212

وفاقی بجٹ،12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان، ڈیوٹیوں، ٹیکسوں میں کمی متوقع

اسلام آباد:حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ آئندہ مالی سال 21-2020ء کے بجٹ میں ٹیکس تجاویز کی تیاری پر کام جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت 2 جون کو وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوگا جس میں بجٹ کی تجاویز پیش کی جائیں گی اور پھر اسے 12 جون کو اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔آئندہ مالی سال2020-21ء کے وفاقی بجٹ میں زراعت، توانائی کے منصوبوں کیلئے درآمدی مشینری پر کسٹم، ایکسائز ڈیوٹیوں میں 3 فیصد تک کمی متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق کورونا وائرس کے باعث بجٹ میں زیادہ ریلیف فراہم کیے جائیں گے ۔ریگولیٹری، ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹیز میں بھی 2 فیصد تک کمی متوقع ہے جبکہ دیگر شعبوں کیلئے بھی درآمدی مشینوں پر ڈیوٹی میں کمی کی تجویز زیر غور ہے۔
ایف بی آر حکام کے مطابق ڈیوٹی میں کمی سے منصوبوں کی لاگت میں کمی ہو گی، ڈیوٹیوں میں ریلیف سے ریونیو میں کمی کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان 12 جون سے قبل باقاعدگی کے ساتھ بجٹ بریفنگ لیتے رہیں گے۔ وفاقی حکومت نے آئندہ بجٹ کے مجموعی حجم میں 10 فیصد اضافے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے لیے ساڑھے 7 ہزار ارب سے زیادہ کا وفاقی بجٹ پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ترقیاتی بجٹ 530 ارب روپے تک مختص کیے جانے کی توقع ہے، بجٹ میں تعمیراتی صنعت کو خصوصی مراعات دینے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ ترقیاتی منصوبوں کیلئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت 200 ارب سے زیادہ مختص کیے جانے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ بجٹ محصولات کا ہدف ساڑھے 4100 سے 4500 ارب مقرر کیے جانے کا بھی امکان ہے۔
اس کے علاوہ آئندہ بجٹ میں بنیادی اشیائے خوردونوش پر ٹیکس کی شرح میں مزید کمی، کورونا سے نمٹنے اور کاروباری طبقے کے ریلیف کیلئے ایک ہزار ارب سے زائید مختص کیے جانے کا بھی امکان ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں