بنیاد پر ریلیف دینے کا امکان ظاہر کیا ہے۔
خرم اعجاز نے بتایا کہ یہی شپنگ ایجنسیاں بھارت کی امور جہاز رانی و بندرگاہ کی وزارت کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے پر عمل کررہی ہیں جس میں تمام شپنگ کمپنیوں کو بھارت میں لاک ڈاؤن کے دورانیے 22مارچ سے 14اپریل کے دوران آنے والے کنسائمنٹ پر کسی بھی قسم کے ڈیٹینشن چارجز وصول نہ کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔
ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر کے مطابق پاکستان کے مقابلے میں بھارت میں شپنگ کمپنیوں کا حجم بہت زیادہ ہے اس کے باوجود یہی شپنگ کمپنیاں بھارت کے درآمد کنندگان کو رعایت دے رہی ہیں اور بھارتی قوانین پر عمل درآمد کررہی ہیں،یہی شپنگ کمپنیاں پاکستان میں صنعت و درآمدکنندگان کو ریلیف دینے کے لیے حکومتی احکام پر عمل درآمد میں بہانے تراش رہی ہیں۔

خرم اعجاز کے مطابق اس وقت کراچی کی بندرگاہوں پر کارگو میں نمایاں کمی کا سامنا ہے شپنگ کمپنیوں کے کنٹینرز یارڈ خالی کنٹینروں سے بھرے پڑے ہیں کسی قسم کی خالی کنٹینرز کی قلت نہیں کیونکہ دنیا بھر میں تجارت کا پہیہ رکا ہوا ہے، بندرگاہوں پر زیادہ تر چھوٹے کاروباری طبقے اور ایس ایم ایز کا درآمدی مال پڑا ہوا ہے جنھیں کرونا کی وباکی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے اور ڈیٹینشن عائد کیے جانے کی صورت میں ان درآمد کنندگان اور چھوٹی صنعتوں کی درآمدی لاگت کئی گنا بڑھ جائے گی اور نتیجہ صنعتوں کی بندش کی شکل میں سامنے آئے گا

خرم اعجاز نے حکومت پاکستان سے اپیل کی ہے کہ شپنگ کمپنیوں کی جانب سے ریاست کے اندر ریاست بنانے کے اس طرز عمل کا نوٹس لیتے ہوئے حکومتی احکام پر عمل درآمد کا پابند بنایا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں