234

پانچ سو اموات والے ممالک نے بھی لاک ڈاؤن میں نرمی کا فیصلہ کیا، عمران خان

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے جن ملکوں میں پانچ چھ سو لوگ روزانہ مرتے ہیں انہوں نے بھی لاک ڈاؤن میں نرمی کا فیصلہ کیا ہے، پاکستان میں لوگوں کو بھوک سے بچانا ہے۔ رمضان المبارک عبادت کا مہینہ ہے، چاہتے ہیں مساجد ویران نہ ہوں، اگر وائرس پھیلا تو مساجد بند کرنا پڑیں گی۔
وزیراعظم نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بات ہورہی ہے دنیا بھر کی مساجد بند ہوگئیں، پاکستان میں مساجد کیوں بند نہیں کی جارہیں، ہم آزاد قوم ہیں، مجھے بہت برا لگا جب میں نے دیکھا پولیس لوگوں کو ڈنڈے مار رہی ہے، رمضان المبارک عبادت کا مہینہ ہے، قوم عبادت کے لیے مساجد میں جانا چاہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم ان لوگوں کو زبردستی مساجد میں جانے سے نہیں روک سکتے، آزاد معاشروں میں ایسا نہیں ہوتا، کورونا کی جنگ پورا ملک لڑ رہا ہے، ہم نے علماء سے ملاقاتیں کیں اور بہت طویل مشاورت کی، صدر عارف علوی نے علماء سے شرائط پر بات کی، 20 نکات پر تمام علماء کرام نے دستخط کیے، مجھے پوری امید ہے قوم مساجد میں حکومتی ایس او پیز پر عمل کرے گی۔
عمران خان نے کہا کہ پہلے سیمنٹ انڈسٹری، پھر کنسٹرکشن کا شعبہ کھول دیا، صوبوں کی مشاورت سے معاملات کو آگے بڑھا رہے ہیں، جو بھی شعبے کھول رہے ہیں انہیں کہا ہے ایس او پیز پر عمل کریں۔ حکومت نے جو فورس بنائی، وہ ٹائیگر فورس نہیں رضاکار فورس ہے، فورس کو پیسے نہیں دیئے جائیں گے۔ یہ قوم کی خدمت کا جذبہ لے کر آئے ہیں، ان رضاکاروں کو پورٹل پر ڈالیں گے،جو لوگ بھی راشن دینا چاہیں گے وہ اس پورٹل کی مدد سے راشن دے سکیں گے۔
اُن کا کہنا ہے کہ قوم نے ہر مشکل کا مقابلہ استقامت سے کیا، یورپ اور امریکا میں کورونا سے حالات سب کے سامنے ہیں، امریکا میں ایک دن میں 2 ہزار سے زیادہ لوگ مر جاتے ہیں، امریکا میں بھی لاک ڈاؤن کے حوالے سے بحث چل رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اب تک 192 افراد کورونا کے باعث جان سے جا چکے ہیں، یورپی ممالک بھی اتنی بڑی تعداد میں اموات کے باوجود لاک ڈاؤن کھولنے کا سوچ رہے ہیں، کیسز نیچے آبھی گئے تو ایک مہینے کے بعد پھر سے اوپر جا سکتے ہیں، تمام قومیں اپنے لوگوں کو کورونا سے بچانے کا سوچ رہی ہیں، قومیں دوسری طرف لاک ڈاؤن سے ہونے والے نقصان سے بھی بچنا چاہ رہی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں