248

سندھ میں لاک ڈاؤن میں توسیع؛ مختلف کاروبار اور صنعتوں کو کام کرنے کی مشروط اجازت

کراچی: سندھ حکومت نے لاک ڈاؤن میں 30 اپریل تک توسیع کا نوٹی فکیشن جاری کردیا جس کے تحت چند ضروری شعبہ جات کو ریلیف فراہم کیا گیا ہے جبکہ اجتماعات، تفریحات اور دیگر سرگرمیوں پر بدستور پابندی عائد رہے گی۔

محکمہ داخلہ سندھ کے جاری کردی نوٹی فکیشن کے مطابق مختلف صںعتوں، مزدوروں کی کالونی کے حامل بڑے پیداواری یونٹس، متعدد دکانوں، آن لائن کاروبار اور کورئیر کمپنیوں کو کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

دھوبی، حجام، مکینک، درزی، پلمبر، الیکٹریشن، بڑھئی، کتب شاپس، ریڑھی بان ایس او پی کے تحت مشروط کاروبار کرسکیں گی، تعمیراتی صنعتیں محدود طور پر جب کہ برآمدی صنعتوں کو ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی تصدیق اور انڈر ٹیکنگ کے بعد کام کی اجازت ہوگی، بڑی صنعتیں جن کے مزدور کالونی حدود کے اندر ہیں انہیں معائنے کے بعد کام کی اجازت ہوگی، تمام فیکٹریوں کو ایس او پیز کو فالو کرنا ہوگا۔

بھٹے، بجری کی کرشنگ، شیشہ انڈسٹری کے کارخانے کھلیں گے، ہر وہ فیکٹری کھلے گی جس کی لیبر اسی فیکٹری تک محدود رہے گی۔

حکم نامے کے مطابق 13 پیداواری یونٹس اور کاروباری سرگرمیوں کو لاک ڈاؤن کے دوران سرگرمیوں کی مشروط اجازت ہوگی، آئل ریفائنریز، ایل این جی اور گیس کے پیداواری یونٹس، پیپر اور پیکیجنگ انڈسٹریز، سیمنٹ، کیمیکل اور فرٹیلائزر کمپنیاں ایس او پی فالو کرتے ہوئے پیداواری عمل شروع کرسکیں گی تاہم ان پر بھی ایس او پیز کو فالو کرنا لازمی ہوگا۔
جانوروں سے متعلق ضروری سازو سامان، زرعی آلات کی فیکٹری کھلیں گی، پودوں کی نرسریاں اور تمام ضروری ورکشاپس کھلیں گی، کیمیکلز مینوفیکچرنگ پلانٹس، ای کامرس، ایکسپورٹس اور لوکل سافٹ وئیر ڈیولپمنٹ پروگرامنگ، مائنز اینڈ منرلز، لانڈری، ڈرائی کلیننگ، پودوں کی نرسری، زراعت کی مشینری اور آلات بنانے والی انڈسٹری، جانوروں کے اسپتال، ایکسپورٹس انڈسٹری بھی کھولنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
پابندیوں سے مستشنی صنعتی یونٹس کو ملازمین کی آمد و رفت کے لیے ٹرانسپورٹ کا انتظام کرنا ہوگا اور ٹرانسپورٹ کے لیے متعلقہ ڈپٹی کمشنر سےاجازت نامہ لینا ہوگا۔
نوٹی فکیشن کے مطابق کورئیر سروس اور آن لائن کاروبار کو کام کی اجازت ہوگی، آن لائن کاروبار سے وابستہ 49 رجسٹرڈ اداروں کے رائیڈرز ادویات اور دیگر سامان کی ترسیل کرسکیں گے، آن لائن بزنس سے وابستہ ادارے صرف بنیادی اشیائے ضروریہ کی ترسیل کرسکیں گے، کورئیر سروس فراہم کرنے والی کمپنیاں ادویات اور ریلیف کے سامان کی ترسیل کرسکیں گی تاہم تیار کھانے کی ہوم ڈیلیوری ممنوع ہوگی، رائیڈرز کو ایس او پیز فالو کرنا ہوں گے خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی کی جائے گی۔
جیل میں قیدیوں سے ملاقاتوں، مزارات پر سرگرمیوں، موٹر سائیکل کی ڈبل سواری، مساجد اور عبادت گاہوں میں اجتماعات پر پابندی ہوگی۔
ریستوران کو تیار کھانوں کی ہوم ڈیلیوری بحال کردی گئی ہے تاہم شہریوں کو ریسٹورنٹ میں کھانے اور ٹیک اووے کی اجازت نہیں ہوگی۔
اندرون شہر اور بیرون شہر ٹرانسپورٹ بند رہے گی، عوامی، کاروباری سرگرمیاں محدود رہیں گی، شاپنگ پلازا، شادی ہالز سینما گھر بند رہیں گے، تمام تفریحی مقامات پر آمد و رفت بند رہے گی، ہرقسم کے عوامی، سیاسی، سماجی مذہبی تقاریب، اجتماعات پر پابندی ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں