248

لاک ڈاون کے بغیر کورونا کا مقابلہ ممکن؟

تحریر:عمران ملک

کورونا وائرس نے پوری دنیا کو مفلوج کر دیا ہے، امریکا کے بعد یورپ مجموعی طور پر اس وبا سے شدید متاثر ہوا ہے۔ اٹلی، سپین، جرمنی، فرانس اور بیلجیئم میں طویل اور سخت ترین لاک ڈاؤن کے باوجود ابھی تک کورونا کے پھیلاؤ پر قابو نہیں پایا جاسکا۔ دنیا بھر میں جہاں ہر ملک لاک ڈاؤن کی حکمت عمل اپنانے پر مجبور ہے وہاں سویڈن ایسا یورپی ملک ہے جو بغیر لاک ڈاؤن کئے کورونا وائرس کا مقابلہ کر رہا ہے اور اس میں کسی حد تک کامیاب بھی نظر آتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس پالیسی پر سویڈش حکومت کو ملک کے اندر اور باہر شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا مگر اب اس اقدام کو عوام کی اکثریت کی حمایت بھی حاصل ہوتی جا رہی ہے، اس کا اندازہ ایسے لگایا جاسکتا ہے کہ وزیراعظم ٹیفن لوفن کی مقبولیت چند ہفتوں میں 25 فیصد سے بڑھ کر 50 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ سویڈن میں اب تک 12 ہزار افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے اور تقریباً 1200 اموات ہو چکی ہیں۔ متاثرہ افراد میں 9 ہزار سے زائد کی عمر 50 سال سے زیادہ ہے جبکہ مرنے والوں میں 80 فیصد کی عمریں 60 سے 90 سال کے درمیان تھیں۔ مرنے والوں کی اکثریت پہلے سے مختلف بیماریوں کا شکار تھی۔ سویڈن کے ہمسایہ ممالک ناروے اور ڈنمارک کے مقابلے میں شرح اموات زیادہ ہونے کے باوجود سویڈن نے اپنی سرحدیں بند کی ہیں اور نہ ہی ملک میں لاک ڈاؤن کیا ہے۔ صرف کالج اور یونیورسٹیوں کو بند کیا گیا ہے البتہ سکول اور ڈے کیئرز کھلے ہیں، شاپنگ مالز، سپر مارکیٹس، دفاتر اور تمام کاروباری سرگرمیاں جاری ہیں، لوگ روزمرہ کی خریداری معمول کے مطابق کر رہے ہیں۔

حکام کی جانب سے کسی بھی ایونٹ کے لئے پچاس سے زیادہ افراد کے جمع ہونے پر پابندی عائد کی گئی ہے، ملک میں کہیں بھی ہنگامی صورتحال ہے نہ ہی عام لوگوں میں کسی طرح کی بے چینی پائی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ وائرس کے شدید خطرات کے باوجود سویڈن میں باقاعدہ لاک ڈاؤن کیوں نہیں کیا گیا، حکومت اور عام شہری اتنے پراعتماد کیوں ہیں؟

اس کا سبب جاننے کیلئے سویڈن کے سماجی نظام کو سمجھنا ضروری ہے۔ سویڈن کی کل آبا دی تقریباً ایک کروڑ ہے جس میں سے ایک چوتھائی حصہ دارالحکومت سٹاک ہوم او ر اسکے آس پاس آباد ہے۔ بائیس فیصد آبادی پینسٹھ سال یا اس سے زائد عمر کے افراد پر مشتمل ہے جس کی اکثریت اولڈ ہومز میں رہتی ہے اور یہی اصل میں کورونا سے متاثرہ طبقہ ہے۔ سویڈن کی بیس فیصد آباد سنگل ہاؤس ہولڈ یعنی اکیلے رہنے والے لوگوں کی ہے جن کا میل جول نہایت کم ہے۔ ملک میں کام کرنے والوں میں تقریباً آدھے لوگ پہلے سے ہی گھروں سے کام کرنے کے عادی ہیں، دفاتر یا فیلڈ میں کام کرنیوالے بھی کام کے بعد گھروں میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں. سوشل لائف ویک اینڈ تک محدود ہے۔ کسی طرح کی نقل وحرکت پر پابندی نہیں، مگر زیادہ تر لوگ سیلف کیئر کے اصول پر عمل کرتے ہوئے سفر سے گریز کر رہے ہیں اور اپنے علاقوں تک ہی محدود ہیں جس کے باعث اندرون ملک ٹرینوں اور بسوں میں سفر کرنیوالوں کی تعداد میں پچاس فیصد سے زیادہ کمی آچکی ہے۔ سویڈن کا ہیلتھ کیئر کا نظام دنیا میں بہترین مانا جاتا ہے۔

سویڈن کی پبلک ہیلتھ ایجنسی صحت سے متعلقہ تمام امور کی ذمہ دار ہےجس کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پرعوام کو تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کرنے کے ساتھ حکومتی اقدامات کے حوالے سے اعتماد میں لیا جا رہا ہے۔ ہیلتھ اتھارٹیز کی جانب سے کورونا کی وبا سے نمٹنے کیلئے پیشگی انتظامات کئے گئے تھے۔ عام لوگوں کو انتہائی ایمرجنسی کے علاوہ ہسپتال آنے سے منع کر دیا گیا۔ ہیلتھ سٹاف کی ممکنہ کمی کا بھی زبردست حل نکالا گیا۔ سکینڈے نیوین ایئرلائن کا تربیت یافتہ فلائٹ سٹاف جو فضائی آپریشن بند ہونے کی وجہ سے فارغ تھا، اسے فوری طور پر سپورٹنگ ہیلتھ سٹاف میں شامل کر لیا گیا۔ سویڈش آرمی کی مدد سے فیلڈ ہاسپٹلز قائم کئے گئے ہیں۔

سویڈن میں مقامی حکومتوں کا بھی جدید نظام موجود ہے۔ ہر شہر یا بلدیہ کو کمیون کہا جاتا یے او تمام کمیونز میں ہیلتھ کا ایک مربوط نظام کام کر رہا ہے۔ جس کی بدولت شہروں میں وبا کا خوف بھی باقی ملکوں کی نسبت کم ہے۔ سویڈن میں مخلوط حکومت ہونے کے باوجود اپوزیشن اور میڈیا مکمل لاک ڈاؤن جیسے اقدامات کے خلا ف حکومتی پالیسی کے حامی نظر آ رہے ہیں۔ سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ سویڈن میں عوام کا حکومت ا ور صحت سے متعلقہ اداروں پر اعتماد کافی مضبوط یے۔ لہذا وبا کے دنوں میں حکام کی جانب سے دی گئی اطلاعات پر مکمل بھروسہ کیا جارہا ہے، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سویڈن میں حکومت سیاستدان نہیں، ماہرین چلاتے ہیں۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

(بشکریہ دنیا)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں