91

پاکستان کرکٹ بورڈ پلیئرز کے اثاثوں کی تفصیلات جاننے کا خواہاں

کراچی: پی سی بی سینٹرل کنٹریکٹ یافتہ کرکٹرز کے اثاثوں کی تفصیلات حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں سیکیورٹی اینڈ اینٹی کرپشن یونٹ کے ڈائریکٹر لیفٹننٹ کرنل (ریٹائرڈ) آصف محمود نے کہا کہ میری کوشش ہے کہ سینٹرل کنٹریکٹ کے حامل کرکٹرز کے اثاثوں کے بارے میں بھی تفصیلات ہمیں معلوم ہونی چاہئیں تاکہ ذرائع آمدنی کے بارے میں مکمل پتہ ہو۔

انھوں نے کہا کہ کرکٹ میں کرپشن کی روک تھام کیلیے قانون قومی اسمبلی میں منظور ہو چکا اوراب اسے سینیٹ میں پیش کیا جانا ہے، اس کے نفاذ سے کرکٹ میں بدعنوانی ختم کرنے میں بہت مدد ملے گی،کرپٹ افراد کو پتہ ہو گا کہ وہ جیل بھی جا سکتے ہیں اور جائیدادیں بھی ضبط ہو جائیں گی۔
آصف محمود نے کہا کہ کرکٹرز کو سوشل میڈیا، موبائل اور لیپ ٹاپ کے بارے میں بھی آگاہ کیا جاتا ہے، انھیں ہم بتاتے ہیں کہ وہ یہ نہ سمجھیں کہ نگرانی نہیں کی جا رہی ہے، لوگ اکثر یہ بات کرتے ہیں کہ اگر کسی کھلاڑی کے بارے میں شک ہے تو اسے پہلے کیوں پکڑا نہیں جاتا، جب وہ جرم کر لیں تب کیوں گرفت میں لیے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ آپ کے پاس مانیٹرنگ کے لیے کیا وسائل دستیاب ہیں؟ کیا آپ کا قانون کسی کا فون مانیٹر کرنے کی اجازت دیتا ہے؟ اس کے لیے آپ کو جج کی اجازت درکار ہو گی، جب یہ قانون نافذ ہو جائے گا تو اس سلسلے میں ایف آئی اے سے بھی مدد لی جائے گی۔

آصف محمود نے کہا کہ یا تو کوئی نیا کھلاڑی کرکٹ کرپشن میں ملوث ہوتا ہے جسے ان باتوں کا پتہ نہیں ہوتا یا پھر وہ کرکٹر جس کا کیریئر ختم ہو رہا ہو، جسے اپنے کیریئر کا خیال ہوتا ہے وہ کسی بھی مشکوک رابطے کی فورا اطلاع کر دیتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہم کھلاڑیوں کو لیکچرز کے ذریعے آگاہ کرتے ہیں کہ کن طریقوں سے ٹریپ کیا جا سکتا ہے،انھیں ہنی ٹریپ، اسٹنگ آپریشن اور ان تمام ان باتوں سے آگاہ کیا جاتا ہے جو مشکوک افراد اور بکیز استعمال کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں