211

ملک میں کورونا کے مجموعی کیسز کی تعداد 11155 ہوگئی، 237 جاں بحق

ملک بھر میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد بڑھ کر 11 ہزار 155 ہوگئی ہے جب کہ یہ وائرس اب تک 237 افراد کی جان لے چکا ہے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق کورونا کے 642 نئے کیسز کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد کورونا کے مجموعی کیسز بڑھ کر 11 ہزار 155 تک جا پہنچی ہے جب کہ فعال مریضوں کی تعداد 8 ہزار391 ہے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں کورونا سے مزید 13 افراد لقمہ اجل بن گئے جس کے بعد اس وائرس سے جاں بحق افراد کی تعداد 237 ہوگئی، خیبر پختونخوا میں کورونا سے اموات کی تعداد 85 ہوگئی، سندھ میں 73 ،پنجاب 65، بلوچستان 8 جب کہ بلوچستان اور گلگت بلتستان میں 3 ، 3 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔

اب تک ملک بھر میں کورونا کے ایک لاکھ 31 ہزار 365 ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں جن میں سے کورونا کے مثبت کیسز کی تعداد 11155 ہے، پاکستان میں اب تک 2 ہزار 527 مریض صحت یاب ہوگئے اس طرح فعال مریضوں کی تعداد 8 ہزار391 ہے۔
ملک میں کورونا کے مریضوں کی سب سے زیادہ تعداد پنجاب میں ہے جہاں مصدقہ کیسز کی تعداد 4 ہزار 767 ہے۔ سندھ میں 3671، خیبرپختونخوا میں 1541 جب کہ بلوچستان میں 607 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ گلگت بلتستان میں کورونا کا شکار افراد کی تعداد 300، اسلام آباد میں214 اور آزاد کشمیر میں 55 ہے۔

سندھ حکومت نے رمضان المبارک کے لیے ضابطہ کار تیار کرلیا ہے جس کے تحت مساجد میں نماز تراویح محدود ہوگی اور سڑکوں پر سحری اور افطار کے لئے دستر خوان لگانا ممنوع ہوگا۔
کورونا نے ایک اور رکن سندھ اسمبلی کو شکار بنالیا ہے اور اب ایم ایم اے کے واحد رکن عبدالرشید میں اس کی تصدیق ہوئی ہے۔

حکومت کی جانب سے کورونا وباء کے تناظر میں شروع کئے گئے احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے تحت ملک بھر کے 57 لاکھ 40 ہزار457 مستحق خاندانوں میں 68 ارب 88کروڑ 54 لاکھ 84 ہزار روپے کی امدادی رقم تقسیم کی جاچکی ہے۔
حکومت نے رمضان المبارک کے دوران کورونا سے بچنے کے لیے عبادات سمیت مختلف شعبوں کے لیے احتیاطی تدابیر پر مشتمل رہنما اصول جاری کردیے ہیں۔ جس کے تحت مساجد میں 50 سال سے زیادہ عمر کے افراد اور بچوں کی اجازت نہیں ہوگی، رمضان المبارک کے دوران مساجد کا رخ کرنے والوں کے لیے گھر سے وضو کرکے آنا، باجماعت نماز اور تراویح کے لیے صفوں کے درمیان چھ فٹ کا فاصلہ رکھنا، سحر و افطار کے اجتماعات نہیں ہوں، قالین یا چٹائی اٹھا کر فرش کو باقاعدگی سے کلورینٹڈ پانی سے دھونا ہوگا۔ اعتکاف کے خواہش مند گھر پر ہی اعتکاف بیٹھیں گے۔

کورونا وائرس اور احتیاطی تدابیر:
کورونا وائرس کے خلاف یہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے اس وبا کے خلاف جنگ جیتنا آسان ہوسکتا ہے۔ صبح کا کچھ وقت دھوپ میں گزارنا چاہیے، کمروں کو بند کرکے نہ بیٹھیں بلکہ دروازہ کھڑکیاں کھول دیں اور ہلکی دھوپ کو کمروں میں آنے دیں۔ بند کمروں میں اے سی چلاکر بیٹھنے کے بجائے پنکھے کی ہوا میں بیٹھیں۔
سورج کی شعاعوں میں موجود یو وی شعاعیں وائرس کی بیرونی ساخت پر اُبھری ہوئی پروٹین کو متاثر کرتی ہیں اور وائرس کو کمزور کردیتی ہیں۔ درجہ حرارت یا گرمی کے زیادہ ہونے سے وائرس پر کوئی اثر نہیں ہوتا لیکن یو وی شعاعوں کے زیادہ پڑنے سے وائرس کمزور ہوجاتا ہے۔

پانی گرم کرکے تھرماس میں رکھ لیں اور ہر ایک گھنٹے بعد آدھا کپ نیم گرم پانی نوش کریں۔ وائرس سب سے پہلے گلے میں انفیکشن کرتا ہے اور وہاں سے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتا ہے، گرم پانی کے استعمال سے وائرس گلے سے معدے میں چلا جاتا ہے، جہاں وائرس ناکارہ ہوجاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں