275

وفاق کی غلط ترجیحات کے نتائج کا پورا ملک سامنا کر سکتا ہے،بلاول بھٹو

اسلام آباد: چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کورونا وائرس کی صورتحال میں حکومتی اقدامات پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاق کی غلط ترجیحات کے نتائج کا پورا ملک سامنا کر سکتا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ عالمی وباء کے دوران اگلے محاذوں پر خدمات سرانجام دینے والے ڈاکٹروں اور نرسوں کیلئے بڑے امدادی پیکجز کا اب تک اعلان نہیں ہوا۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ یومیہ اجرت پر انحصار کرنے والے لاک ڈاؤن سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے، ان کے لئے بھی امدادی پیکج کا اعلان نہ ہوا۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ تاہم پاکستان میں کورونا وائرس کی وباء کے دوران تعمیراتی صنعت کیلئے بڑے امدادی پیکج کا اعلان کیا گیا ہے۔

انہوں نے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ انسانی زندگی پر نفع کو ترجیح صحت کے بحران میں ہمارے اقدامات کا تعین کر رہی ہے۔ وفاق کی غلط ترجیحات کے نتائج کا پورا ملک سامنا کر سکتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اپنے شعبہ صحت کے نظام، مزدوروں اور ضرورت مندوں سے تعاون کریں۔

خیال رہے کہ وفاقی کابینہ نے کنسٹرکشن انڈسٹری کیلئے آرڈیننس کی منظوری دے دی ہے۔ وفاقی کابینہ سے سرکولیشن سمری کے ذریعے منظوری لی گئی، آرڈیننس منظوری کیلئے صدر مملکت کو بھجوا دیا گیا ہے۔

تعمیراتی انڈسٹری کو ریلیف فراہم کیا جائے گا، صدر مملکت کی منظوری کی بعد وزارت قانون آرڈیننس کا اجرا کرے گی۔ آرڈیننس کے تحت تعمیراتی منصوبوں میں سرمایہ کاری پر ذرائع آمدن نہیں پوچھا جائیگا، بلڈرز، لینڈ ڈیولپرز کو خصوصی مراعات دی جائیں گی، سیمنٹ اور سٹیل کے علاوہ بلڈنگ مٹیریل پر ود ہولڈنگ ٹیکس لاگو نہیں ہوگا۔

آرڈیننس کے تحت کم لاگت ہاؤسنگ منصوبوں پر 90 فیصد تک ٹیکس کی چھوٹ ہوگی، نامکمل، جاری اور 31 دسمبر 2020 سے پہلے کے منصوبے سکیم سے فائدہ اٹھائیں گے، مراعات حاصل کرنے کیلئے نئے، جاری منصوبوں کی ایف بی آر میں رجسٹریشن لازمی ہوگی، ہولڈر اور سزا یافتہ افراد آرڈیننس سے مستفید نہیں ہو سکیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں