250

قومی اسمبلی؛ حکومت اور اپوزیشن کی کورونا اور اسٹیل ملز نجکاری پر ایک دوسرے پر تنقید

اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے ملک میں کورونا کی صورتحال، پیٹرول بحران اور اسٹیل ملز کی نجکاری پر ایک دوسرے پر الزامات کی بارش کردی گئی۔
ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی سربراہی میں قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں ارکان نے آئندہ بجٹ اور ملک میں کورونا کی صورت حال پر اظہار خیال کیا۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے اظہار خیال کیا کہ کورونا سے متعلق وفاقی وزرا اور خود وزیراعظم کے بیانات واضح نہیں تھے، 17مارچ کو وزیراعظم نے کہا کہ کورونا عام سا فلو ہے آئے گا چلا جائے گا، پھر کہا کہ ملک لاک ڈاوَن کا متحمل نہیں ہو سکتا لوگ بھوکے مر جائیں گے، اپریل میں کہا کہ خوش خبری دیتا ہوں کہ جیسی امید تھی کورونا کا ویسا پرزور نہیں تھا، وزیراعظم نے لاک ڈاوَن سے متعلق بھی مختلف بیانات دیئے ہیں،یکم جون کو وزیراعظم نے کہا میں جیسا چاہتاتھا ویسا لاک ڈاؤن نہیں ہوا، 4 جون کو وزیراعظم نے کہا کہ لاک ڈاؤن کھلا تو وائرس اور پھیلے گا، وزیراعظم کے ان تمام بیانات کی کوئی تشریح کردے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ عید پر بازاروں اور مارکیٹوں میں رش لگایا گیا،خدا کے لیے اس وبا پر ووٹوں کی سیاست نہ کریں، یہ ووٹوں کی سیاست ہمیں لے بیٹھی ہے، کیا ملک میں کوئی حکومت نام کی چیز ہے؟ حکومت کی کیا پالیسیاں ہیں؟ بتایا جائے حکومت کی آخر کار کورونا پالیسی کیا ہے؟، خدارا لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ نہ کھیلا جائے۔ یہ ایوان فیصلہ کرلے کہ وزیراعظم کیا چاہتے ہیں، اس وقت بحران گورننس اور پالیسی کا ہے، حکومت کا کوئی رخ اور کوئی سمت نہیں ہے، بس گزارا کیا جارہا ہے، کسی بھی شعبے کو لے لیں، کامیابی بتا دیں، دور دور تک کامیابیوں کانام نہیں، کل ایک وزیر کا بیان سنا کہ اوگرا سو رہا ہے اور پیٹرول پمپس پر قطاریں لگی ہیں،ہمیں نہ بتائیں اوگرا کو دیکھیں یہ آپ کے ماتحت ہے۔
رہنما (ن) لیگ کا کہنا تھا کہ ہم سے قیمت وصول کرلیں لیکن خدا کے لیے کچھ کام تو کریں، پیپلز پارٹی اور ہماری قیادت کو گرفتار کرنے سے مسائل حل ہوتے ہیں تو ہم خود تھانے چلے جاتےہیں، 15 مئی کو ہیلتھ ڈپارٹمنٹ پنجاب نےخط لکھا اور کہا کہ کورونا کی شرح 6فیصد ہے، آج پنجاب میں ٹیسٹ کےحوالے سےکورونا کیسز کی شرح 25 فیصد ہے، ورلڈ ہیلتھ آرگنازیشن کے مطابق ہمارے ہاں کورونا کی ٹریسنگ کمزور ہے، عالمی ادارہ صحت نے 7 جون کو خط لکھا کہ لاک ڈاؤن کو غلط کھولا گیا ، جب کیسز بڑھ رہے تھے تھے لاک ڈاؤن کھول دیا گیا ، ڈبلیو ایچ او کی سفارش ہے کہ 2 ہفتے لاک ڈاؤن کریں اور 2 ہفتے اس میں نرمی کریں۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ہم نجکاری کے خلاف نہیں ہیں، ہم نے بڑے بڑے بینکوں کی نجکاری کی، پی ٹی سی ایل کی نجکاری کی، ہم چاہتے ہیں پبلک سیکٹر میں جو جنازے ہیں وہ پرائیویٹائز ہوں، آج پاکستان اسٹیل کے ملازمین کو اچھا پیکیج مل رہا تو اچھی بات ہے، پرویز مشرف کے دور میں پاکستان اسٹیل ملز کی نجکاری ہوئی لیکن سپریم کورٹ نے اسے روک دیا۔
تحریک انصاف کی عالیہ حمزہ نے اپوزیشن کی تنقید پر کہا کہ اپوزیشن حکومت پر اعتراض کر رہی ہے کہ کورونا پر وزیراعظم کچھ نہیں کر سکے،اپوزیشن اپنی عینک بدلے تو ان کو حکومت کا امدادی ریلیف پروگرام نظر آئے،اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ عمران خان کی وجہ سے 70 ترقی پزیر ممالک کے قرض ملتوی ہوئے۔
عالیہ حمزہ کا کہنا تھا کہ 2010 میں چینی بحران کے وقت چینی کی قیمت 140 روپے تھی،2015 میں پٹرول اور ڈالر بحران آیا، کسی بحران پر کوئی کمیشن نہیں بنا،جو رپورٹس بنیں وہ منظر عام پر نہ آسکی، ٹڈی دل سے نمٹنے کیلئے سندھ حکومت نے 42 ڈبل کیبن گاڑیاں منگوائیں، 10 ارب کا آٹا سندھ حکومت کے چوہے کھا گئے،گزشتہ دور حکومت میں سلیمان شہباز کو 20 ارب کی سبسڈی دی گئی،سندھ حکومت نے اسٹیٹ بینک کی منظوری کے بغیر اومنی گروپ کو 4 روپے فی کلو سبسڈی دی، وزیراعظم عمران خان کی ہمت تھی کی چینی بحران پر ایکشن لیا اور رپورٹ منظر عام پر لائی گئی۔
تحریک انصاف کی رہنما کا کہنا تھا کہ اسٹیل ملز کی نجکاری پر اسد عمر، وزیر اعظم پر تنقید کی جا رہی ہے، ہم نے حکومت میں آتے ہیں اسٹیل ملز کو چلانے پر 60 روز میں رپورٹ طلب کی، اسٹیل ملز کو 2015 میں خسارے میں چھوڑا گیا، ن لیگی وزیر نے گزشتہ دور حکومت میں بیان دیا کہ پی آئی اے کے ساتھ اسٹیل ملز مفت لے لیں، مشترکہ مفادات کونسل 2 مرتبہ اسٹیل ملز کی نجکاری کا کہہ چکی ہے، نجکاری کمیشن نے 8 ماہ کی ورکنگ کے بعد اسٹیل ملز کی نجکاری پر سفارش کی جب کہ وزیر اعظم کا وژن نے کہ اسٹیل ملز کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلایا جائے، نجکاری کمیشن نے 8 ماہ کی ورکنگ کے بعد اسٹیل ملز کی نجکاری پر سفارش کی۔
جے یو آئی (ف) کے مفتی عبدالشکور نے کہا کہ کورونا صرف پاکستان کا معاملہ نہیں ہے پوری دنیا کا ہے،جے یو آئی (ف) نے کورونا سے بچاو کے لئے ایمرجنسی بنیادوں پر کام کیا، ہم نے کورونا کی وجہ سے ختم النبوت کانفرنس کو معطل کیا ، ہم نے تمام اسلامی مدارس بند کر دیئے ہیں، کورونا ایک طبی معاملہ ہے طبی ماہرین کی رائے آخری رائے ہونی چاہیے لیکن اس ملک میں ایک کرونا نہیں کئی کرونے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں