65

کراچی کا نیا ضلع بنانے پر سیاسی جماعتیں سندھ حکومت پر پھٹ پڑیں

کراچی: سربراہ پاک سر زمین پارٹی سید مصطفیٰ کمال نے سندھ کابینہ کے کراچی میں ساتواں ضلع بنانے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کل دوپہر تین بجے کراچی پریس کلب پر احتجاجی مظاہرہ کرنے کا اعلان کردیا اور کہا کہ پیپلزپارٹی صوبہ سندھ کے اپنے ہاتھوں سے ٹکڑے کر رہی ہے۔ پاکستان ہاؤس میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مصطفی کمال نے کہا کہ سندھ میں نفرت کی وہ شمع جلائی جارہی ہے جس کو شاید کبھی بجھایا نہیں جاسکے گا،یہ ملک کی سلامتی کا مسئلہ ہے، سندھ میں نسلی بنیادوں پر ہم نے تباہی اور بربادی ہوتے دیکھی ہے، مجھے ڈر ہے کہ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کراچی کو نفرت کی آگ میں دھکیلنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں لاکھوں کی تعداد میں مہاجر رہتے ہیں، ہم نے سب کو آپس میں جوڑا ہے، ہم نے بند کمروں کی سیاست نہیں کی ہے، ہمیشہ کہا ہے کہ یہ سندھی ہمارے بھائی ہیں کراچی کے چھ ضلعوں کو ختم کیا جائے، کراچی میٹروپولیٹن سٹی کو بحال کیا جائے پی ایس پی کل کراچی پریس کلب پر بھرپور عوامی طاقت کا مظاہرہ کرے گی۔ امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کراچی میں ضلع (کیماڑی) کے قیام اور اضلاع کی تعداد میں اضافے پر اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ ایک اور ضلع کے اضافے کا کراچی کی تعمیر و ترقی سے کوئی تعلق نہیں ہے،جب بھی بلدیاتی انتخابات آتے ہیں پیپلز پارٹی اسی طرح کے گیم کرتی ہے جس کے پیچھے صرف پوائنٹ اسکورنگ اور مفادات کا حصول ہوتا ہے،اگر کراچی کی تقسیم کا کوئی فائدہ ہورہا ہوتا تو پہلے سے 6اضلاع موجود ہیں ان کو 7کردینے سے کیا فرق پڑے گا۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ اصل بات کراچی کی تعمیر وترقی کے لیے نیت اور خواہش کا ہونا ہے ورنہ پیپلز پارٹی تو ایک طویل عرصے سے سندھ پر حکمران ہے اور کراچی آج جس بدحالی کا شکار ہے یہ سنگین صورتحال پہلے نہیں تھی، آج ملک کا سب سے بڑا شہر جن مسائل اور حالات سے دوچار ہے یہ سندھ پر حکمران رہنے والوں اور اس حکمرانی میں شریک رہنے والوں کی وجہ سے ہی ہے۔
مہاجر قومی موومنٹ (پاکستان) کے چیئرمین آفاق احمد نے کراچی میں نئے ضلع کے قیام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کو ٹکڑوں میں تقسیم کرکے اسے وڈیروں کی کالونی بنانے کی کوشش کی جارہی ہے جسے ناکام بنانے کیلیے مہاجر عوام کو کھڑا ہونا پڑے گا۔
اپنے بیان میں آفاق احمد نے کہا کہ پیپلز پارٹی کراچی کی اسٹیک ہولڈر نہیں ہے اس لیے اسے اس بات کا کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ آمرانہ فیصلے یہاں کی عوام پر مسلط کرے، کراچی کی قسمت کا فیصلہ یہاں کے اسٹیک ہولڈر ہی کرسکتے ہیں اور اسٹیک ہولڈر ہونے کے ناطے ہم شہر کو ٹکڑے کرنے کا فیصلہ مسترد کرتے ہیں۔ آفاق احمد نے کہا کہ بلدیاتی مدت کے اختتام پر کیماڑی ضلع کے قیام کی کوشش دراصل بلدیاتی نظام ہائی جیک کرنے کی سازش ہے ۔جو اس سے قبل ضلع شرقی کے ٹکڑے کرکے ملیر ضلع بنا کر رچائی جاچکی ہے جس کا خمیازہ آج تک ملیر کے شہری علاقے بھگت رہے ہیں۔ آفاق احمد نے کہا کہ کراچی کی ضرورت کیماڑی ضلع نہیں جنوبی سندھ صوبہ ہے، جنوبی سندھ صوبے کی مخالفت میں اچھل کود کرنے والوں کی جانب سے کراچی کو سات ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کوشش اس متعصبانہ و منافقانہ رویوں کا اظہار ہے جو سندھ کی حکمراں جماعت کا وطیرہ رہا ہے۔ کنو ینر ایم کیو ایم پاکستان ڈاکٹر خالد مقبو ل صدیقی نے کہا کہ جب ایم کیو ایم پاکستان انتہا ئی نامساعد حالات سے تو میئر کر اچی نے جیل سے آکر عہد ہ کا حلف اٹھا یا اور دوبا رہ جیل چلے گئے ایم کیو ایم پاکستان کا نا م صفحہ ہستی سے مٹا نے کی باتیں کی جانے لگی اس کام کیلیے پوری ریاستی طاقت لگادی گئی، اس کے با وجو د آپ لو گو ں کی یہا ں مو جو دگی اس کی با ت کا ثبو ت ہے کہ ایم کیو ایم مشکلا ت کے پہاڑ عبور کر نے کی صلا حیت رکھتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے پی آئی بی اسٹیڈیم میں بلد یا تی نما ئندوں کے اعزاز میں دیے گئے الوادعی عشائیہ سے خطاب کر تے ہو ئے کیا۔ خالد مقبول نے کہا کہ پاکستان پیپلز پا رٹی نے آج سے 50بر س پہلے ہی سندھ کو تقسیم کر دیا تھا جب یہ نعرہ لگا یا گیا کہ ادھر تم ادھر ہم کہہ کر پاکستان کو دولخت کر دیا گیا ہم ہندوستان سے اس لیے واپس آئے کہ ہند و مسلمان ساتھ نہیں رہے سکتے تھے اور ہمیں ایک آپشن دیا گیا تھا جس کو منتخب کر کے ہم پاکستان آئے اس طرح گز شتہ 50سالوں کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ ہم یہا ں بھی آپ کے ساتھ نہیں رہ سکتے اور ہم اپنا صوبہ بنائیں گے اگر آج جو لو گ سندھ کی تقسیم کیخلاف ہیں اور صوبہ کیخلا ف ہیں وہ اصل میں غدار ہیں کیا صوبوں کے قیام کی شق آئین میں نہیں ہے؟ رضا ربانی کے استدال کا جو اب دیتے ہو ئے خالد مقبو ل صدیقی نے کہا کہ آپ جا گیر دارنہ جمہو ریت کو جمہو ریت سمجھتے ہیں ہم نہیں سمجھتے آپ مو رثی جمہو ریت کو جمہو ریت سمجھتے ہے ہم نہیں سمجھتے آپ خا ند انی جمہو ریت کے آگے سر جھکائے ہو ئے ہیں ہم نہیں جھکاتے۔ سینئر ڈپٹی کنوینر ایم کیو ایم پاکستان عامر خان نے کہا کہ آج جو بلد یا تی نما ئند ے اپنی مد ت پو ری کر رہے ہیں یہ انتہا ئی آپر یشن کے حا لا ت میں منتخب ہو ئے اس کے با وجو د ان کے پاس نہ تو اختیارات تھے نہ وسائل اور اس کے با وجو د بھی عوام کے طنز اور طعنے سنے پھر بھی ثا بت قدم رہے اور ایم کیو ایم کے نظریہ کے ساتھ جڑے رہے ،پیپلز پا رٹی کر اچی سے انتقام لے رہی ہے جسطرح بھارت میں مسلما نو ں کے ساتھ رویہ رکھا گیا ہے،اسی طر ح ہمیں بھی تیسرے درجے کا شہر ی سمجھا جا تا ہے۔ عامرخان نے مز ید کہا کہ ہم انکی اولا دیں ہے جنہوں نے جواہر لا ل نہرو اور ما وئنٹ بیٹن کے منہ سے پاکستان چھینا تھا تو یہ کیا حیثیت رکھتے ہے ہم صوبہ بنا کر دکھائیں گے،میئر کر اچی وسیم اختر نے اجتما ع سے سوال کیا کہ کر اچی کے مسئلہ کا حل کیا ہے تو جواب آیا صرف اور صرف ایک علیحدہ صوبہ۔ وسیم اختر نے مز ید کہا کہ پاکستان پیپلز پا رٹی کی حکو مت نے کر اچی کوپو لیس اسٹیٹ بنا رکھا ہے اور ہم محرم کے بعد عوام سے رائے لینگے کہ کر اچی کے مسائل کا کیا حل ہے۔ رکن رابطہ کمیٹی وپا رلیما نی لیڈر ضلع کونسل اسلم آفرید نے کہا کہ میں ایم کیو ایم پاکستان کا شکر گزار ہو ں کے اس نے ایک پختون کو نا صرف منتخب کرا یا بلکہ ضلع کو نسل میں ایم کیو ایم کا پا رلیمانی لیڈ ر بنا یا ۔ سربراہ تنظیم (ایم کیو ایم پاکستان) بحالی کمیٹی ڈاکٹر فاروق ستار نے اراکین تنظیم (ایم کیو ایم پاکستان) بحالی کمیٹی کے ہمراہ کراچی پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس کی اور خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کی ہنگامی پریس کانفرنس کے مقصد سے یقینا” آپ سب آگاہ ہو چکے ہوں گے، آج وزیر اعلی’ سندھ سید مراد علی شاہ کی سربراہی میں سندھ کابینہ نے کراچی کی مزید تقسیم کا فیصلہ کیا ہے.ہم اپنے تمام ساتھیوں اور کراچی کی عوام کی جانب سے اس فیصلے کو نا منظور کرتے ہیں۔
فاروق ستار نے مزید کہا کہ اس متعصبانہ اور کراچی دشمنی پر مبنی عمل کی مذمت اور اسے مسترد کرتے ہیں، حکومت کی جانب سے کراچی کی ایک اور تقسیم کیماری کو ضلع بنانے کا فیصلہ نامنظور کرتے ہیں ہم اس متعصابہ اور کراچی دشمنی پرمبنی فیصلے کومسترد کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں