226

وزیراعظم کا کل سے 144ارب تقسیم کرنے کا اعلان

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جمعرات سے 17 ہزار مقامات سے 12 ہزار فی کس کے حساب سے 144 ارب روپے تقسیم کیے جائیں گے۔اسلام آباد میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو میں عمران خان نے کہا کہ عوام احتیاط کریں تو کورونا وائرس سے پیدا ہونے والے بڑے مسئلے سے بچ سکتے ہیں، جب لوگ جمع ہوں گے تو یہ بیماری بہت تیزی سے پھیلتی ہے۔ اس موقع پر وزیراعظم کے ہمراہ وفاقی وزیر اسد عمر، چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل، معاونین خصوصی عثمان ڈار اور ثانیہ نشتر بھی موجود تھیں۔عمران خان نے مزید کہا کہ ہر ملک میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ مختلف انداز کا ہے، پاکستان میں لوگ لاپرواہی کرنا شروع کردیتے ہیں، میں سب سے درخواست کرتا ہوں کہ خدا کا واسطہ ہے غلط فہمی میں نہ پڑیں۔ انہوں نے کہا کہ جنہیں بیماری لگتی ہے، ان میں سے 85 لوگوں کو خاص فرق نہیں پڑےگا، وہ ہسپتال جائے بغیر بھی ٹھیک ہوجائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ کورونا سے متاثرہ 4 سے5 فیصد افراد کو صرف ہسپتالوں میں جانےکی ضرورت ہوتی ہے، ہر 100میں سےایک یا دو افراد اس بیماری سے مرسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی نوجوان کو بیماری لگی تو اس کے گھر میں موجود بزرگوں کو خطرہ ہوسکتا ہے، اپریل کے آخر تک کورونا متاثرین کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔عمران خان نے کہا کہ جس طرح سے کورونا بڑھتا جارہا ہے، اسپتال میں لوگوں کی تعداد بڑھ جائیگی، ایسا ہوا تو ہمارے پاس اتنے وینٹی لیٹرز نہیں ہیں کہ علاج ممکن ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ تین ہفتے لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا تھا، لاک ڈاؤن کے پیش نظر اسکول، فیکٹریاں اور دکانیں بند کیں، پاکستان میں 5 کروڑ افراد غربت کی لکیر سے نیچے ہیں، جب ہم لاک ڈاؤن کرینگے تو غریب ترین طبقے پر کیا اثرات پڑیں گے.وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ احساس پروگرام کے تحت امداد کی فراہمی کا جمعرات سے آغاز ہوگا۔ ایک کروڑ بیس لاکھ خاندانوں کو فی کس بارہ ہزار روپے ملیں گے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کنسٹرکشن انڈسٹری بھی چودہ اپریل سے اوپن ہوگی۔ دیہات میں زرعی شعبے کے لیے بھی کوئی لاک ڈاؤن نہیں ہوگا۔ غریب طبقے کو ریلیف کی فراہمی سب سے بڑا چیلنج ہے۔ ٹائیگرز فورس گھر گھر پہنچے گی۔ وزیراعظم عمران خان کا ان خیالات کا اظہار پاکستان میں کورونا وائرس کی صورتحال پر میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جمعرات سے احساس پروگرام شروع ہو رہا ہے۔ اب تک ساڑھے 3 کروڑ افراد نے ریلیف فنڈ کیلئےایس ایم ایس کیا ہے۔انہوں نے واضح کیا اور کہا کہ احساس پروگرام میں کسی قسم کی سیاسی مداخلت نہیں ہے، صرف مستحقین کو پیسے ملیں گے۔ ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں کو کل سے 12 ہزار ملنا شروع ہوں گے۔
وزیراعظم نے بتایا کہ مستحقین کو رقوم کی ادائیگی کیلئے ملک بھر میں 17 ہزار پوائنٹس بنیں گے جہاں سے انھیں فنڈ ملنا شروع ہوگا۔ دو سے ڈھائی ہفتے کے اندر تمام مستحقین کو امداد پہنچ جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت نے پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا معاشی پیکج دیا ہے۔ کوشش ہے کہ ایمانداری سے مستحقین تک پیسہ پہنچایا جائے۔انہوں نے کہا کہ غریب طبقےکو ریلیف دینا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ ٹائیگر فورس گلی اور محلوں میں غریبوں تک پہنچیں گے اور ہمیں مسلسل فیڈ بیک دے گی۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس مغربی ممالک جیسے وسائل نہیں لیکن اس کے باجود ہمارے ڈاکٹرز اور طبی عملہ فرنٹ لائن پر کورونا وائرس کی وبا کا مقابلہ کر رہا ہے۔ انھیں حفاظتی سامان پہنچانا اولین ترجیح ہے۔اس موقع پر بات کرتے ہوئے معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر کا کہنا تھا کہ تمام صوبے احساس پروگرام کا حصہ ہیں۔ ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں میں رقم تقسیم کی جائے گی۔ فی خاندان کو 12 ہزار دیئے جائیں گے۔ معاون خصوصی ثانیہ نشتر کا کہنا تھا کہ رقم کی تقسیم بائیو میٹرک کے بعد ہی ممکن ہوگی۔ احساس پروگرام میں کوئی سیاسی مداخلت نہیں ہو سکے گی۔ حق داروں کی نشاندہی کیلئے 8171 سے تصدیق کی جا سکتی ہے۔ ایک گھر میں سے ایک شخص رجسٹرڈ ہوگا۔ حساس پروگرام شفافیت پر مبنی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں