209

طیارہ حادثہ: فرانس سے آنے والی طیارہ ساز کمپنی کی ٹیم کا جائے حادثہ کا دورہ

کراچی: پی آئی اے طیارہ حادثے کی تحقیقات کے لیے ائیر بس بنانے والی کمپنی کے ٹیکنیکل ایڈوائزر کی 11 رکنی ٹیم آج صبح کراچی پہنچی جس سے اپنے کام کا آغاز کردیا ہے اور ٹیم نے جائے حادثہ کا دورہ کیا۔ایئر بس کی 11 رکنی فرانسیسی ماہرین کی ٹیم نے طیارہ حادثے کی جگہ سے اہم تصاویر اور وڈیو کی شکل میں شواہد اکٹھے کئے ہیں۔
ایوی ایشن ذرائع کے مطابق ٹیکنیکل ایڈوائزرز کو لانے والی ائیر بس اے 330 نے صبح 6:35 بجے کراچی ائیرپورٹ پر لینڈ کیا۔ معروف طیارہ ساز کمپنی ایئر بس کے ماہرین پر مشتمل 11 رکنی فرانسیسی ماہرین کی ٹیم نے ماڈل کالونی میں طیارہ حادثے کی جائے وقوعہ کا دورہ کیا،ائیربس کمپنی کے ٹیکنیکل ایڈوائزرز فرانس کے جنوبی شہر ٹولاؤس سے پاکستان کیلئے روانہ ہوئے اور ماہرین نے خصوصی پرواز نمبر اے ای بی 1888 میں پاکستان کا سفر کیا۔ اس موقع پر انہیں سول ایوی ایشن کے فائر ڈیپارٹمنٹ، پی آئی اے کے فلائٹ سیفٹی اور انجینئرنگ کے افسران نے تفصیلی بریفنگ دی۔
ایئر بس کی ٹیم نے حادثے کے شکار طیارے کے ملبے، انجن، لینڈنگ گیئر، ونگز اور فلائٹ کنٹرول سسٹم کا جائزہ لیا، ٹیم نے طیارہ ٹکرانے سے ٹوٹنے والے گھروں کا معائنہ بھی کیا اور طیارے کے ملبے اور متاثرہ عمارتوں کی تصاویر اور ویڈیوز بنائی گئی۔
ایئر بس کے ماہرین کی 11 رکنی ٹیم خصوصی طیارے کی پرواز اے آئی بی 1888 کے ذریعے آج ہی کراچی پہنچی ہے۔ ٹیم اپنی تحقیقات کرکے آج رات ہی روانہ ہوجائے گی اور اپنے ساتھ طیارے کا بلیک باکس لے جائے گی، جس سے حادثے کی تحقیقات میں مزید اہم شواہد ملیں گے۔
تحقیقاتی ٹیم میں کسی متعلقہ ادارے کے افراد شامل نہیں ہوں گے، ترجمان پی آئی اےطیارہ حادثہ نے پی آئی اےکا جاں بحق افراد کی تدفین کیلئے فی کس 10 لاکھ دینے کا اعلان کیا ہے.حادثے کا شکار طیارہ تکنیکی طور پر پوری طرح محفوظ تھا، سربراہ پی آئی اے،
قبل ازیں کراچی میں فرانسیسی قونصل خانے کے حکام، سول ایوی ایشن اور پی آئی اے کے افسران نے ٹیکنیکل ایڈوائزرز کا استقبال کیا جس کے بعد ٹیم کراچی ائیرپورٹ پر واقع ہوٹل میں قیام پذیر ہوئی ہے۔
ٹیکنیکل ماہرین 22 مئی کو کراچی میں پرواز پی کے 8303 کی تباہی کی وجوہات کا کھوج لگائیں گے، ماہرین طیارہ حادثہ کی پاکستانی تحقیقاتی ٹیم سے مشاورت کریں گے۔
ذرائع کے مطابق طیارہ ساز کمپنی کی ٹیکنیکل ٹیم کے ارکان کراچی ائیرپورٹ کے رن وے 25 ایل کا معائنہ کریں گے جہاں پائلٹ نے اس پرواز کو گئیر کھلے بغیر لینڈ کرانے کی کوشش کی تھی۔
جب کہ تحقیقات کے لیے جائے حادثہ سے تباہ شدہ ائیربس کی باقیات کی منتقلی پہلے ہی روکی جا چکی ہے، ٹیم طیارے کا بلیک باکس اور دیگر ضروری آلات اپنے ساتھ لے جائے گی، ائیر بس انتظامیہ تحقیقات میں پی آئی اے اور پاکستانی تحقیقاتی ٹیم کو بھرپور تکنیکی معاونت فراہم کرے گی۔
ذرائع کے مطابق ماہرین کی ٹیم نے سول ایوی ایشن اور پی آئی اے کے متعلقہ افسران کو جائے حادثہ پر طلب کیا جب کہ سی اے اے کے فائر ڈیپارٹمنٹ اور پی آئی اے کے افسران نے ٹیم کو بریفنگ دی، اس دوران ائیر کرافٹ ایکسیڈینٹ اینڈ انویسٹی گیشن کی ٹیم بھی ائیربس کی ٹیم کے ہمراہ تھی۔
ماہرین نے حادثے کے شکار طیارے کے ملبے کا معائنہ کیا، طیارے کے انجنوں،لینڈنگ گیئر، ونگز اور فلائٹ کنٹرول سسٹم کا بھی جائزہ لیا جب کہ ٹیم نے طیارہ ٹکرانے سے ٹوٹنے والے گھروں کا بھی معائنہ کیا۔ ذرائع کے مطابق ٹیم نے طیارے کے ملبے اور متاثرہ عمارتوں کی تصاویر اور ویڈیوز بنائیں۔
یاد رہے کہ 22 مئی کو پی آئی اے کا لاہور سے کراچی آنے والا طیارہ رن وے سے چند سیکنڈ کے فاصلے پر آبادی پر گر کر تباہ ہوگیا تھا جس کے نتیجے میں جہاز کے عملے سمیت 97 افراد جاں بحق جب کہ دو افراد معجزانہ طور پر بچ گئے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں