220

سکھ برادری کورونا کی وجہ سے بند کرتارپور راہداری دوبارہ کھلنے کی منتظر

لاہور : کورونا وائرس کی وجہ سے بند کی گئی کرتارپور راہداری پر گہرے اثرات مرتب ہوتے نظر آرہے ہیں۔
پاکستان اور بھارت نے کورونا وائرس کی وجہ سے اپنی سرحدیں بند کررکھی ہیں۔ دونوں ملکوں کے مابین کرتارپور راہداری بھی بند ہے۔ بھارتی حکومت نے مختلف ممالک سے جڑی سرحدوں کی بندش کے حوالے سے مدت مقررکررکھی ہے تاہم کرتارپور راہداری کب کھولی جائے گی اس بارے کوئی ٹائم فریم نہیں دیا گیا ہے۔ بھارتی حکومت نے 16 مارچ کی رات سے غیرمعینہ مدت کے لئے بند کرنے کا نوٹی فکیشن جاری کیا تھا۔

پنجاب اسمبلی کے رکن اور پارلیمانی کمیٹی برائے انسانی حقوق کی سیکرٹری سردار مہیندرپال سنگھ نے ایکسپریس کوبتایا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت نے کرتارپور راہداری دل پربھاری پتھر رکھتے ہوئے اوردنیا بھرکے سکھوں کے دباؤ کی وجہ سے کھولی تھی، اب جب کورونا وائرس کی وجہ سے راہداری بندکی گئی ہے توممکن ہے بھارت اس بندش کو طول دینے کی کوشش کرے لیکن دنیابھرمیں بسنے والے سکھوں کی ارداس اورخواہشات کودبانا اب بھارت کے بس میں نہیں ہے ، وہ راہداری کی بندش کوچند ہفتوں کے لئے طول تودے سکتا ہے مگر اس بند نہیں کیاجاسکتا۔
گورودوارہ دربارصاحب کرتارپور کے ہیڈگرنتھی گیانی گوبندسنگھ کہتے ہیں کورونا وائرس کی وجہ سے گورودوارہ صاحب میں ملکی اورغیرملکی یاتریوں کی انٹری مکمل طور پر بند ہے ، یہ پابندی 5 اپریل تک تھی جسے اب 15 اپریل تک توسیع دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ راہداری بھارت کی طرف سے بند کی گئی ہے، اب اسے کب کھولاجائے گا یہ فیصلہ بھارت نے ہی کرنا ہے، انہوں نے امید ظاہرکی کہ کورونا وائرس کی وباء ختم ہوتے ہی راہداری پھرسے کھل جائیں گی اورکرتارپورصاحب کی رونقین بحال ہوں گی۔

دہلی گوردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے سابق صدر سردارپرم جیت سنگھ سرنا کا کہنا ہے کرتارپور راہداری کھولنے کے حوالے سے پاکستان اوربھارت دونوں ملکوں کے اپنے مفادات جڑے ہیں۔بعض بھارتی سیاستدان سمجھتے ہیں کہ اس راہداری کا فائدہ پاکستان کو پہنچا ہے جسے بھارت قبول کرنے کوتیار نہیں ہے۔ کورونا وائرس نے بھارت کرتارپور راہداری بند کرنے کی خواہش پوری کرنے کا ایک موقع دیا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہرکیا کہ انہیں نہیں لگتا کہ آئندہ چند ہفتوں میں کوروناء کی صورتحال بہترہونے کے بعد بھی بھارت فوری طورپر راہداری کھولنے کا اعلان کرے گا۔

سردارپرم جیت سنگھ سرنا نے بتایا کہ بھارت میں کورونا وائرس کی وجہ سے مساجد، مندر اور دیگر مذاہب کی عبادت گاہیں بند ہیں لیکن سکھوں کے سب سے مقدس مقام گولڈن ٹمپل سمیت تمام گورودوارے کھلے رکھے گئے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر گولڈن ٹمپل کو کھلا رکھا جاسکتا ہے تو پھر کرتارپور صاحب کو کیوں بند کیا گیا ہے؟

سکھوں کی سب سے بڑی نمائندہ شرومنی گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے سیکرٹری ڈاکٹر روپ سنگھ کہتے ہیں کورونا وائرس کی وجہ سے راہداری کی بندش ایک مشکل فیصلہ تھا جسے ہم نے قبول کیا ہے ،جیسے ہی یہ وباء ختم ہوتی ہے ہم بھارتی حکومت سے مطالبہ کریں گے کہ راہداری کوفوری کھول دے اور اس حوالے سے کوئی ڈیڈلائن بھی دی جائے۔

پاکستان سکھ گورودوارہ پربندھک کمیٹی کے پرددھان سردارستونت سنگھ نے بتایا کہ راہداری کھلنے کے بعد پہلی بار کرتارپورصاحب میں وساکھی کا تہوارمنایا جاناتھا تاہم اب یہ تقریب منسوخ کردی گئی ہے البتہ گورودوارہ پنجہ صاحب حسن ابدال میں مختصرتقریب میں اکھنڈپاتھ کا اہتمام ہوگا جس میں بہت کم تعداد میں سکھ شریک ہوں گے ، کوئی بھی ملکی اورغیرملکی سنگت شریک نہیں ہوگی۔
کرتارپور راہداری کا افتتاح نومبر2019ء میں کیا گیا تھا، وزیراعظم عمران خان نے راہداری کا افتتاح کیا تھا۔ پاک بھارت معاہدے کے تحت راہداری کے راستے روزانہ 5 ہزار بھارتی شہری کرتارپورصاحب آسکتے ہیں۔ پاکستان کی طرف سے 20 ڈالرانٹری فیس مقررہے جبکہ بھارت نے اپنے شہریوں کے کرتارپور صاحب آنے کے لئے پاسپورٹ کی شرط عائد کررکھی ہے۔ راہداری کے افتتاح سے لیکرعارضی بندش تک ایک لاکھ سے زائد بھارتی شہری یہاں درشن کے لئے آچکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں