73

نریندر مودی ایک عالمی مہرہ

اکرم ثاقب
تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اس سے اگر سبق نہ سیکھیں تو پھر تاریخ ہی سزا دیتی ہے۔ جو لوگ ماضی کی غلطیوں کو یاد نہیں رکھتے اور انہیں پھر دہراتے ہیں تو انہیں سوائے نقصان کے کچھ نہیں حاصل ہوتا۔

ہندوستانی جنونی وزیراعظم مودی 1962 کی چین اور ہندوستان کی جنگ میں اپنے ملک کی طرف سے کی گئی غلطی کو یاد کرنے سے گریزاں ہیں۔ مودی چین کی حکمت عملی پر اس وقت کے وزیراعظم جواہر لال نہرو کی طرف سے کی گئی غلطیوں کو دہرانے والے ہیں، کیونکہ اس نے روس نواز معاون وی کے کرشنا مینن کے مشورے پر زیادہ بھروسہ کیا تھا۔ مودی بھی اپنے خارجہ امور کے وزیر سبرا منیم جے شنکر پر انحصار کرتے ہیں، جو اس بات کو عقیدے کی حد تک درست سمجھتے ہیں کہ امریکا کے ساتھ اتحاد ہندوستان کے مفادات کےلیے انتہائی لازم ہے۔ حالانکہ تاریخ اور وقت دونوں اس کے خلاف گواہی دیتے ہیں۔ ہنری کسنجر کے یادگار الفاظ دنیا نہ جانے کیوں بھول جاتی ہے کہ ہماری دشمنی سے زیادہ خطرناک ہماری دوستی ہے۔ مگر کیا کیا جائے اس کٹر ہندو جنونی وزیراعظم کا، جو اپنے اقتدار کی خاطر پوری دنیا کو آگ میں جھونکنے سے بھی نہیں کترا رہا۔

یہ کٹر ہندو اپنی عوام کو بھی انتہاپسند بنارہا ہے اور انہیں یہ خواب دکھا رہا ہے کہ ساری دنیا میں ہندو راج ہوگا۔ یہ مذہبی جنونی اپنے ملک کے اندر کچھ اور بولتا ہے اور بیرونِ ممالک میں جاکر امن و آشتی کا پیکر بننے کی اداکاری کرتا ہے۔ اپنی حکومت کو قائم رکھنے اور طول دینے کےلیے اس نے بھارت کا سیکولر چہرہ، جو کہ پہلے بھی مسخ ہوچکا تھا اب بالکل ہی معدوم کردیا ہے۔ اپنی حکمرانی کی طوالت کی اسی خواہش کی تکمیل کےلیے اس نے اندرونی پالیسی کے بجائے خارجہ پالیسی کو اپنا ہتھیار بنایا ہوا ہے اور بہت حد تک اس میں کامیاب بھی ہے۔ مطلب یہ کہ اپنے ووٹر کو بے وقوف بنانے میں وہ کامیاب ہے۔ حالانکہ روایت ہے کہ جو کسی دوسرے کو بے وقوف بنارہا ہوتا ہے دراصل وہ خود بن رہا ہوتا ہے۔ دنیا اور خاص طور پر بڑی طاقتوں نے اس کی کمزوری کو بھانپ لیا ہے اور وہ اب مودی کو اپنے آلہ کار کے طور پر استعمال کررہی ہیں۔
دوسری مرتبہ وزیراعظم کی حیثیت سے اپنی نشست کو محفوظ بنانے کےلیے، اس نے رائے دہندگان کو راغب کرنے کے پلوامہ ڈرامہ حملے اور اس کے نتیجے میں بالاکوٹ، پاکستان پر سرجیکل اسٹرائیک کا نام دے کر مذہبی جنونیت اور قوم پرستی کو انتخابی ایجنڈے کے طور پر استعمال کیا۔ انتخابات کے دوران مودی نے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کو واپس لینے کے عزم کا اظہار کیا۔ اندرونی معاملات میں ہر محاذ پر ناکامی کے باوجود مودی نے اپنی خارجہ پالیسی سے کامیابی کے ساتھ اپنی مقبولیت کو بڑھایا۔ اس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، چینی صدر شی جن پنگ، روسی رہنما ولادی میر پوتن، جیسے سپر پاورز کے رہنماؤں کے ساتھ اپنی مصروفیت دکھا کر اپنے ووٹرز سے اپنی داخلی پالیسی کی ناکامیوں کو کامیابی کے ساتھ چھپایا۔ لیکن وہ اس بات سے اندھے پن کا مظاہرہ کررہا ہے کہ مارکیٹ میں جو بھی سامان اور خدمات پیش کی جاتی ہیں، ان کی قیمت ان کے صارفین کو ہی ادا کرنا ہوتی ہے۔ یعنی کسی کو بھی کچھ مفت میں نہیں ملتا ہے۔

’’یہاں مفت لنچ جیسی کوئی چیز نہیں ہے۔‘‘ یہ بات بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے اکنامک تھیوری سے بھی زیادہ اہم ہے۔ کیونکہ سپرطاقتوں کے حکمرانوں سے گلے ملنے کی بھی ایک خاص قیمت ہوتی ہے اور اس قیمت کی ادائیگی چھوٹے ملک ہی مالی لحاظ سے ادا کرتے ہیں۔ مودی نے پوتن سے گلے ملنے اور مصافحہ کرنے کےلیے ایس 400 میزائل دفاعی نظام کی 43 بلین امریکی ڈالر کی قیمت ادا کی۔ فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کے ساتھ رافیل معاہدہ 30 بلین ڈالر کا تھا۔ یہ واضح قیمت تھی جو مودی نے ادا کی۔ مودی نے ٹرمپ کے ساتھ ھاوڈی مودی پروگرام میں اپنی نمائش کی۔ اسی طرح ٹرمپ نے رواں سال 22 فروری کو ہندوستان کے گجرات ریاست میں، دنیا کے سب سے بڑے کرکٹ اسٹیڈیم میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد کی شرکت والے ایک ایونٹ میں شرکت کی۔ مودی نے اپنے اور ٹرمپ کے مابین زبردست تعلقات کا مظاہرہ کیا اور امریکی صدر نے تقریر کرتے ہوئے ہندوستانی وزیراعظم کو ایک ’’غیر معمولی رہنما‘‘ کے طور پر پیش کیا۔ یہ سب مودی کے غبارے میں ہوا بھری جارہی تھی کہ انڈیا کو چین کے خلاف استعمال کیا جاسکے اور مودی استعمال ہوگئے۔ کیونکہ چین کے حوالے سے ریاست ہائے متحدہ امریکا کی حال ہی میں جاری کردہ قومی سلامتی کی حکمت عملی میں کہا گیا ہے کہ وہ اب بھی ’’ایک چین پالیسی‘‘ پر عمل پیرا ہے اور واضح طور پر کہا گیا ہے کہ امریکا چین میں حکومت کی تبدیلی کے خواہاں نہیں ہے۔

لداخ میں چین اور ہندوستانی فوجی تعطل پر نہ تو خود امریکی صدر نے اور نہ ہی ہندوستان کے کسی دوست اور اتحادی، جس میں کواڈ ممالک بھی شامل ہیں، نے بھارت کے حق میں کوئی بیان جاری کیا۔ یہ بات طے ہے کہ اگر انڈیا کی چین کے ساتھ پورے پیمانے پر جنگ شروع ہوجائے تو بھارت کو پتہ چل جائے گا کہ کوئی بھی اس کے ساتھ کھڑا نہیں ہے۔ مگر مودی کہاں سیکھنے والا ہے۔ اسے تو اپنی برتری اور بہت بڑا لیڈر ہونے کا زعم مارے جارہا ہے۔ اسی لیے تو اس نے تائیوان کے صدر کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کےلیے پارلیمنٹ کے دو ممبران کو بھی بھیج دیا۔

جیسا مودی سوچ رہا ہے کہ بڑی طاقتوں سے بڑے قریبی تعلقات بنا کر وہ چین کو بھی زیر کرلے گا اور پاکستان کو بھی۔ اور ساتھ ہی جنوبی ایشیا کا ڈان بھی بن جائے گا تو ایسا نہ کبھی ہوا ہے اور نہ ہی ہوگا۔ کیونکہ بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے تحفظ کےلیے تعلقات بناتی ہیں نہ کہ دوسروں کےلیے۔ امریکا خود چین کے ساتھ بہتر تجارتی معاہدہ چاہتا ہے۔ امکان ہے کہ نومبر کے صدارتی انتخابات کے بعد چین سے تجارتی معاہدہ طے پا جائے گا۔

مودی کو اس غلط فہمی کا شکار کردیا گیا ہے کہ کورونا وبا کے بعد ہندوستان تیزی سے عالمی طاقتوں کا مرکز نگاہ بن جائے گا اور چین کے بجائے دنیا اسے ترجیح دے گی۔ مودی کو یہ خوش فہمی ہے کہ امریکا، آسٹریلیا اور بہت سے یورپی ممالک اپنی معیشتوں کو چین سے توڑ کر انڈیا سے منسلک کریں گے۔ وہ ہندوستان کو ایک شراکت دار اور اتحادی کی حیثیت سے اپنائیں گے۔ ان کی فیکٹریاں اور کارخانے ہندوستان میں منتقل ہوجائیں گی۔ اور اگر وہ منتقل ہو بھی جاتے تو بھی یہ ہندوستان کی معاشی نمو کی ضمانت نہیں ہوگی، کیونکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں ہندوستانی سامان کی موثر طلب اتنی جلدی ممکن نہیں ہوگی۔(بشکریہ ایکپریس نیوز)

اکرم ثاقب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں