233

ملک میں کورونا مریضوں کی تعداد 5170 ہوگئی، 88 افراد جاں بحق

ویب ڈیسک
پاکستان میں کورونا وائرس سے مزید دو افراد جاں بحق ہو گئے جس کے بعد ملک میں اموات کی مجموعی 88 ہو گئی جب کہ نئے کیسز سامنے آنے کے مریضوں کی تعداد 5170 تک پہنچ گئی ہے۔
گزشتہ روز کورونا وائرس کے حوالے سے پاکستان کے لیے انتہائی ہولناک دن رہا، ایک ہی دن میں 15 اموات اور 244 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔
پاکستان میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 88 ہوگئی ہے۔ ملک بھر میں اب تک ہونے والی 88 ہلاکتوں میں سے سندھ میں 30 ہلاکتیں ہو چکی ہیں جب کہ خیبرپختونخوا میں 31 اور پنجاب میں 21 اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔اس کے علاوہ گلگت بلتستان میں 3، بلوچستان 2 اور اسلام آباد میں ایک ہلاکت ہوئی ہے.

اتوار کی صورت حال،اب تک کورونا وائرس کے باعث 2 افراد جاں بحق اور 134 نئے کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔
سندھ میں 93، پنجاب میں 39 جب کہ اسلام آباد اورآزاد کشمیر میں ایک ایک کیس رپورٹ ہوا ہے، نئے کیسز سامنے آنے کے بعد ملک میں متاثرہ افراد کی تعداد 5170 ہو گئی ہے۔

سندھ میں کورونا وائرس کے باعث مزید دو افراد جان کی بازی ہار گئے جس کے بعد صوبے میں جاں بحق افراد کی تعداد 30 ہو گئی ہے جب کہ مزید 93 افراد کے کورونا ٹیسٹ مثبت آئے ہیں جس کے بعد صوبے میں متاثرہ افراد کی تعداد 1411 ہو گئی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر مرتضیٰ وہاب کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں 2 ہلاکتوں اور93 کیسز کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا گیا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 18 افراد صحتیاب ہو کر گھروں کو بھی جا چکے ہیں۔
مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ اب تک 389 افراد صحت یاب ہو کر اپنے گھروں کو جا چکے ہیں۔ سندھ میں گزشتہ روز بھی 6 ہلاکتیں اور 104 کیسز رپورٹ ہوئے تھے جس پر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے تشویش کا اظہار کیا تھا۔

پنجاب پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق صوبے میں مزید 39 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد متاثرہ مریضوں کی مجموعی تعداد 2464 ہو گئی ہے۔

پنجاب میں ہفتے کے روز بھی کورونا وائرس کے 89 کیسزاور3 ہلاکتیں سامنے آئی تھیں، صوبے میں وائرس سے اموات کی تعداد 21 ہے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے اپنے سوشل میڈیا بیان کے ذریعے بتایا کہ جہاں پاکستان کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں مصروف ہے وہیں ڈی جی خان سے ایک اچھی خبر بھی ہے۔
عثمان بزدار نے بتایا کہ 775 زائرین بشمول 175 وہ جن کے ابتدائی ٹیسٹ مثبت آئے تھے مکمل طور پر صحت یاب ہو کر اپنے گھروں کو جا چکے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ڈی جی خان قرنطینہ مرکز میں صرف 74 زائرین باقی رہ گئے ہیں جن کا ہر طرح سے خیال رکھا جا رہا ہے۔
اس کے علاوہ پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی کورونا وائرس سے متاثرہ 39 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔

آزاد کشمیر میں کورونا وائرس کا ایک کیس سامنے آیا ہے جس کی تصدیق نیشنل کمانڈ سینٹر نے کی ہے۔ نیا کیس سامنے آنے کے بعد آزاد کشمیر میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 135 ہو گئی ہے۔
گزشتہ روز بھی آزاد کشمیر میں ایک 4 سال کی بچی میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی جس کی تصدیق وزیر صحت نے کی تھی۔
واضح رہے کہ آزاد کشمیر میں بھی کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے 24 مارچ سے تین ہفتوں کے لیے لاک ڈاؤن ہے۔

خیبر پختونخوا میں ہفتے کو 41 نئے کیسز اور 6 ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں جس کے بعد صوبے میں کورونا کے مریضوں کی مجموعی تعداد 697 اور ہلاکتیں 31 ہوگئی ہیں۔ صوبائی وزیر صحت تیمور خان جھگڑا نے بھی کے پی میں ہلاکتوں اور نئے کیسز کی تصدیق کی۔
تیمور خان نے بتایا کہ صوبے میں اب تک 142 افراد کورونا وائرس سے صحت یاب ہوچکے ہیں۔

گزشتہ روز بلوچستان میں بھی مزید 8 نئے کیسز سامنے آئے جس کے بعد صوبے میں کیسز کی مجموعی تعداد 228 ہوگئی ہے۔
ترجمان صوبائی حکومت لیاقت شاہوانی نے بتایا کہ بلوچستان میں اب تک کورونا سے 2 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جب کہ اب تک 95 متاثرہ افراد صحت یاب بھی ہوچکے ہیں۔

وفاقی دارالحکومت میں اتوار کے روز ایک نیا کیس رپورٹ ہوا ہے جس کے بعد اسلام آباد میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 119 ہو گئی ہے۔

جمعے اور ہفتے کو اسلام آباد میں کورونا وائرس کا کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا تھا البتہ جمعرات کو کورونا کے 35 کیسز سامنے آئے تھے۔ وفاقی دارالحکومت میں اب تک کورونا سے ایک مریض کا انتقال ہوا ہے۔

گلگت بلتستان میں ہفتے کے روز کورونا کا ایک کیس سامنے آیا جس کے بعد علاقے میں کیسز کی مجموعی تعداد 216 ہو گئی ہے۔
گلگت میں مہلک وائرس سے متاثرہ 146 مریض صحت یاب بھی ہوچکے ہیں جب کہ 3 افراد وفات پاچکے ہیں۔

خیال رہےکہ گلگت بلتستان میں اب تک کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں میں وائرس کی تشخیص کرنے والے ڈاکٹر اسامہ بھی شامل ہیں۔

دنیا میں کتنی اقسام کے کورونا وائرس موجود ہیں؟
لفظ “کورونا”، وائرسز کے اس وسیع خاندان کے لیے استعمال ہوتا ہے جو پرندوں اور انسانوں سمیت ممالیہ کو متاثر کرتا ہے۔ دنیا کو اس وقت جس نئےکورونا وائرس کا سامنا ہے وہ “کووِڈ 19” کہلاتا ہے جو کہ پہلی مرتبہ دسمبر 2019 میں چین میں سامنے آیا۔ مزید پڑھیں۔۔

کورونا وائرس جاندار نہیں لہٰذا اسے مارا نہیں جاسکتا
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق کورونا وائرسز ایک سے زائد وائرس کا خاندان ہے جو عام سردی سے لے کر زیادہ سنگین نوعیت کی بیماریوں، جیسے مڈل ایسٹ ریسپائریٹری سنڈروم (مرس) اور سیویئر ایکیوٹ ریسپائریٹری سنڈروم (سارس) جیسے امراض کی وجہ بن سکتا ہے۔

‘سورج کی شعاع کورونا وائرس کے خاتمے میں مدد گار ہوسکتی ہیں’
برطانیہ کے امپیریل کالج کے ایمونالوجسٹ پروفیسر پیٹر اوپن شاء نے کہا ہے کہ کچھ دیر دھوپ میں بیٹھنا کورونا وائرس کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ کورونا وائرس پر کی جانے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ یہ مہلک وائرس اسٹیل اور پلاسٹ کی تہوں پر چار دن جب کہ فیس ماسک پر ایک ہفتے تک موجود رہ سکتا ہے۔

پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں مسلسل اضافے کے بعد ملک بھر میں 23 مارچ سے جاری لاک ڈاؤن میں 14 اپریل تک توسیع کردی گئی ہے۔

وزارت ریلوے نے 24 مارچ کی رات 12 بجے سے ملک بھر میں ٹرین آپریشن معطل کر رکھا ہے جو پہلے 31 مارچ تک بند رکھا گیا لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن میں 14 اپریل کی توسیع تک ٹرین آپریشن بھی معطل رہے گا۔
حکومت نے اندرونِ ملک اور بین الاقوامی پروازوں پر عائد پابندی میں 21 اپریل تک توسیع کردی ہے۔
ترجمان ایوی ایشن ڈویژن کے مطابق پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی نے پابندی میں توسیع کا نوٹم جاری کردیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں