195

مکران کے ساحلی علاقے سونامی کی زد میں

تحریر: ظریف بلوچ
یہ 28 نومبر 1945ء کی ایک سرد رات تھی۔ مکران کی ساحلی بستی پسنی کے ماہی گیر گہری نیند کے مزے لوٹ رہے تھے۔ رات کا آخری پہر تھا، ابھی سورج نکلنے میں چند گھنٹے باقی تھے۔ پسنی ایک خوفناک زلزلے سے لرز اٹھا، ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 8.1 ریکارڈ کی گئی۔ ساحلی علاقوں میں زلزلے کے بعد سونامی کا خطرہ کسی اژدھے کی طرح شکار کی تلاش میں گردن ہلا رہا ہوتا ہے۔ چند منٹوں بعد ہی سمندر کی مست موجیں کسی بپھرے ہوئے ہاتھی کی طرح بے قابو ہوکر آبادی کی طرف بڑھنے لگیں۔ سمندر کے کنارے پر واقع، ماہی گیروں کی اس چھوٹی سی بستی میں 15 فٹ اونچی لہریں داخل ہورہی تھیں۔ یہ بستی ایک الگ سمندر کا منظر پیش کررہی تھی۔ ہر چیز ملیامیٹ ہوچکی تھی اور بستی کے وسط میں واقع ’’مستانی ریک‘‘ دفاع کا کام کررہا تھا۔
اس واقعے کو آج 75 برس بیت چکے ہیں، شہر میں ایک نئی نسل آباد ہوچکی ہے اور زیادہ تر لوگ اس واقعے کو بھول چکے ہیں۔ دوسری طرف ماہرین کا کہنا ہے کہ اس خطے میں کسی بھی وقت خوفناک زلزلے کے بعد سونامی کا خطرہ موجود ہے جو بڑے پیمانے پر تباہی مچاسکتا ہے۔ 75 برس پہلے اس سونامی کو دیکھنے والے مقامی لوگوں کی کھوج لگانے کےلیے جب ہم نے اپنی جستجو کا آغاز کیا تو چند لوگ میسر تھے جن کے بقول انہوں نے سونامی کو اپنے آنکھوں سے دیکھا تھا۔ (اب یہ لوگ بھی اس دنیا میں نہیں رہے ہیں۔) البتہ اس حوالے سے جو بنیادی معلومات اکٹھی کی گئی تھیں وہ دوسری جنگ عظیم میں شامل برطانوی بحری بیڑے کے افسروں اور اہلکاروں نے مرتب کی تھیں، کیونکہ اس وقت بلوچستان میں برطانوی راج کا دور تھا۔ دوسری جنگ عظیم میں شامل یہ بحرے بیڑے مکران کے ساحلی علاقوں میں موجود تھے۔ وکی پیڈیا کے مطابق اس سونامی سے گوادر میں 300 افراد جاں بحق ہوئے تھے، جبکہ جن مقامی لوگوں سے میری بات ہوئی، ان کا کہنا تھا کہ پسنی میں چند افراد اس سونامی سے ہلاک ہوئے تھے۔ اس زلزلے سے موجودہ پاکستان اور عمان متاثر ہوئے تھے، یہ خطہ اب بھی زلزلوں کی زد میں ہے اور 8 فروری 2017 کو 6 شدت کا زلزلہ آچکا ہے۔ اس وقت پسنی کی آبادی بہت کم تھی اور لوگوں نے اپنی جانیں بچانے کےلیے قریبی ریت کے ٹیلے پر چڑھ کر پناہ لی تھی۔ یو این ڈی پی (UNDP)نے چند سال پہلے سروے کرکے اسی ریت کے ٹیلے کو سونامی سے بچاؤ کےلیے محفوظ علاقہ بھی قرار دیا جبکہ یو این ڈی پی کی جانب سے مکران کی مختلف ساحلی بستیوں میں مقامی لوگوں کو ڈرل نما مشق کے ذریعے یہ بتایا جاچکا ہے کہ سونامی آنے کے بعد کیسے اپنے زندگی بچانے کےلیے محفوظ مقامات تک پہنچا جاسکتا ہے۔ مقامی لوگ ریت کے اس ٹیلے کو ’’مستانی ریک‘‘ کہتے ہیں جو 25 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ گوادر سے تعلق رکھنے والے عبداللہ عثمان، یو این ڈی پی کے اس پروجیکٹ کا حصہ تھے۔ اس حوالے سے ہمارے رابطہ کرنے پر انہوں نے بتایا کہ سونامی سے بچنے کے حوالے سے مقامی لوگوں کو کمیونٹی سیشن کے ذریعے آگہی فراہم کی گئی جبکہ ضلع گوادر کے مختلف اسکولوں میں بچوں کو بھی اس بارے میں معلومات دی گئیں۔ علاوہ ازیں مختلف ساحلی بستیوں میں ڈرل کے ذریعے لوگوں کو یہ سکھایا گیا کہ سونامی کی صورت میں کس طرح کی تدابیر سے بچاؤ ممکن ہے۔ عبداللہ عثمان نے مزید بتایا کہ سونامی سے پہلے جو قدرتی نشانیاں نمودار ہوتی ہیں، ان کے بارے میں بھی مقامی لوگوں کو آگاہ کیا گیا جبکہ گوادر میں سونامی سے محفوظ پہاڑ ’’کوہ باتیل‘‘ پر سیڑھیاں بنائی گئیں تاکہ سونامی کی صورت میں مقامی لوگ آسانی سے محفوظ مقام تک پہنچ سکیں۔ اس پروجیکٹ کے تحت گوادر اور پسنی میں سونامی ارلی وارننگ سسٹم لگا کر سیٹلائٹ سے مربوط کرکے فعال کیا گیا تھا جبکہ اس دوران سیٹلائٹ فیس بھی یو این ڈی پی نے ہی ادا کی تھی۔ موجودہ صورتِ حال یہ ہے کہ گوادر اور پسنی میں نصب سونامی ارلی وارننگ سسٹم غیر فعال ہیں۔ بی بی سی کے مطابق، ایک نئی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان اور ایران کے جنوبی ساحلی علاقے ممکنہ طور پر ایک بڑی سونامی کی زد میں آسکتے ہیں جو دونوں ممالک میں بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث ہوسکتی ہے۔ بی بی سی اردو کی ویب سائٹ پر شائع شدہ خبر کے مطابق، تحقیقی جریدے ’’جیوفزیکل جنرل انٹرنیشنل‘‘ میں شائع شدہ ایک مقالے میں ماہرین نے اس خطے میں سیسمولوجی، جیوڈیسی اور جیو مارفولوجی جیسی تکنیکوں کا استعمال کرتے ہوئے یہ نتائج اخذ کیے ہیں؛ جبکہ بعض ماہرین ارضیات اور موسمیات دان اپنے دعوے میں اس خدشے کا اظہار بھی کررہے ہیں کہ مکران سب ڈکشن زون میں 8.1 تا 8.5 شدت کا زلزلہ آنے کی صورت میں جنم لینے والی سونامی مکران کے ساحلی خطے، ایران اور عمان کے ساحلی خطے کو نشانہ بنائے گی۔ یاد رہے کہ 9 شدت کا زلزلہ 480 جبکہ 9.5 والا زلزلہ 800 میگا ٹن ایٹم بموں کے پھٹنے جتنی طاقت رکھتا ہے۔ اس تباہ کن طاقت کا اندازہ یوں بھی لگایا جاسکتا ہے کہ امریکا نے ناگاساکی پر جو ایٹم بم گرایا تھا، اس کی دھماکہ خیز طاقت صرف 20 کلو ٹن، یعنی ایک میگا ٹن والے ایٹم بم کے مقابلے میں صرف 2 فیصد تھی۔ سائنسی مصنفہ صادقہ خان بھی یہی کہتی ہیں کہ پاکستان کے ساحلی علاقے ہر وقت سونامی کی زد میں ہیں۔ یہاں شدید زلزلے کے بعد سونامی کا خطرہ رہتا ہے جو کسی بڑے سانحے کی سبب بن سکتی ہے۔ اپنی بات کے حق میں انہوں نے 2004ء میں بحر ہند میں زلزلے اور اس کے بعد سونامی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سمندر کی تہہ میں آنے والا یہ زلزلہ 1200 کلومیٹر طویل فالٹ لائن پر آیا تھا۔ ماہرین کے مطابق مکران والی ارضیاتی پلیٹ (مکران ٹرینچ) کا مغربی حصہ ایران میں ہے؛ اور اگر ایران میں شدید نوعیت کا کوئی زلزلہ یعنی ’’میگا تھرسٹ‘‘ (9.0 یا اس سے زیادہ شدت والا کوئی زلزلہ) رونما ہوا تو اس کے خوفناک اور تباہی مچادینے والے اثرات مکران کے ساحلی علاقوں میں بھی تباہی پھیلا سکتے ہیں کیونکہ اس پوری پٹی میں آتش فشاں پہاڑ خاصے سرگرم ہیں۔ ساحلی علاقوں میں زلزلوں کی بات کرتے ہوئے ہمیں ان علاقوں کو ذہن میں رکھنا ہوگا جن کے قریب آتش فشاں پہاڑ ہیں۔ جیسے کہ مکران کے ساحلی علاقوں کے متعلق کہا جاتا ہے۔ پہلے یہاں آتش فشاں بہت سرگرم تھے جس کے باعث 75 برس پہلے ایک بڑی شدت کا زلزلہ آیا۔ اگرچہ اس کے بعد سے یہاں ہلکے جھٹکے آتے رہے ہیں مگر ماہرین کے مطابق مکران اور بلوچستان کی ساحلی پٹی (کوسٹل بیلٹ) زلزلوں کےلیے ہائی الرٹ علاقہ ہے۔ مکران ٹرینچ چونکہ تین پلیٹوں (یعنی انڈین، یوریشین اور عرب پلیٹوں) کے ادغام پر واقع ہے اس لیے یہاں دنیا کے بعض انوکھے ارضیاتی مظاہر پائے جاتے ہیں۔ یہاں ابلنے والے گرم چشمے، گرم کیچڑ اور گیس اُگلنے والے دہانے (Mud valcano) اور سمندر میں نمودار ہوکر غائب ہوجانے والے جزیرے ان مظاہر کی چند مثالیں ہیں۔
ماہرین ارضیات کے مطابق عرب اور یوریشین پلیٹوں کا آمنے سامنے ٹکراؤ جاری ہے جبکہ انڈین اور عرب پلٹیں پہلو بہ پہلو رگڑ کھاتے ہوئے شمال کی جانب بڑھ رہی ہیں۔ ان تینوں پلیٹوں میں ایسے منفرد اور عجیب و غریب قسم کے ٹکراؤ کی وجہ سے مکران میں مختلف قسم کے ارضیاتی کرشمے جنم لیتے آرہے ہیں۔
زلزلوں کے بارے میں ماہرین کہتے ہیں کہ یہ براعظمی پلیٹوں (ٹیکٹونک پلیٹوں) کی حرکات کے باعث آتے ہیں جو مسلسل حرکت میں ہیں۔ زیادہ شدید زلزلوں کا خطرہ ان مقامات پر ہوتا ہے جہاں دو یا زیادہ ٹیکٹونک پلیٹیں آپس میں مل رہی ہوں اور ایک دوسرے پر دباؤ ڈال رہی ہوں۔ اس حوالے سے صادقہ خان کہتی ہیں کہ پاکستان میں بلوچستان سے خیبر پختوخواہ تک تمام علاقے زلزلوں کے حوالے سے ہائی الرٹ زون میں شمار کیے جاتے ہیں جہاں ٹیکٹونک پلیٹیں بہت زیادہ متحرک ہیں۔ساحلی علاقوں کے حوالے سے صادقہ خان کہتی ہیں کہ ساحلی علاقوں میں اگر 6 شدت سے زیادہ کا زلزلہ آئے تو فوراً ہی سونامی الرٹ جاری کر دیا جاتا ہے، کیونکہ ان علاقوں میں عموماً جو زلزلے آتے ہیں ان کا مرکز سمندر میں انتہائی گہرائی میں ہوتا ہے؛ اور چونکہ سمندر میں بہت گہرائی میں ہونے والی زمینی حرکات پر اب تک بہت زیادہ تحقیقات نہیں کی گئیں، اس لیے ساحلی علاقوں میں شدید زلزلے سے سونامی بڑی تباہی مچاتی ہے۔

اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کےلیے انہوں نے مارچ 2011ء میں مشرقی جاپان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 9 شدت کا زلزلے کے بعد سونامی نے شدید تباہی مچائی، کیونکہ آبادی ساحلِ سمندر سے زیادہ دور نہیں تھی اور تعمیرات کےلیے جو قوانین (بلڈنگ کوڈز) مرتب کیے گئے تھے، ان میں زیادہ سے زیادہ 5 شدت کا زلزلہ بتایا گیا تھا۔
بحیرہ عرب میں ایک ایسا ہی سب ڈکشن زون واقع ہے جو ’’مکران ٹرینچ‘‘ کہلاتا ہے۔ برطانیہ کی ساؤتھ ایمپٹن یونیورسٹی اور پیسفک جیو سائنس سینٹر کینیڈا کے ماہرین ارضیات نےایک ماہ تک مکران ٹرینچ کا جدید آلات کے ذریعے مطالعہ کیا تھا۔ اس ٹیم کی قیادت کرنے والی ڈاکٹر گیما اسمتھ نے اپنے مقالے میں لکھا کہ مکران ٹرینچ میں 350 کلومیٹر طویل ایسا علاقہ ہے جہاں مستقبل میں 8.2 تا 9.2 شدت کا زلزلہ آسکتا ہے۔
ماہرین بار بار خبردار کررہے ہیں کہ مکران کے ساحلی علاقے سونامی کی ہٹ لسٹ پر ہیں۔ کسی بھی بڑے زلزلے کے نتیجے میں یہاں سونامی کا خطرہ ہے اور سونامی سے اپنے آپ کو بچانے کےلیے کسی بھی آدمی کے پاس محض 30 منٹ ہوتے ہیں جبکہ مکران کے ساحلی علاقوں میں زیادہ تر آبادی سمندر کے کنارے موجود ہے۔ ایسی کسی ناگہانی صورت میں ان کےلیے یہ ممکن نہیں ہوگا کہ وہ سونامی سے محفوظ علاقوں کا رخ کرسکیں۔
جیسا کہ اوپر بتایا جاچکا ہے، چند سال پہلے یو این ڈی پی نے مکران کے ساحلی علاقوں میں سونامی سے بچاؤ کے حوالے سے آگہی مہم کے ایک پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو سونامی سے بچاؤ کے احتیاطی تدابیر سے آگاہ کیا تھا۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ لوگ ان چیزوں کو بھول جاتے ہیں یا سونامی کو قدرتی آفت سمجھ کر اداروں کی پیش گوئیوں پر اعتبار تک نہیں کرتے۔ پھر یہ بھی ہے کہ مکران کے ساحلی خطّوں میں مقیم زیادہ تر لوگ اس حقیقت کو بھی نہیں جانتے کہ وہ ایک سونامی ہٹ زون میں رہ رہے ہیں اور کسی بھی وقت سونامی کی خوفناک لہروں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ سب سے بڑی خطرناک بات یہ ہے کہ ساحل سے چند میٹر کے فاصلے پر رہنے والے زیادہ افراد زلزلے اور سونامی سے بچنے کی احتیاطی تدابیر سے ناواقف ہیں۔
2005ء میں اقوام متحدہ کے تعاون سے بحر ہند اور اس کے آس پاس واقع ممالک نے سونامی کی پیش گوئی اطلاع دینے والا نظام قائم کرلیا جس کے ذریعے بحر ہند کے 25 ساحلی شہروں میں سیسموگرافک اسٹیشن کے ذریعے وہاں 24 گھنٹے زلزلوں پر نظر رکھی جاتی ہے۔
اس نظام سے منسلک ممالک ہر دو سال بعد ’’انڈین اوشن ویو‘‘ کے نام سے مشق کرتے ہیں جس کا بنیادی مقصد اس نظام کی خرابیاں سامنے لاکر یہ جاننے کی کوشش کرنا ہے کہ سونامی کی صورت میں یہ ممالک خوفناک آفت سے کس طرح نمٹ سکیں گے۔ 2014ء میں ہونے والی اسی سلسلے کی ایک مشق میں دو مقامات یعنی انڈونیشیا کے شہر جنوبی جاوا اور پاکستان کے ساحلی شہر گوادر میں 9.0 شدت کے فرضی سمندری زلزلوں سے پیدا ہونے والی فرضی سونامی کی صورت میں مقامی اداروں کی انفرادی کارکردگی اور باہمی تعاون جیسے امور کا جائزہ لیا گیا۔
اس مقصد کےلیے انجام دی گئی کمپیوٹر سمیولیشن سے پتا چلا کہ اگر بحیرہ عرب میں مکران ٹرینچ کے آس پاس 9.0 شدت کا زلزلہ آیا تو اس سے اٹھنے والی سونامی جب گوادر اور دوسرے نواحی ساحلی علاقوں سے ٹکرائے گی تو اس کی اونچائی 100 فٹ تک ہوسکتی ہے۔ اس سے قدرتی طور پر ان علاقوں میں زیادہ تبائی پھیلے گی جو زلزلہ آنے کی جگہ کے قریب ہوں گے، جن میں گوادر اور مکران سمیت، بلوچستان کی ساحلی پٹی کا وسیع علاقہ شامل ہے۔ لہذا ضروری ہے کہ ان علاقوں میں رہائشی افراد کو پہلے سے ممکنہ خطرے سے آگاہ کرکے انہیں مناسب تربیت دی جائے کہ سونامی سے کس طرح بچنا ہے؛ اور ممکن ہو تو ساحل سے انتہائی قریبی آبادی کو دوسری جگہ منتقل کیا جائے۔(بشکریہ اکسپریس نیوز)

ظریف بلوچ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں