60

نئے چیئرمین کا انتخاب، آئی سی سی خود تاخیری حربے آزمانے لگی

ممبئی: نئے چیئرمین کاانتخاب کرنے کیلیے آئی سی سی خود تاخیری حربے آزمانے لگی۔
ششانک منوہر کو اپنے عہدے سے سبکدوش ہوئے تقریباً ڈیڑھ ماہ ہوچکا مگر ابھی تک آئی سی سی نئے چیئرمین کا انتخاب تو دور کی بات طریقہ کار تک طے نہیں کرسکی ہے۔ پیر کواس حوالے سے بورڈ میٹنگ بھی بے نتیجہ ثابت ہوئی جس کے بعد یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ بورڈ ممبران میں نئے چیئرمین کیلیے دو تہائی یا سادہ اکثریت کے معاملے پر اختلاف ہے، ساتھ میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ دو تہائی اکثریت پر زور دے رہا ہے، اسی لیے معاملہ طے نہیں ہوسکا۔ ایک بھارتی اخبارکو ٹیکسٹ میسیج میں پی سی بی کے چیئرمین احسان مانی نے معاملے کی سرے سے ہی نفی کرکے معاملے کو مزید پراسرار بنا دیا، انھوں نے کہا کہ ڈائریکٹرز میٹنگ میں پی سی بی اور بی سی سی آئی کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہوا،حقیقت تو یہ ہے کہ دو تہائی یا سادہ اکثریت کے حوالے سے کوئی بات زیر بحث آئی ہی نہیں ہے۔اس حوالے سے ذرائع نے بتایاکہ آئی سی سی کو خود دراصل بی سی سی آئی کے صدر ساروگنگولی کے حوالے سے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار ہے جو17اگست کو سامنے آئے گا، اسی سے معلوم ہوگا کہ وہ بدستور بورڈ صدر کے طور پر کام جاری رکھ سکتے ہیں یا نہیں، اگر انھیں 3 برس کے کولنگ آف پیریڈ کی ہدایت دی گئی تو پھر بھارتی بورڈ بطور آئی سی سی غیرجانبدار انھیں منتخب کرا سکتا ہے،اسی وجہ سے ورلڈ گورننگ باڈی کی جانب سے بھی تاخیر ہورہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں