60

قاضی فائز عیسی کیس؛ معاملہ ایف بی آر کو بھیجنے پر کوئی اعتراض نہیں، حکومتی وکیل

اسلام آباد: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کی سماعت کے دوران حکومتی وکیل فروغ نسیم نے کہا کہ وزیراعظم کہتے ہیں انہیں عدلیہ کا بڑا احترام ہے اور ہمیں معاملہ ایف بی آر کو بھیجنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔
جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 10 رکنی فل کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے خلاف ریفرنس ساے متعلق درخواستوں پر سماعت کی۔
حکومتی وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے عدالت کے رعوبرو اپنے دلائل میں کہا کہ انہوں نے عدالت کے ایک سوال پر صدر مملکت اور وزیراعظم سے مشاورت کی ہے، وزیراعظم کہتے ہیں انہیں عدلیہ کا بڑا احترام ہے، ہمیں معاملہ ایف بی آر کو بھیجنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے، درخواست گزار جج اور اہلیہ ایف بی آر کے ساتھ تعاون کریں اور ایف بی آر 2 ماہ میں فیصلہ کر لے۔ وزیر اعظم نے کہا ہے لندن میں میری ایک پراپرٹی بھی نکلے تو ضبط کر لیں، اس کی رقم قومی خزانے میں ڈال دیں،جس پر جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دیئے کہ جج نے اپنے جواب میں یہ نہیں کہا لندن میں یہ جائیدادیں وزیراعظم کی ہیں، انہوں نے ویب سائٹ کے حوالے سے بات کی ہے۔
دوران سماعت جسٹس قاضی فائز خود سپریم کورٹ پہنچ گئے ، فروغ نسیم کے دلائل کے دوران عدالتی اجازت ملنے پر جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ حکومت نے عدالتی تجویز سے اتفاق کیا ہے، مجھے اس پر جواب دینا ہے، یہ قاضی فائز عیسٰی کا مقدمہ نہیں ہم سب کا مقدمہ ہے، الزام لگایا گیا ہے کہ ججز مجھے بچانا چاہتے ہیں، میرے اور میرے اہلخانہ کے ساتھ کیا ہوا اس میں نہیں جانا چاہتا، ریفرنس سے پہلے میرے خلاف خبریں چلیں، حکومت کی جانب سے تاخیر سے جواب جمع کرائے گئے۔ جوڈیشل کونسل نے ایک بار بھی بلا کر میرا موقف نہیں سنا۔ اگر جج بننے کا اہل نہیں تو آج ہی گھر بھیج دیا جائے۔ سابق اٹارنی جنرل نے کہا ساتھی ججز نے درخواست تیار کرنے میں مدد کی، میں التجا کرتا ہوں کہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔
قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ حکومتی وکیل کہتے ہیں کہ منی ٹریل آج بتا دیں یا کل بتا دیں، پہلے انھوں نے تسلیم کیا کہ وہ ان جائیدادوں سے آگاہ ہیں، تسلیم کیا کہ یہ جائیدادیں میری اہلیہ اور بچوں کی ہیں، ان جائیدادوں کو چھپانے کے لئے کوئی چیز استعمال نہیں کی گئی، کہا گیا کونسل کسی شخص کی اہلیہ کو بلا سکتی ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ میری اہلیہ کو ریفرنس کی وجہ سے بہت کچھ جھیلنا پڑا ہے، میری اہلیہ ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں موقف پیش کرنا چاہتی ہیں، وہ کہتی ہیں کہ وہ ایف بی آر کو کچھ نہیں بتائیں گی، اہلیہ کہتی ہیں کہ ایف بی آر نے ان کی تذلیل کی ہے۔ عدالت میری اہلیہ کو ویڈیو لنک کے ذریعے موقف پیش کرنے کا موقع دے۔ جس پر حکومتی وکیل کا کہنا تھا کہ نے کبھی معزز جج کے بارے میں منفی سوچ نہیں رکھی، جج صاحب سے میری کوئی دشمنی نہیں، اگر مناسب جواب دیتے ہیں تو معاملہ ختم ہو جائے گا۔
جسٹس عمرعطاء بندیال نے ریمارکس دیئے کہ اہلیہ کا بیان بڑا اہم ہوگا ، اگر اہلیہ جواب دیتی ہیں تو سارا عمل شفاف ہو جائے گا، ہماری درخواست ہے کہ وہ تحریری جواب داخل کر کے موقف دیں، تحریری جواب آنے کے بعد مقدمے کو سماعت کے لئے مقرر کیا جائے گا۔
جسٹس قاضی فائزعیسی نے کہا کہ میری اہلیہ وکیل نہیں ہیں، انہیں کسی وکیل کی معاونت نہیں ہوگی، وہ تحریری جواب جمع کرانے کی پوزیشن میں نہیں، اہلیہ کہتی ہیں اکاونٹ بتانے پر حکومت اس میں پیسہ ڈال کر نیا ریفرنس نہ بنا دے، اہلیہ کا موقف سن کر جتنے مرضی سوال کریں۔
جستس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ اہلیہ کے موقف کے بعد میں اپنی درخواست پر مقدمہ لڑوں گا، میں منافق نہیں ہوں، جو کہتا ہوں سچ کہتا ہوں، میں نے اس ریفرنس کو برداشت کیا، ہر دن اس معاملے پر ٹی وی چینلز پر بحث کی گئی، اس معاملے پرصدر مملکت نے ایوان صدر میں بیٹھ کر تین انٹریوز دیئے، شہزاد اکبر، فروغ نسیم اور سابق اٹارنی جنرل نے ایک دوسرے کے خلاف پریس کانفرنس کی، تینوں نے ایک دوسرے کو جھوٹا قراردیا، میں نے حکومتی آفر قبول نہیں کی، حکومتی وکیل نے کہا تھا کہ ایف بی آر والے جج صاحب سے ڈرتے ہیں،ایف بی آر نے فیصلہ ہمارے حق میں دیا تو پھر یہی کہا جائے گا۔
فاضل بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ جج صاحب ہم آپ کا احترام کرتے ہیں۔ آپ تشریف رکھیں، 9 ماہ میں ہم نے بھی کیس کی تیاری کی ہے، اس لئے کہتے ہیں کہ ریفرنس میں نقائص ہیں، ہم اس کیس کو ایف بی آرکو بھیج رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں