88

پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل اورگرین سسٹم پاکستان کے مابین معاہدے پر دستخط

پی اے آر سی اور گرین سسٹم پاکستان روایتی زراعت کو جدید صنعتی زراعت میں تبدیل کرنے پر کام کریں گے
محصول کے وصول کیلئے ، گرین سسٹم مصنوعات کی مارکیٹنگ کا ذمہ دار ہو گااور برآمدات کے انتظامات بھی کریگا
اسلام آباد(جاگیرنیوز) پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل اورگرین سسٹم پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ کے مابین مفاہمتی یاداشت پر دستخط کئے گئے ہیں۔ پی اے آر سی کی جانب سے پی اے آر سی پیٹکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، ڈاکٹر محمد امجدجبکہ گرین سسٹم پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈکی جانب سے چیف ایگزیکٹو آفیسر، رانا تہاوڑ علی خان نے دستخط کئے ۔ ڈاکٹر محمد امجد ،چیف ایگزیکٹو ، پیٹکو نے اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ قدم تجارتی سائنس پر مبنی زراعت کے حل کے ذریعے ملک کے جی ڈی پی کو فروغ دینے کے لئے اٹھایا گیا ہے۔ اس معاہد ہ کی رو سے پی اے آر سی ، گرین سسٹم پاکستان کے ساتھ سلنڈر، نامیاتی کھاد، کنٹرول شدہ ڈیری فارمنگ، ہائیڈروپونک چارے کی پیداوار کی مختلف رینج، دودھ کی پیداوار اور پراسیسنگ، گھاس کی کچھ اقسام کو خشک کرنے کی صلاحیت ، مکئی کی ذخیر کاری ، حلال گوشت کی پیداواراور پراسیسنگ، پھلوں اور سبزیوں کی پراسیسنگ اور برآمدگی، قابل تجدید بجلی کی پیداوار نیز دوائوں کے پودوں اور ٹشو کلچر میں تحقیق و ترقی جیسے کاموں پر باہم ملکر کام کریں گے۔ اس موقع پر چیف ایگزیکٹو آفیسر، گرین سسٹم پاکستان رانا تہاوڑ علی خان نے بتایا کہ اس معاہدہ کے تحت پی اے آرسی کے ریسرچ اسٹیشنز پر ٹشو کلچر ، شہد کی لیبارٹریوں کا قیام، ڈیری مصنوعات کے لئے پراسیسنگ مشینری کی تنصیب ، نامیاتی کھادوں کے پلانٹ اور منرل واٹر کے پلانٹ لگائے جائیں گے۔ محصول کے وصول کے لئے ، گرین سسٹم پاکستان تمام مصنوعات کی مارکیٹنگ کا ذمہ دار ہو گااور ان کی برآمدات کے انتظامات بھی کرے گا۔ ڈاکٹر محمد عظیم خان، چیئر مین پی ے آر سی نے دونوں فریقین کے مابین مفاہمتی یاداشت پر دستخط کرتے ہوئے کہا کہ زراعت میں ایسے بہت سے شعبہ جات ہیں جن سے ملکی معیشت کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ یہ بڑے پیمانے پر زرعی انجنیئرنگ کے حل فراہم کرے گا۔ مزیدیہ کہ پاکستان میں پیٹکو کی جانب سے تیار کی جانے والی مصنوعات کو ملکی منڈیوں سمیت غیر ملکی منڈیوں خصوصا مشرق وسطی میں بر آمد معیشت کو فروغ دیا جائے گا ۔ غیر ملکی منڈیوں میں گرین سسٹم پاکستان کے ذریعہ یہ مصنوعات برآمد کی جائیں گی۔ یہ تعاون یقینی طور پر پاکستان کی معیشت میں مثبت تبدیلیاں لا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ مفاہمتی یاداشت پی اے آرسی سسٹم کی ریسرچ پر مبنی مصنوعات کو مارکیٹ کرنے کا ذریعہ ثابت ہو گانیز ان مصنوعات کو سرٹیفکیشن لیب قائم کر کے تصدیق کی جائے گی اور پی اے آرسی سسٹم کے ذریعے کوالٹی اشورینس فراہم کی جائے گی۔ پی اے آرسی پبلک پرائیویٹ سیکٹر کے ذریعے اپنی مصنوعات کی مارکیٹنگ کر رہی ہے جہاں مارکیٹنگ کی تمام تر ذمہ داری نجی شعبے کے ذمہ ہوگی۔ لہذا پی اے آرسی پائیدار معیشت کے لئے ملکی برآمدات کو بڑھانے میں وزیر اعظم پاکستان کے وژن کو پورا کرنے کے لئے کوشاںہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں