201

ملک میں کورونا کے مزید 8 مریض جاں بحق، کیسز کی تعداد 7638 تک پہنچ گئی

اسلام آباد: ملک بھر میں کورونا وائرس کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 7638 تک پہنچ گئی جب کہ جاں بحق افراد کی تعداد 143 ہوگئی ہے۔

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی کورونا کے وار جاری ہیں، نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 157 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد ملک بھر میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 7638 ہوگئی۔
اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں کورونا وائرس کے سب سے زیادہ 3410 کیسز رپورٹ ہوئے۔ سندھ میں 2355، خیبر پختونخوا 1077، بلوچستان 335، اسلام آباد میں 163 جب کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں 48 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کا شکار 8 افراد دم توڑ گئے۔ خیبرپختونخوا میں کورونا سے سب سے زیادہ 50 اموات ہوئیں، سندھ میں 47، پنجاب میں 37، بلوچستان میں 5 ، گلگت بلتستان میں 3 جب کہ اسلام آباد میں کورونا کا ایک مریض جاں بحق ہوا۔

کورونا صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس سے تبدیلی آئی ہے، کورونا سے جو صورت حال ہے اس کی پہلے مثال نہیں ملتی، ایسے حالات کا سامنا کررہے ہیں جو پہلے نہ تھے۔ پاکستان میں کورونا وائرس سے حالات بدل رہے ہیں، نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی طرف سے روزانہ کی بنیاد پر صورت حال سے آگا ہ کیا جاتا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پہلے یہ اندازہ تھا کہ 25 اپریل تک 50 ہزار مریض ہوں گے لیکن اللہ کا شکر ہے بڑے نقصان سے بچ گئے ہیں، اس ماہ ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہوگی تمام تیاری مکمل ہے، ہمارے اسپتالوں میں سہولیات موجود ہیں، مئی کے مہینے تک ہم کورونا سے لڑنے کے لئے مزید تیاری کرلیں گے، اندازہ ہے کہ 15 سے 20 مئی تک کیس بڑھیں گے اور اسپتالوں پر دباؤ بڑھے گا۔

صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی کا کہنا ہے کہ کورونا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے رمضان میں احتیاطی تدابیر ضروری ہیں۔ امید کرتا ہوں کہ مساجد میں احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں گی۔

بلوچستان حکومت نے کورونا وائرس کے پیش نظر صوبے بھر میں شہریوں کو ناک اور منہ ڈھانپنا لازمی قرار دے دیا ہے۔
بھارت سے 2 روز قبل واپس آنے والے 41 پاکستانیوں میں سے 2 خواتین کے کورونا ٹیسٹ مثبت آئے ہیں جس کے بعد انہیں ایکسپو سینٹر قرنطینہ منتقل کردیا گیا ہے۔

کورونا وائرس کے خلاف یہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے اس وباء کے خلاف جنگ جیتنا آسان ہوسکتا ہے۔ صبح کا کچھ وقت دھوپ میں گزارنا چاہیے، کمروں کو بند کرکے نہ بیٹھیں بلکہ دروازہ کھڑکیاں کھول دیں اور ہلکی دھوپ کو کمروں میں آنے دیں۔ بند کمروں میں اے سی چلاکر بیٹھنے کے بجائے پنکھے کی ہوا میں بیٹھیں۔

سورج کی شعاعوں میں موجود یو وی شعاعیں وائرس کی بیرونی ساخت پر اُبھری ہوئی پروٹین کو متاثر کرتی ہیں اور وائرس کو کمزور کردیتی ہیں۔ درجہ حرارت یا گرمی کے زیادہ ہونے سے وائرس پر کوئی اثر نہیں ہوتا لیکن یو وی شعاعوں کے زیادہ پڑنے سے وائرس کمزور ہوجاتا ہے۔

پانی گرم کرکے تھرماس میں رکھ لیں اور ہر ایک گھنٹے بعد آدھا کپ نیم گرم پانی نوش کریں۔ وائرس سب سے پہلے گلے میں انفیکشن کرتا ہے اور وہاں سے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتا ہے، گرم پانی کے استعمال سے وائرس گلے سے معدے میں چلا جاتا ہے، جہاں وائرس ناکارہ ہوجاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں