199

وفاقی دارالحکومت سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں دو ہفتے کا مکمل لاک ڈاؤن

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد آئی ایٹ تھری، فور اور مرکز جبکہ آئی ٹین ون ٹو اور مرکز میں بھی مکمل لاک ڈاون کا آج پہلادن ہے۔ جی نائن تھری اور فور میں پہلے ہی لاک ڈاؤن جاری ہے جب کہ غوری ٹاؤن، لوہی بھیر، جی سیون ٹو اور پی ڈبلیو ڈی کو لاک ڈاؤن کرنے پر غورکیا جارہا ہے۔
ذرائع ضلعی انتظامیہ کے مطابق غوری ٹاؤن سمیت چار نئے ہاٹ سپاٹس کے لیے مجوزہ لاک ڈاؤن کی حکمت عملی طے کی جارہی ہے۔ ادھر پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ چاروں سب سیکٹرز اور دونوں مراکز میں کورونا مریضوں کے ملنے والوں کی فہرستیں مرتب کی جارہی ہیں۔
دوسری جانب راولپنڈی میں بھی 22 علاقے ہاٹ سپاٹ ڈکلیئر کر کے مکمل لاک ڈاؤن نافذ کردیاگیا۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے باقائدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا جس کا اطلاق 30 جون تک رہے گا۔ حساس علاقوں میں راول ٹاؤن کی7 یونین کونسلز کے 15 علاقوں سمیت کینٹ کے7علاقے شامل ہیں۔

نوٹیفکیشن کے مطابق ہاٹ سپاٹ ڈکلیئر کرکے سیل کیے جانے والے علاقوں میں تمام نجی و سرکاری دفاتر شاپنگ مالز و کاروباری مراکرز بند رہیں گے۔ ان علاقوں میں پبلک پرائیویٹ ٹرانسپورٹ کی نقل و حمل پر سختی سے پابندی ہوگی اور ایک گاڑی میں ایک شخص کو ضرورت کے وقت مشروط اجازت دی جاسکے گی۔
کمشنر کراچی نے شہر کی مختلف یونین کونسل میں سخت لاک ڈاؤن لگانے کے احکامات جاری کردیئے لاک ڈاون 18 جون سے 2 جولائی تک ہوگا۔
جاری نوٹیفیکشن کے مطابق کمشنر کراچی نے شہر کی مختلف یونین کونسل میں سخت لاک ڈاؤن لگانے کے احکامات جاری کردیئے، لاک ڈاؤ ن 18جون سے 2 جولائی تک جاری رہے گا۔ ڈپٹی کمشنر نے محکمہ صحت کی سفارش پر لاک ڈاؤن لگانے کی تجویز دی تھی۔
لاک ڈاؤن کا نفاذ شہر کی 41 یوسیز کے مختلف ہاٹ اسپاٹس پر ہوگا، ضلع کورنگی اور جنوبی کی پانچ، پانچ یوسیز میں، ضلع شرقی کی 17،غربی کی 6 یونین کونسلز میں، ضلع ملیر کی 6، ضلع وسطی کی دو یونین کونسلز کے ہاٹ اسپاٹس پرلاک ڈاؤن ہوگا۔ لاک ڈاؤن والے مقامات پر ماسک کا استعمال لازمی ہوگا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق حساس مقامات پر کریانہ اور میڈیکل اسٹورز کھلے رہیں گے، جب کہ لاک ڈاؤن والے علاقے میں ہرطرح کے صنعتی یونٹس بند رہیں گے اور ہر قسم کی کاروباری سرگرمیاں بھی ممنوع ہوں گی۔
حساس علاقے میں ریسٹورنٹس کی ہوم ڈیلیوری اور ٹیک اوے سروس بھی معطل رہے گی، رہائش پذیر افراد کے گھر کا ایک فرد شناختی کارڈ دکھا کر ضروری اشیاء کی خریداری کرسکے گا۔ اس کے علاوہ مریض کے ساتھ حساس علاقے سے ایک تیماردار کو جانے کی اجازت ہوگی جب کہ گھروں میں ہرطرح کی نجی محافل پر پابندی ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں