231

وزیراعظم کا شعبہ توانائی میں گھپلوں سے متعلق تحقیقاتی کمیشن بنانے کا فیصلہ ،کابینہ نے پاورسیکٹر انکوائری پبلک کرنیکا اعلان کردیا

اسلام آباد :پاورسیکٹر انکوائری کو حکومت نے پبلک کرنے کا اعلان کردیا۔ ذرائع کے مطابق جہانگیرترین اورخسرو بختیار کے پاور پلانٹس غیرمنصفانہ منافع کمانے میں مصروف ہیں جبکہ وزیراعظم عمران خان پاوراسکینڈل انکوائری رپورٹ میں مذکورہ کابینہ ارکان کے دفاع میں آگئے، وزراء کو ندیم بابر، خسرو بختیار اورعبد الرزاق داؤد کا دفاع کرنے کی ہدایت کردی۔
پاورسیکٹراسکینڈل منطقی انجام کی طرف بڑھنے لگا۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت کابینہ اجلاس میں پاور سیکٹر انکوائری رپورٹ سامنے لانے کی منظوری دے دی گئی۔ وفاقی وزیر اسدعمر کہتے ہیں کابینہ نے آئی پی پیز سے متعلق رپورٹ جاری کرنےکا فیصلہ کیا ہے۔ کمیشن بنا دیا گیا ہے کسی نےقانون کی خلاف ورزی اور بےضابطگیاں کیں ہیں تو اس کومعاف نہیں کیا جائے گا۔ معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ موجودہ دور میں آئی پی پیز کا کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔ ماضی میں شہباز شریف نے سلمان شہباز کی کمپنی کو معاہدے کی منظوری دی، نیب کے شہبازشریف کو بلانے پر لیگی رہنماء قرنطینہ سے نکل آئے۔ کمیشن پاور سیکٹر میں مبینہ کرپشن سے متعلق فرانزک اور مزید تحقیقات کرےگا۔ذرائع کے مطابق جہانگیر ترین اورخسروبختیارکے پاورپلانٹس بھی غیرمنصفانہ منافع کمانے میں مصروف ہیں۔ جہانگیر ترین اور مخدوم خسروبختیار کے پلانٹس نے 4 ارب 88 کروڑ روپے اضافی وصول کئے۔ رزاق داؤد اور ندیم بابر کے پاور پلانٹس بھی اربوں روپے اضافی منافع کمانے میں ملوث ہیں۔
رپورٹ میں ساہیوال پاور پلانٹ، پورٹ قاسم کول پلانٹ کی لاگت میں 32 ارب روپے اضافی وصولی، پاور پلانٹ کی جانب سے سالانہ 50 سے 70 فیصد منافع کمانے سمیت کیپسٹی پیمنٹ، ڈالر انڈیکسسیشن اور دیگر اہم سفارشات بھی منظر عام پر لا ئی گئی تھیں۔
وفاقی وزیراسدعمر کہتے ہیں کابینہ نے آئی پی پیز سے متعلق رپورٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ رپورٹ پر انکوائری کمیشن بنائی جا رہی ہے۔ انکوائری کمیشن کو 90 دن میں کام مکمل کرنے کی ہدایت دی جائے گی۔
باوثوق ذرائع کے مطابق11 اپریل کو پاور سیکٹر انکوائری رپورٹ کی خبر نشر کی تھی جس میں آئی پی پیز مالکان کی طرف سے اربوں روپے کے منصوبہ میں منافع کمانے کی نشاہدہی کی گئی۔
جبکہ وزیراعظم نے پاور سیکٹر سے متعلق انکوائری کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور وفاقی کابینہ نے توانائی کے شعبے میں گھپلوں سے متعلق انکوائری رپورٹ سامنے لانے کی منظوری دیدی۔
وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں تعمیراتی شعبے کو سیلز ٹیکس کی چھوٹ دینے کی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں ریٹائرمنٹ کے بعد سرکاری رہائشگاہ سے متعلق پالیسی پر نظرثانی کی بھی منظوری دی گئی جس کے تحت وقت سے پہلے ریٹائر ہونے والے ملازمین 6 ماہ سے زیادہ سرکاری رہائش استعمال نہیں کر سکیں گے۔ وفاقی کابینہ نے توانائی کے شعبے میں گھپلوں سے متعلق انکوائری رپورٹ سامنے لانے کی منظوری بھی دیدی۔
پاور سیکٹر سے متعلق انکوائری کمیشن بنانے کا فیصلہ

وفاقی کابینہ نے پاور سیکٹر اسکینڈل پر انکوائری کمیشن بنانے کی منظوری دے دی۔ کمیشن انکوائری ایکٹ 1952 کے تحت قائم کیا جائے گا جو انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں مزید تحقیقات کرے گا، اور بجلی کے منصوبوں سے متعلق فرانزک آڈٹ کے بعد رپورٹ پیش کرے گا۔
اجلاس کے بعد وزیراعظم عمران خان کی معاونِ خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ کابینہ نے مسابقتی کمیشن کی تشکیل نو سے متعلق سفارشات کی منظوری دے دی، کمیشن کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ری اسٹرکچر کیاجائے گا، مسابقتی کمیشن ماضی میں مخصوص شخصیات کو تحفظ دیتا رہا، اس کےخلاف 27درخواستیں دائر ہوچکی ہیں، مسابقتی کمیشن کے اسٹیک ہولڈر نے ریاست کے27ارب روپے واپس کرنے ہیں۔
معاون خصوصی نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے اقلیتوں کے قومی کمیشن کی تشکیل نو کی بھی منظوری دی ہے جس میں اقلیتوں کی اکثریت ہوگی اور اقلیتی برادری سے ہی چیئرمین منتخب ہوں گے۔ پاورسیکٹر انکوائری رپورٹ کے مندرجات ایکسپریس نیوز نے حاصل کرلیے جس کے مطابق 13سال میں قومی خزانے کو 4ہزار802ارب روپے کا نقصان ہوا جس میں سبسڈی اور گردشی قرضے کی وجوہات بھی شامل ہیں۔
رپورٹ میں گردشی قرضے اور بجلی کے نرخوں میں کمی کیلئےہنگامی اقدامات کرنے اور آئندہ 5سال تک نیاپاورپلانٹ لگانے پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا سبسڈی اور گردشی قرضے میں صوبوں کوشامل کیا جائے، زیرتعمیرپاورپلانٹس پرنظرثانی کی جائے اور 25سال والے پلانٹس سے بجلی خریداری بند کی جائے، نیز کے الیکٹرک کو 1600میگاواٹ کے نئے پاورپلانٹ لگانے سے روکا جائے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ زیادہ تر آئی پی پیز کے پے بیک کا دورانیہ 2سے4سال کے درمیان رہا، 16آئی پی پیز نے 50ارب80کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی اور 415ارب روپے سے زائد کا منافع حاصل کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں