87

سیاحت کے فروغ کی 10 سالہ حکمت عملی تیار کرلی، زلفی بخاری

اسلام آباد: وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانیز زلفی بخاری نے کہا ہے حکومت نے سیاحت کے فروغ کی 10سالہ حکمت عملی بنا لی۔ زلفی بخاری نے پریس کانفرنس میں کہا کہ قومی پورٹل بنایا ہے، کورونا کے خاتمے پرپورے پروگرام کا اجرا کریں گے،پی آئی اے بہتر نہیں ہوئی ،روز ویلٹ نے پچھلے سال 1.5 ملین ڈالر نقصان کیا ،حکومت اسے منافع پر چلا کر پیسہ کمانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ٹوورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کو ہر دور میں اپنے انداز سے چلایا گیا، پیپلز پارٹی دور کے900 لوگ نواز دور میں فارغ ہوئے، ن لیگ نے اپنے بندے بھرتی کیے ، ملازمین کے واجبات ادا کر دیئے، گولڈن ہینڈ شیک تیارہے، 360 لوگوں کے پیچھے لاکھوں نوکریاں نہیں کھو سکتا، یہ لوگ اس قابل نہیں کہ موٹلز چلا سکیں،یہ نجی شعبے کی مرضی ہے کہ وہ ان لوگوں کو رکھے یا نہیں۔
زلفی بخاری نے کہا کہ اگر لاکھوں نوکریاں دینی ہیں تو مشکل فیصلہ کرنا ہوگا ،موٹلز کوپانچ برسوں سے35 کروڑ نقصان ہورہا تھا، کورونا کی وجہ سے بند نہیں کئے، یہ 2019ء کا فیصلہ تھا، 30 سالہ لیز پر دیں گے، ایران اور ترکی سمیت 8 ممالک کے سیاحتی وزراء یہاں آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان 2021ء میں عالمی سیاحتی فورم کی میزبانی کرے گا، جوایسے سرمایہ کارلائے گا جو 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرناچاہتے ہیں،ہم نے 50 فیصد بھی فائدہ اٹھالیا تو3 ارب ڈالرکی سرمایہ کاری آئے گی، 2022ء میں جی ایٹ ممالک کے سیاحتی وزیرآئیں گے۔ نوجوان بھرتی کرکے سیاحت کی برینڈنگ کریں گے۔ زلفی بخاری نے کہاکہ دنیا بھر میں مجموعی ملکی پیداوار کا 10 فیصد سیاحت سے حاصل ہوتا ہے لیکن پاکستان میں اس کا حصہ 3 فیصد بھی نہیں، اسے بڑھانے سے اربوں روپے کی آمدن ہوگی۔ اس میں 5 سال کیلئے ایکشن پلان اور پاکستان کا برینڈ بھی بنایا جاچکا جسے 18 اپریل کو لانچ کرنا تھا لیکن عالمی وبا کی وجہ سے روک دیا گیا اور اب سال کے آخر میں لانچ کیا جائے گا۔ پاکستان کے برینڈ کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر لانچ کیا جائے گا تا کہ لوگ پاکستان کی خوبصورتی دیکھنے آئیں۔ ان کا کہنا تھا ہوٹلوں اور موٹلوں کیلئے کم از کم قومی معیار کا تعین کیا جاچکا، نیشنل ای پورٹل تیار ہے، جہاں دنیا بھر سے بکنگ کی جاسکے گی ، اس پر موسم ٹریفک، آبادی، ریٹنگ وغیرہ کی معلومات ایک جگہ دستیاب ہوں گی۔ انڈومینٹ فنڈمیں سیاحت کی مارکیٹنگ اور برینڈنگ کیلئے ایک ارب روپے رکھے ہیں تاکہ ہر چیز کا معیار نظر آئے۔ انہوں نے کہا ہم نے کورونا کی وجہ سے ملازمین کو نہیں نکالا بلکہ 2019 ء می کابینہ نے پی ٹی ڈی سی کو چلانے کے حوالے سے میکانزم بنانے کا فیصلہ کیا تھا، ہوٹلوں کو صوبوں کو دیا جائے گا تا کہ وہ انھیں 30 سال کیلئے نجی شعبے کو لیز پر دے سکیں، ملکی و غیر ملکی سرمایہ کارانھیں اچھے طریقے سے چلا سکیں گے، اس ضمن میں غیر ملکی کمپنی کی خدمات حاصل کی ہیں، اس منصوبے کا آغاز گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی 46 جائیدادوں سے کیا جارہا ہے،جنھیں تین سے چاربرسوں میں 3 اسٹار اور 4 اسٹار ہوٹلوں میں تبدیل ہوتے دیکھیں گے۔ زلفی بخاری نے بتایا کہ پی ٹی ڈی سی ہوٹل اس لئے فائدے میں نہیں رہے کیونکہ ماضی میں جس نے بھی ادارے کی باگ ڈورسنبھالی،اس نے سیاسی مفادات پورے کئے۔ نواز شریف نے پیپلز پارٹی کے 907 ملازمین فارغ کئے،اپنا ایم ڈی لگا کر سیاسی کارکنوں کو نوکریاں دیں۔پی ٹی ڈی سی کی بندش کا فیصلہ جلد بازی کا نہیں تھا ، ان کی یونینیوںکے ساتھ مذاکرات کرکے ایک ارب 30کروڑ کیگولڈن ہینڈ شیک کی پیشکش کی جسے مسترد کردیا گیا۔انہوں نے کہا وہ ضمانت دیتے ہیں ہمارے فیصلے سے ادارہ ایک سال میں منافع میںآئے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں