20

غربت اور ناقص غذا، بچوں کے اوسط قد میں 20 سینٹی میٹرکمی کی ذمے دار

لندن: غربت اور غذا کی کمی بچوں کی نشوونما پر بہت منفی اثر ڈالتی ہے اور یوں وہ ترقی یافتہ ممالک کے بچوں کے مقابلے میں کم قد کے رہ جاتے ہیں۔ اس عمل کو اسٹنٹنگ یا بوناپا کہتے ہیں جس میں بچے اپنے پورے قد تک نہیں پہنچ پاتے۔

اس ضمن میں 193 ممالک کے ساڑھے چھ کروڑ بچوں کا بغور مطالعہ کیا گیا جس میں اسکول جانے والے بچوں کی عمر اور اس لحاظ سے ان کے قد کا بغور جائزہ لیا گیا ہے۔ بچوں کا قد ان کی غذا، رہن سہن اور مالی صلاحیت کا بہترین عکاس ہوتا ہے۔

ماہرین نے اونچے ترین اور پست ترین قد والی اقوام کے بچوں کا موازنہ کیا تو انکشاف ہوا کہ ان کے درمیان اوسط 20 سینٹی میٹر کا فرق ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے لڑکیاں آٹھ برس تک چھوٹی ہیں اور لڑکوں میں یہ فرق چھ برس کی نشوونما کے برابر ہے۔ یعنی بنگلہ دیش اور گوئٹے مالا (جہاں لڑکیوں کا قد سب سے کم ہے) کی 19 سالہ لڑکیوں کا قد نیوزی لینڈ کے 11 سال کے بچوں کے برابر ہے کیونکہ نیوزی لینڈ کے بچے سب سے قدآور ہوتےہیں۔
عالمی غذائی ماہرین کے مطابق یہ ایک سنگین مسئلہ ہے جس میں بچے غذائی قلت کی وجہ سے چھوٹے قد کے رہ جاتے ہیں لیکن ظاہری خدوخال کے علاوہ ان کی ذہنی اور دماغی نشوونما بھی بھی شدید متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے ابتدائی عمر یا اسکول میں جانے کی عمر میں غذائی قلت کے منفی اثرات پوری زندگی برقرار رہتےہیں۔

یہ تحقیق ایک طویل عرصے تک کی گئی جس میں 1985ء سے 2019ء کا احاطہ شامل تھا۔ آئس لینڈ، ڈنمارک، ہالینڈ اور مونٹی نیگرو جیسی یورپی اقوام کے 19 برس کے لڑکے اور لڑکیاں سب سے بلند قامت دیکھے گئے ہیں۔ جبکہ جنوب اور جنوب مشرقی ایشیا، لاطینی امریکہ، پاپوا نیوگنی، گوئٹے مالا اور بنگلہ دیش کے 19 سالہ بچے سب سے کم قد پر پہنچے۔ تاہم چین جنوبی کوریا اور دیگر ممالک نے اپنے بچوں کی غذا بہتر بناکر ان کی نشوونما اور صحت کو بہتر بنایا ہے۔ لیکن اس ضمن میں 35 سال میں برطانیہ کی صورتحال بہت خراب ہوئی ہے اور اس کاعالمی رینک کم ہوا ہے۔

اس رپورٹ کے مرتب کرنے والوں نے زور دیا ہے کہ اسکول کی عمر تک پہنچنے والے بچوں کی غذائی ضروریات اور صحت مند ماحول کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔ اگر ہم اس عمر میں بچوں کی دیکھ بھال کریں تو ہم اپنے مستقبل کو بہتر بناسکتے ہیں۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں