170

مفتی محمد نعیم والد کے پہلو میں سپردخاک

کراچی: ممتاز عالم دین اور جامعہ بنوریہ عالمیہ کے رئیس وشیخ الحدیث مولانا مفتی محمد نعیم کی نماز جنازہ اور تدفین جامعہ بنوریہ سائٹ ایریا میں ہوئی جب کہ نماز جنازہ میں شہر کے اکابر علما، عمائدین، شاگردوں، عقیدت مندوں اور دیگر ہزاروں افراد نے شرکت کی۔
شیخ الحدیث مفتی محمد نعیم کا انتقال ہفتے کو کراچی میں ہوا تھا، ان کی نماز جنازہ اتوار کو بعد نماز عصر جامعہ بنوریہ عالمیہ کے سامنے مین روڈ پر اداکی گئی اور تدفین جامعہ کے قبرستان میں ان کے والد قاری عبدالحلیم کے پہلو میں کی گئی۔
نماز جنازہ میں وفاق المدار س العرابیہ کے ناظم اعلی قاری محمد حنیف جالندھری، ڈاکٹر محمد عادل خان، مولانا عبید اللہ خالد، جامعہ اشرف المدارس کے مہتمم مولانا حکیم مظہر، جامعہ دارالعلوم کراچی مولانا عمران اشرف عثمانی، جامعہ دارالعلوم صفہ کے قاری حق نواز، مفتی محمد زبیر، مولانا تنویر الحق تھانوی، بیت السلام کے مولانا عبدالستار، جمعیت علمائے اسلام کے مولانا راشد محمود سومرو، قاری محمد عثمان، ناصر محمود سومرو، مولانا حماداللہ مدنی، حافظ احمد علی، جماعت اسلامی کے مرکزی نائب امیر ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی، کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن، ایم کیوایم کے سابق سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار، ٹاؤن ناظم اظہار الدین، تحریک انصاف کے رکن سندھ اسمبلی ڈاکٹر سعید آفریدی اور دیگر نے شرکت کی ۔ شیعہ عالم علامہ طرار نقوی جبکہ نماز جنازہ سے قبل مختلف علمائے کرام نے شیخ الحدیث کی دینی علمی اور ملی خدمات کو سراہا۔
مفتی محمد نعیم کے فرزند مفتی محمد نعمان نعیم نے کہاکہ آج کا دن میرے لیے انتہائی دکھ اور تکلیف کا ہے ، میرے والدآج اس دنیا سے چلے گئے ہیں۔
صدر جناب عارف علوی نے شیخ الحدیث مفتی محمد نعیم کے صاحبزادے مولانا نعمان نعیم سے فون پر تعزیت کی جبکہ معروف عالم دین ومبلغ مولانا طارق جمیل نے بھی فون پر اہلخانہ اور دیگر لواحقین سے تعزیت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں