67

سلپ کیچنگ؛ پاکستان نے تمام ٹیموں کو پیچھے چھوڑ دیا

لاہور: سلپ کیچنگ میں پاکستان نے تمام ٹیموں کو پیچھے چھوڑ دیا جب کہ ٹیم نے2018کے اوائل سے اب تک 89 فیصد مواقع کارآمد بنائے۔ انگلینڈ کے سلپ فیلڈرز میں بین اسٹوکس، جو روٹ، ڈوم سبلی اور روری برنز شامل ہیں،ان میں سے اسٹوکس کو سب سے زیادہ قابل بھروسہ شمار کیا جاتا رہا لیکن رواں سیزن انھوں نے 4کیچز ڈراپ کیے ہیں، آل راؤنڈر فیملی مسائل کی وجہ سے ساؤتھمپٹن میں دونوں ٹیسٹ میچز کیلیے دستیاب نہیں لیکن جمعرات کو برنز اور سبلی نے کیچز چھوڑ کر عابد علی کو 2 چانسز دیے، تسلسل کے ساتھ مواقع گنوانے والا انگلینڈ ٹاپ 10میں بھی شامل نہیں، حیران کن طور سلپ کیچنگ میں پاکستان کا ریکارڈ خاصا بہتر ہوگیا۔
2018ء کے اوائل سے اب تک ٹیم نے 89 فیصد کیچز لیے ہیں،نیوزی لینڈ88 فیصد تناسب کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے،جنوبی افریقہ 87 فیصد کیچز لیتے ہوئے تیسری پوزیشن پر رہا، آسٹریلیا 84، سری لنکا82، بھارت78، ویسٹ انڈیز 77، افغانستان75، زمبابوے75، آئرلینڈ 73فیصد تناسب کے ساتھ ٹاپ 10میں شامل ہیں، انگلینڈ 73اور بنگلہ دیش 69 فیصد کیچز کے ساتھ آخری 2 ٹیمیں ہیں۔
انگلینڈ کی سلپ فیلڈنگ کے حوالے سے بین اسٹوکس پہلے ہی تنقید کی زد میں تھے،سابق ٹیسٹ کرکٹ مائیکل ایتھرٹن نے ایک خامی کی بھی نشاندہی کرتے ہوئے کہاکہ فیلڈرز کو بہت قریب کھڑے کرنے کا نقصان ہے،وہ دوسرے کی جانب آنے والے کیچ کی کوشش میں غلطی کربیٹھتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں