57

سینیٹ الیکشن، ڈرامے اور عوامی مسائل

تحریر: میمونہ حسین

ہماری قوم کی بھی کیا قسمت ہے کہ وہ عوام جو اپنا وقت اور پیسہ لگا کر اپنے منتخب کیے ہوئے نمائندوں کو قومی اور صوبائی اسمبلی میں بھیجتے ہیں، وہ نمائندے عوام اور اپنے حلقے کی رائے جانے بغیر فرد واحد کے کہنے پر اپنے استعفے اپنی پارٹی قیادت کو پیش کررہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ووٹ کو عزت دو، مگر ووٹر کی تذلیل کرو، ان کی رائے کی تذلیل کرو۔ میں یہاں یہ بات واضح کرنا چاہتی ہوں کہ یہ ساری اپوزیشن استعفے نہیں دے گی، کیونکہ پی پی پی یہ کبھی نہیں چاہے گی کہ سندھ کی حکومت ان کے ہاتھ سے نکلے۔ اگر پی پی پی سندھ حکومت کو چھوڑ دیتی ہے تو پھر اس کا حال وہی ہوگا جو اس کا حال پنجاب میں ہوا تھا۔ اس لیے پی پی پی تو استعفے نہیں دے گی، باقی ن لیگ اور دوسری جماعتیں پھر کچھ نہیں کرسکتیں۔ اور یہ بات حکومت کو بہت اچھی طرح معلوم ہے۔

ایک لمحے کےلیے مان لیتے ہیں کہ پی پی پی بھی استعفے دے دیتی ہے تو کیا اس کا سینیٹ الیکشن پر کوئی اثر نہیں ہوگا؟ بالکل بھی نہیں ہوگا، کیونکہ اسپیکر ان استعفوں کو منظور نہیں کرے گا اور سینیٹ الیکشن ان کی غیر موجودگی میں ہی ہوجائے گا، جس سے پی ٹی آئی باآسانی اپنے امیدوار کامیاب کروا کر اکثریت حاصل کرلے گی۔ پی ڈی ایم اے یہ بات بھی بہت اچھی طرح جانتی ہے کہ پی ٹی آئی بھی یہ چاہتی ہے کہ ان کے استعفے جلد از جلد آجائیں تاکہ وہ سینیٹ میں اپنی اکثریت حاصل کرسکیں۔

آئین کے تحت سینیٹ کے آدھے اراکین کی میعاد 11 مارچ کو ختم ہوجائے گی اور 12 مارچ کو نئے اراکین سینیٹ میں اپنا حلف اٹھائیں گے۔ حکومت اس الیکشن کو قبل از وقت اور اوپن بیلٹ کے ذریعے کروانا چاہتی ہے، لیکن پی ڈی ایم اے نے اسے مسترد کردیا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ چیئرمین سینیٹ کے خلاف جب تحریک عدم اعتماد لائی گئی تھی تو شو آف ہینڈ میں اپوزیشن کے ووٹ زیادہ تھے، لیکن جب ووٹ ڈالے گئے تو مرحوم حاصل بزنجو ہار گئے۔ یہ سب کو علم ہے کہ ہمارے سیاستدانوں سے لے کر ووٹر تک سب خرید و فروخت کرتے ہیں۔ اور یہ آج کی بات نہیں، ہماری جمہوریت کی یہ روایت رہی ہے۔
الیکشن کمیشن یہ واضح کرچکا ہے کہ سینیٹ 10 فروری کے بعد 30 دن کے اندر الیکشن کروانے کا قانونی حق رکھتا ہے اور اس وقت قانون میں کوئی ایسی شرط شامل نہیں کہ وہ الیکشن کو قبل از وقت کروا سکے۔

23 دسمبر کو صدر ڈاکٹر عارف علوی نے آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت ریفرنس سپریم کورٹ میں بھجوانے کےلیے وزیراعظم کی تجویز کی منظوری دے دی، جس میں آئین میں ترمیم کے بغیر الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 122(6) میں ترمیم کرنے پر اپنی قانونی ٹیم سے رائے مانگی ہے۔ اب یہ بات بہت اہم ہے کہ جب یہ ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر ہوگا تو اس کی تاریخ مقرر ہوگی، اس پر بحث ہوگی اور پھر اپوزیشن بھی سپریم کورٹ جائے گی اور اس طرح جنوری کا مہینہ بھی گزر جائے گا اور فروری میں تو ویسے ہی ان کی میعاد ختم ہورہی ہے۔

یہ وہ ڈرامہ ہے جس سے میڈیا اور عوام کی توجہ مہنگائی اور دوسرے مسائل سے دور رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

اپوزیشن نے اگر استعفے ہی دینے ہیں تو پھر ضمنی الیکشن میں حصہ کیوں لے رہی ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو عوام کی سمجھ میں نہیں آرہا۔ عمران خان کے بیان نے اپوزیشن کے بولنے کےلیے بہت کچھ دیا ہے، جس میں انھوں نے وہ سب کچھ کہہ دیا جو نہیں کہنا چاہیے تھا۔ اب اپوزیشن اس موقعے کو اپنے ہاتھ سے نہیں جانے دے گی۔ اور یہ ڈرامہ اگلے الیکشن تک چلتا ہی رہے گا۔ حکومت کی عوامی مسائل پر کوئی توجہ نظر نہیں آرہی۔ مارکیٹ میں اشیائے خورونوش کی قیمتیں ناجائز ہیں۔ دکان دار سے ہول سلیر اور مینوفکچرر اپنی من مانی کررہا ہے۔ پٹرول پھر مہنگا کردیا گیا۔ تعمیرات کے شعبے کو جو مراعات دی تھیں وہ بھی دسمبر میں ختم ہورہی ہیں اور ان میں بے چینی الگ پائی جارہی ہے۔ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں ہم بہت پیچھے جاچکے ہیں۔ حکومتی رٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔ مگر حکومت کی توجہ عوامی مسائل کے بجائے سینیٹ الیکشن پر ہے۔ اور یہی وہ وجہ ہے جس کے باعث پی ٹی آٹی کو اگلے الیکشن میں بہت دشواری پیش آئے گی۔

اس ہفتے یوٹیلیٹی اسٹور پر گھی 8 روپے سے 20 روپے، کوکنگ آئل 5 روپے سے 15 روپے مہنگا ہوا۔ آٹا 15 کلو کا تھیلا 940 روپے میں فروخت ہورہا ہے، جب کہ ایک سال پہلے 20 کلو آٹے کا تھیلا 800 روپے میں فروخت ہورہا تھا۔ اگر ہم اسی ہفتے مہنگائی کی بات کریں تو یہ مہنگائی 0.22 فیصد رہی اور اگر یہ اسی رفتار سے بڑھتی رہی اور اس پر قابو نہ پایا گیا تو پھر عوام ان کو اگلے الیکشن میں بری طرح ریجکیٹ کردیں گے۔ وزیراعظم کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ عوامی مسائل پر بھرپور توجہ دیں، نہ کہ سیاسی لوگوں پر۔ حکومت میں بیٹھ کر ’سب ٹھیک ہے‘ کی رپورٹ ہی پیش کی جاتی ہے، لیکن جب وہ الیکشن کے قریب پہنچ جاتا ہے تو پھر اس کو احساس ہوتا ہے کہ کون کون اس کے ساتھ ڈرامے کرتا رہا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں