200

ڈرامہ انڈسٹری کوگھسی پٹی کہانیاں دکھانے پرپھانسی دے دینی چاہیئے، نعمان اعجاز

کراچی: اداکارنعمان اعجازکا کہنا ہے کہ انڈسٹری کو جاگنے کی ضرورت ہے آخرکب تک ایسے گھسے پٹے موضوعات پرکہانیاں بنتی رہیں گی۔ پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کے اداکارنعمان اعجازنے انسٹاگرام کے لائیوسیشن کے دوران کہا کہ اگرآج کے دورکے ڈراموں پر نگاہ ڈالی جائے تو ڈرامے کے کردارلاؤنج سے ڈرائیگ روم، ڈرائینگ روم سے کچن اورکچن سے بیڈروم تک ہی جاتے ہیں، وہ لوگ باہرتو کیا کھڑکی سے بھی جھانکنا نہیں جانتے ہیں، آخرکب تک ایسے گھسے بٹے موضوعات پر کہانیاں بنتی رہیں گی۔ انعمان اعجاز نے ڈرامہ نشر کرنے والے نجی ٹی وی چینلز سے متعلق کہا کہ سب ہی چینلزایک طرح کے ڈرامہ دکھارہے ہیں جب کہ پہلے کے ڈراموں میں چاروں صوبوں کی ثقافت، روایتوں، رسم ورواج کو عکسبند کیا جاتا تھا.آپ ان ڈراموں کو دیکھ کر بہت سی نئی معلومات بھی حاصل کیا کرتے تھے۔ اداکارنے غصے کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ آج کے ڈراموں میں یہ دکھایا جارہا ہے ایک خاتون کسی اور کے شوہرکوپسند کرتی ہے لیکن شادی کسی اورسے کرتی ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ ایک دوسرے سے یا ایک دوسرے کے لیے بدلہ لیتے دیکھ کرہی ڈراموں کا اختتام ہوجاتا ہے۔ نعمان اعجازنے کہا کہ اصل ڈرامے ختم ہی ہوگئے ہیں، انڈسٹری کو جاگنے کی ضرورت ہے، یہاں ہم کسی بھی ایک چینل کوذمہ دار نہیں ٹہراسکتے ہیں، ہم جتنی منفی چیزیں اپنی عوام کو دکھائیں گے وہ اپنی زندگیوں میں وہی کریں گے۔ میری ذاتی رائے ہے کہ ہمارے میڈیا کو پھانسی دے دینی چاہیئے کیونکہ آج کے ڈرامے کسی کو نہ ہی کوئی آگاہی دے رہے ہیں اورنہ ہی کوئی نئی معلومات، ایسا تصور کیا جاتا ہے عوام کچھ نہیں جانتی جب کہ اب عوام سب کچھ جانتی ہے اور ڈرامہ انڈسٹری اپنی جگہ رک گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں