ہانگیر ترین نے سبسڈی کی مدد میں 56 کروڑ روپے کمائے، تحقیقاتی رپورٹ۔ فوٹو:فائل 227

چینی بحران کی رپورٹ وزیراعظم کو پیش، جہانگیر ترین،وفاقی وزیرخسروبختیارملوث

اسلام آباد: چینی بحران پر تحقیقاتی رپورٹ مکمل ہوگئی بحران میں سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والوں میں جہانگیر ترین کا نام سامنے آنے انکشاف ہوا ہے۔ جاگیرنیوز کے مطابق ملک میں چینی کے بحران پر وزیراعظم عمران خان کی جانب سے قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ منظرعام پر آگئی، ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیاء کی سربراہی میں قائم تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے تیار کردہ رپورٹ میں میں کئی نامور سیاسی خاندانوں کے نام شامل ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چینی کے بحران میں سب سے زیادہ فائدہ حکومتی جماعت تحریک انصاف کے سینئر رہنما جہانگیر ترین نے اٹھایا، اور انہوں نے سبسڈی کی مدد میں 56 کروڑ روپے کمائے جب کہ وفاقی وزیر خسرو بختیار کے رشتہ دار نے آٹا و چینی بحران سے 45 کروڑ روپے کمائے، چوہدری منیر رحیم یارخان ملز، اتحاد ملز ٹو اسٹار انڈسٹری گروپ میں حصہ دار ہیں، اس بحران میں مسلم لیگ (ن) کے سابق ایم پی اے غلام دستگیر لک کی ملز کو 14 کروڑ کا فائدہ پہنچا۔رپورٹ کے مطابق چینی کی برآمد سے ملک میں قیمتوں میں اضافہ ہوا، چینی برآمد کرنے کا فیصلہ درست نہیں تھا، چینی برآمد کرنے والوں نے دو طرح سے پیسے بنائے، چینی پر سبسڈی کی مد میں رقم بھی وصول کی اور قیمت بڑھنے کا بھی فائدہ اٹھایا گیا۔رپورٹ کے مطابق شوگر ایڈوائزری بورڈ وقت پر فیصلے کرنے میں ناکام رہا، دسمبر 2018ء سے جون 2019ء تک چینی کی قیمت میں 16 روپے فی کلو اضافہ ہوا، اس عرصے کے دوران کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ اسٹاک اور ضرورت تقریبآ برابر ہے، تھوڑا سا فرق ذخیرہ اندوزوں کو قیمتیں بڑھانے کا موقع فراہم کرے گا، حکومت اس معمولی فرق کوبھی ختم کرنے کے لیے چینی درآمد کرنے کی اجازت دے۔ دوسری جانب جہانگیر ترین نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق میں نے 12 فیصد چینی ایکسپورٹ کی جبکہ میرا مارکیٹ شیئر 20 فیصد ہے، رپورٹ میں واضح ہے کہ میں نے اپنے حصے سے بھی کم چینی ایکسپورٹ کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں