232

ملک میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 5988 ہوگئی، 107 افراد جاں بحق

اسلام آباد: ملک بھر میں مہلک کورونا وائرس کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 5988 ہوگئی جب کہ 107 افراد اب تک جاں بحق ہوچکے ہیں۔

وفاقی وزارت صحت کے نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق گزشہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 3280 مشتبہ مریضوں کے ٹیسٹ ہوئے جن میں سے 272 میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی۔ جس کے بعد ملک بھر میں مصدقہ مریضوں کی تعداد بڑھ کر 5 ہزار 988 ہوگئی ہے۔
گذشتہ 24 گھنٹے میں مزید 11 افراد کورونا وائرس سے ہلاک ہوگئے جس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 107 ہوگئی ہے جبکہ متعدد افراد کی حالت تشویش ناک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں سب سے زیادہ کورونا کے مریض پنجاب میں ہیں جہاں مریضوں کی تعداد 2945 ہے۔ سندھ 1518، خیبرپختونخوا 865، بلوچستان میں 240، گلگت بلتستان 234، اسلام آباد 140 اور آزاد کشمیر میں 46 کیسز رپورٹ ہوئے۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق کورونا کے باعث سب سے زیادہ جانی نقصان خیبر پختونخوا میں ہوا ہے جہاں 38 مریض اس وائرس کے ہاتھوں زندگی کی بازی ہار گئے ہیں۔ سندھ میں 35، پنجاب میں 28، گلگت بلتستان میں 3، بلوچستان میں 2 اور اسلام آباد میں ایک مریض جاں بحق ہوگیا۔

وفاقی حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن میں توسیع کے ساتھ ساتھ کچھ نرمی کیے جانے کے بعد ملک بھر میں چند مخصوص دکانیں اور کاروبار کھل گئے۔

ان میں الیکٹریشن، پلمبر، حجام، بڑھئی، درزی، پرچون اسٹورز، بیکریز ،آٹا چکی، ڈیری شاپس ،چکن اینڈ گوشت ،مچھلی ،فروٹس، سبزیاں ،تندور ،آٹو ورکشاپس ،ٹائر پنکچرز ،اسپیئر پارٹس کی دکانیں شامل ہیں۔ انہیں صبح 9 سے شام 5 بجے تک کام کی اجازت ہوگی۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اگلے 2 ہفتے لاک ڈاؤن مزید سخت کرنے کا اعلان کردیا۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ عوام کی زندگی کے بارے میں سوچنے کا وقت ہے۔

دنیا بھر میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز کرگئی جب کہ ایک لاکھ 26 ہزار 782 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، تاہم 4لاکھ 66 ہزار 948 مریض صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔

دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثر اور جاں بحق ہونے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ہر جگہ ہی لوگوں کو اس مہلک وائرس سے بچانے کے لیے حفاظتی اقدام کیے جا رہے ہیں، بیش تر ممالک میں لوگوں کو گھروں تک محدود کردیا گیا ہے، لیکن وہیں کچھ افراد کورونا کے شکار افراد کے علاج معالجے کے لیے صف اول میں موجود ہیں اور خطرات کی پروا کیے بغیر اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ اس محاذ پر موجود بہت سے سپوت اپنی جان کی بازی بھی ہار رہے ہیں۔ حال ہی میں کورونا وائرس پر اپنی زندگی وارنے والے ڈاکٹر عبدالقادر بھی اس فہرست میں شامل ہوگئے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالقادر سومرو ’الخدمت‘ اسپتال تھر پارکر میں میڈیکل سپریٹنڈنٹ کی حیثیت سے اپنے فرائض سر انجام دے رہے تھے۔ اس سے پہلے گلگت بلتستان کے بھی ایک ڈاکٹر کورونا وائرس کی وجہ سے انتقال کر گئے تھے۔

کورونا وائرس کے خلاف احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے اس وباء کے خلاف جنگ جیتنا آسان ہوسکتا ہے۔ صبح کا کچھ وقت دھوپ میں گزارنا چاہیے، کمروں کو بند کرکے نہ بیٹھیں بلکہ دروازہ کھڑکیاں کھول دیں اور ہلکی دھوپ کو کمروں میں آنے دیں۔ بند کمروں میں اے سی چلاکر بیٹھنے کے بجائے پنکھے کی ہوا میں بیٹھیں۔

سورج کی شعاعوں میں موجود یو وی شعاعیں وائرس کی بیرونی ساخت پر اُبھری ہوئی پروٹین کو متاثر کرتی ہیں اور وائرس کو کمزور کردیتی ہیں۔ درجہ حرارت یا گرمی کے زیادہ ہونے سے وائرس پر کوئی اثر نہیں ہوتا لیکن یو وی شعاعوں کے زیادہ پڑنے سے وائرس کمزور ہوجاتا ہے۔

پانی گرم کرکے تھرماس میں رکھ لیں اور ہر ایک گھنٹے بعد آدھا کپ نیم گرم پانی نوش کریں۔ وائرس سب سے پہلے گلے میں انفیکشن کرتا ہے اور وہاں سے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتا ہے، گرم پانی کے استعمال سے وائرس گلے سے معدے میں چلا جاتا ہے، جہاں وائرس ناکارہ ہوجاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں