286

پاکستان کے ٹیکس ریونیو میں 895 ارب کی کمی کا خدشہ ہے، آئی ایم ایف پاکستان کے ٹیکس ریونیو میں 895 ارب کی کمی کا خدشہ ہے، آئی ایم ایفشیئرٹویٹ ارشاد انصاری اتوار 19 اپريل 2020 شیئرٹویٹشیئرای میلتبصرے مزید شیئر کورونا وائرس کے سبب معیشت پر مرتب ہونے والے اثرات کے باعث خسارے میں اضافہ اور آمدنی میں کمی واقع ہوگی (فوٹو : انٹرنیٹ) کورونا وائرس کے سبب معیشت پر مرتب ہونے والے اثرات کے باعث خسارے میں اضافہ اور آمدنی میں کمی واقع ہوگی (فوٹو : انٹرنیٹ) اسلام آباد: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال سے پاکستان کے ٹیکس ریونیو میں 895 ارب روپے کمی کا خدشہ ہے۔ آئی ایم ایف کی طرف سے پاکستانی معیشت کے بارے میں جاری کردہ جامع رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال سے معیشت پر مرتب ہونے والے اثرات کے باعث خسارے میں اضافہ ہوگا اور آمدنی میں کمی واقع ہوگی۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 50 کی دہائی کے بعد پہلی مرتبہ شرح نمو منفی رہنے کے خدشات کا اظہار کیا گیا ہےآئی ایم ایف رپورٹ کے مطابق رواں برس 16 ارب 83 کروڑ ڈالر جبکہ آئندہ مالی سال 13 ارب 86 کروڑ ڈالر کی بیرونی ادائیگیاں شیڈولڈ ہیں، پاکستان کو دوست ممالک کے 7 ارب 90 کروڑ ڈالر واپس کرنے ہیں، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین سے پاکستان کو قرضوں میں ریلیف ملنے کا امکان ہے۔ پاکستان نے چین کو 3 ارب 48 کروڑ، سعودی عرب کو ڈھائی ارب ڈالر اور متحدہ عرب امارات کو ایک ارب ڈالر کا قرض واپس کرنا ہے، آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کے بعد پاکستان کے ترقیاتی کاموں کے اخراجات متاثر ہوں گے۔ عالمی مالیاتی ادارے کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن سے متاثرہ طبقوں کے لیے ریلیف احسن اقدام ہے اور کاروباری طبقے کے لیے قرضوں کی واپسی موخر کرنا بھی خوش آئند ہے۔

اسلام آباد: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال سے پاکستان کے ٹیکس ریونیو میں 895 ارب روپے کمی کا خدشہ ہے۔

آئی ایم ایف کی طرف سے پاکستانی معیشت کے بارے میں جاری کردہ جامع رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال سے معیشت پر مرتب ہونے والے اثرات کے باعث خسارے میں اضافہ ہوگا اور آمدنی میں کمی واقع ہوگی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 50 کی دہائی کے بعد پہلی مرتبہ شرح نمو منفی رہنے کے خدشات کا اظہار کیا گیا ہےآئی ایم ایف رپورٹ کے مطابق رواں برس 16 ارب 83 کروڑ ڈالر جبکہ آئندہ مالی سال 13 ارب 86 کروڑ ڈالر کی بیرونی ادائیگیاں شیڈولڈ ہیں، پاکستان کو دوست ممالک کے 7 ارب 90 کروڑ ڈالر واپس کرنے ہیں، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین سے پاکستان کو قرضوں میں ریلیف ملنے کا امکان ہے۔
پاکستان نے چین کو 3 ارب 48 کروڑ، سعودی عرب کو ڈھائی ارب ڈالر اور متحدہ عرب امارات کو ایک ارب ڈالر کا قرض واپس کرنا ہے، آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کے بعد پاکستان کے ترقیاتی کاموں کے اخراجات متاثر ہوں گے۔

عالمی مالیاتی ادارے کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن سے متاثرہ طبقوں کے لیے ریلیف احسن اقدام ہے اور کاروباری طبقے کے لیے قرضوں کی واپسی موخر کرنا بھی خوش آئند ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں