231

وزیراعظم کی ٹاسک فورس ٹیکنالوجی منصوبوں پرعملدرآمد کرانے میں ناکام

کراچی: وزیراعظم عمران خان کی ٹاسک فورس ٹیکنالوجی منصوبوں پرعملدرآمد کرانے میں بری طرح ناکام ہوگئی۔
وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی جانب سے “ٹیکنالوجی ڈرائیوو نالج اکانومی” کے لیے بنائی گئی ٹاسک فورس ملک میں ٹیکنالوجی کی بنیاد پر ترقی کے لیے منصوبوں پرعملدرآمد میں بری طرح ناکام ہوگئی ہے اور تجویز و منظور شدہ اکثریتی منصوبے محض سرکاری فائلوں میں گم ہوگئے ہیں، اور نالج اکانومی کا ایک بڑا منصوبہ “آرٹیفیشل انٹیلیجنس ان ہیلتھ ” بھی ردی کی ٹوکری کی نذر ہوگیا ہے۔
ٹاسک فورس کے چیئرمین خود وزیر اعظم پاکستان عمران خان تھے جب کہ اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹرعطاالرحمن ٹاسک فورس کے “شریک چیئرمین “مقرر کیے گئے تھے، ٹاسک فورس کا بنیادی مقصد درآمدات پر انحصار کم کرکے صحت، تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور زراعت سمیت زندگی کے مختلف شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے ملکی مصنوعات پرانحصار کو یقینی بنانا تھا اس سلسلے میں مجموعی طو پرنالج اکانومی کے لیے ٹیکنالوجی ڈرائیوو کے اربوں روپے کے 35 مختلف منصوبوں کی منظوری دی گئی تھی، نالج اکانومی دیگر منصوبے آئی ٹی ،ایگریکلچر، انڈسٹریز،اٹامک انرجی کمیشن اوراعلی تعلیمی کمیشن کے پاس جانے تھے یہ ٹاسک فورس گزشتہ برس جنوری 2019ء میں قائم ہوئی تھی اور اس کا پہلا اجلاس بھی اسی وقت ہوا تھا۔
گزشتہ برس جولائی میں خود ڈاکٹر عطاء الرحمن نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان میں معاشی ترقی کو ٹیکنالوجی سے مربوط کرنے کے لیے نالج اکانومی میں ڈھالا جارہا ہے اور اس مقصد کے لیے آرٹیفیشل آٹیلیجنس ان ہیلتھ کا ایک بڑا منصوبہ شروع کرنے جارہے ہیں اور “سینٹر ڈویلپمینٹ ورکنگ پارٹی” ( سی او ڈبلیو پی) نے اس منصوبے کی منظوری دیتے ہوئے 525.680 ملیں روپے کا بجٹ بھی منظور کرلیا ہے اور رواں سال منصوبے کے لیے 175.890 ملین روپے مالی سال 2019/20 میں جاری کیے جارہے ہیں۔

ڈاکٹرعطاء الرحمن نے یہ بھی دعوی کیا تھا کہ اس منصوبے کے پہلے فیز میں ایک ” پوسٹ گریجویٹ سینٹر ان ایگریکلچراینڈ ہیلتھ سائنسز” جامعہ کراچی کے ریسرچ ادارے آئی سی سی بی ایس میں قائم کیا جارہا ہے، ریسرچرز کو بیرون ملک تربیت پر بھجوا رہے ہیں جو اس بات کی تربیت لیں گے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی اپلیکیشن کے ذریعے کس طرح بیماریوں کی تشخیص کی جارہی ہے اورسینسز کس طرح بنائے جارہے ہیں، جس کے بعد پاکستان میں ہیلتھ سیکٹر میں ٹیکنالوجی کی بنیاد پر انقلابی تبدیلی متوقع ہے اور سرجری میں ریبوٹکس اپلیکیشن کا استعمال ہوسکے گا۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر عطاء الرحمن نے دعوی کیا تھا کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس ان ہیلتھ کے منصوبے کے تحت “ایم آر آئی ، ایکسرے اور سی ٹی اسکین کے میڈیکل ڈائیگنوسٹک ڈیٹا میں ربورٹکس تجزیے کیے جاسکیں گے، جب کہ آٹو میٹک میڈیکل ریکارڈ کیپنگ ، مریض کے لیے آٹومیٹک ٹریٹمنٹ ڈیزائن کرنا، آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے تحت ریمورٹ کنٹرول مشینوں کے ذریعے سرجیکل پروسیجر کی ریمورٹ سپرویزن اور کینسر اور دیگر امراض کی ربوٹک سرجری شامل ہوگی۔

ڈاکٹرعطاالرحمٰن کے تمام منصوبے محض دعوؤں اورخیال تک ہی محدود رہے، اگر وزیر اعظم کی ٹاسک فورس آرٹیفیشل انٹیلیجنس ان ہیلتھ کے اس منصوبے پر کام کرلیتی تو اس سلسلے میں کیے گئے دعوؤں کے تحت آج پاکستان کو درپیش COVID 19 میں ہسپتالوں میں ریبوٹکس کے ذریعے مریضوں کی تشخیص و ٹریٹمنٹ میں مدد مل سکتی تھی، تاہم سوائے دعوؤں کے ایسا کچھ نہیں ہوسکا اور یہ ٹاسک فورس تقریبا ڈیڑھ برس میں بھی کوئی اہم پیش رفت نہیں کرسکی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں