9

شجر کاری مہم کے تحت ایک سال میں بڑے پیمانے پر تبدیلی نظر آ رہی ہے: وزیراعظم

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے پنجاب کے علاقے بلوکی کی ویڈیو شیئر کی ، اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک سال قبل خالی نظر آنیوالی جگہ پر ہزاروں درخت لگے ہوئے ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر وزیراعظم نے لکھا کہ 10 بلین ٹری سونامی کےتحت پنجاب میں موسمیاتی تبدیلی واضح ہے۔ شجرکاری مہم کےتحت ایک سال میں بڑی تبدیلی نظرآرہی ہے۔ مافیا سے زمین واگزار کرا کے شجرکاری کی گئی۔ انہوں نےٹویٹر پر مزید لکھا کہ شجر کاری مہم سے آئندہ نسلوں کے لیے سبز پاکستان بنانے پر مطمئن ہوں۔ یاد رہے کہ آلودگی اور ماحولیاتی تبدیلی پر قابو پانے کے لیے پاکستان دنیا بھر میں مثال بننے لگا۔ وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ماحولیاتی تبدیلی اور آلودگی کیخلاف ٹویٹ کیا۔
وزیراعظم عمران خان نے کلین گرین پاکستان اور ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف حکومتی کوششوں سے متعلق ویڈیو جاری کردی۔ ویڈیو میں آلودگی اور ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنے کےلئے پاکستانی کوششوں کو دکھایا گیا۔
ویڈیو میں کہا جا رہا ہے کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق گولز کو 10 سال پہلے حاصل کرلیا، پاکستان تیزی سے ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنج کا مقابلہ کررہا ہے، پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلی کا چیلنج درپیش تھا۔ ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے اربوں درخت لگا کر ماحولیاتی تبدیلی کا مقابلہ کیا، پاکستان کلین انرجی، الیکٹرک گاڑیوں کی طرف جا رہا ہے، پاکستان گرین جابز سامنے لارہا ہے، پاکستان نے دس سال کا انتظار کرنے کے بجائے ماحولیاتی تبدیلی کا ابھی سے مقابلہ کیا۔
ویڈیو میں مزید بتایا گیا ہے کہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں دیگر ممالک کے لئے بہترین مثال ہے، ایک منٹ کی ویڈیو میں وزیر اعظم عمران خان کی ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب اور دیگر اقدامات کو بھی دکھایا گیا۔
سماجی رابطے کی ویب ٹویٹر پر ویڈیو شیئر کرنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے لکھا کہ ماحولیاتی تبدیلی اور آلودگی کے خلاف پاکستانی کاوشوں پر فخر ہے، کلین اور گرین پاکستان کےلئے حکومتی کوششیں جاری ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں سے ایک ہے لیکن اس ملک نے پائیدار ترقی کے حوالے سے طے شدہ تیرہواں ہدف مقررہ مدت سے دس برس پہلے ہی حاصل کر لیا ہے۔ اقوام متحدہ نے پاکستان کو مبارک باد دی تھی۔
اقوام متحدہ کی پائیدار ترقی کے حوالے سے سالانہ رپورٹ چند روز قبل پیش کی گئی، جس کے مطابق پاکستان نے کلائمیٹ ایکشن‘ کا ہدف نمبر تیرہ دس برس پہلے ہی حاصل کر لیا ہے۔
سالانہ رپورٹ میں پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے دنیا کے مختلف ممالک کی پیش رفت کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ ہدف نمبر 13 کا مقصد زیادہ سے زیادہ پودے لگانا، حیاتیاتی تنوع کا تحفظ اور ماحول دوست یا صاف توانائی میں سرمایہ کاری پر توجہ مرکوز کرنا شامل ہیں۔
پاکستان نے تینوں اہداف کے لیے متعدد پروگرام شروع کر رکھے ہیں۔ ان میں 10 بلین ٹری سونامی پروگرام، کلین گرین پاکستان انیشی ایٹیو، کلین گرین پاکستان انڈیکس، پروٹیکٹیڈ ایریاز انشیایٹیو (15 نئے نیشنل پارکس کا قیام) اور گرین گروتھ جیسے پروگرام شامل ہیں۔ پاکستان پروگرامو‌ں پر عمل درآمد یو این ڈی پی کے تعاون سے جاری رکھے ہوئے ہے۔
پاکستان میں پائیدار ترقی اور اہداف کے حوالے سے وزیر اعظم کے مشیر ملک امین اسلم کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے یہ بہت خوشی کا دن ہے کہ اس سال پائیدار ترقی کا تیرہواں ہدف حاصل کر لیا گیا ہے۔
ملک امین اسلم نے غیر ملکی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اقوام متحدہ نے تمام ممالک کے ساتھ مل کر 2015ء میں پائیدار ترقی کے حوالے سے 17 اہداف مقرر کیے تھے اور انہیں 2030ء تک مکمل کیا جانا ہے، یہ تیرہواں ہدف ہماری وزارت نے بھی حاصل کرنا تھا، جو بڑی خوشی کی بات ہے کہ وقت سے پہلے ہی حاصل کر لیا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے کے مطابق ایک عرصے تک پاکستان کا شمار ایسے ممالک میں ہوتا رہا ہے، جہاں جنگلاتی رقبہ ہمیشہ کم ہوتا رہا ہے لیکن حالیہ چند برسوں کے دوران اس صورتحال میں تبدیلی پیدا ہوئی ہے۔ ورلڈ وائڈ فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے حال ہی میں بلین ٹری منصوبے کا آغاز کیا تھا، جس کی وجہ سے صوبہ خیبرپختونخوا میں جنگلاتی رقبے میں چھ فیصد اضافہ ہوا ہے۔
ملک امین اسلم کا مزید کہنا تھا کہ اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان پائیدار ترقی کے طے شدہ اہداف حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
اقوام متحدہ کی پاکستان میں ترقیاتی عمل کی نگران نائب نمائندہ ایلونا نِکولیت کی طرف سے اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یونائیٹڈ نیشنز ڈویلپمنٹ پروگرام کی طرف سے ہم پاکستان کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ سالانہ رپورٹ کا جائزہ لینے کے لیے جمع ہوئے ہیں اور فخر ہے کہ پاکستان نے پائیدار ترقی کے حوالے سے تیرہواں ہدف حاصل کر لیا ہے۔
وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کا ایک اہم پروگرام گرین اکانومی اور گرین فیوچر‘ بھی ہے۔ اس حوالے سے ملک امین اسلم کا کہنا تھا کہ اسلام آباد حکومت چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک) منصوبے کو چین پاکستان گرین اکنامک کوریڈور میں تبدیل کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، پاکستان نے حال ہی میں کوئلے سے 2740 میگاواٹ بجلی کی پیداوار کے ایک منصوبے کو زیرو کاربن اور ہائیڈرو پاور کے منصوبے میں تبدیل کر دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ماحول دوست توانائی کی جانب بڑھ رہا ہے، جو نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی برادری کے بھی مفاد میں ہے۔

تحفظ ماحول کے لیے سرگرم تنظیم جرمن واچ انڈیکس کی امسالہ رپورٹ کے مطابق اپنے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے پاکستان کا شمار گزشتہ بیس برسوں کے دوران ماحولیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے دس ممالک میں ہوتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں