73

سرکاری ملازمین کو تنخواہوں میں اضافے کا ریٹائرمنٹ کے بعد فائدہ نہیں ہوگا

کراچی: سرکاری ملازمین کو ملازمت کے دوران تو مالی فائدہ پہنچتا رہے گا لیکن تنخواہوں میں کیے گئے اضافے کا رٹائرمنٹ کے بعد کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ وفاقی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے گز شتہ کئی سال کے دوران سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کیے گئے اضافے کو تاحال بنیادی تنخواہ میں شامل ہی نہیں کیا گیا اور اسے ہر مالی سال کے بجٹ میں ایڈہاک الاؤنس کے طور شامل رکھا ہوا ہے، اس سے سرکاری ملازمین کو ملازمت کے دوران تو مالی فائدہ پہنچتا رہے گا، لیکن تنخواہوں میں کیے گئے اضافے کا رٹائرمنٹ کے بعد کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔اس بات کا انکشاف نئے مالیاتی سال کے بجٹ دستاویزات کے ذریعے ہوا ہے جن میں مالی سال 2009-10ء سے 2019-20ء تک سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کیا گیا اضافہ ابھی تک ایڈہاک الاؤنس کے طور پر درج ہے۔
مختلف صوبوں کے بجٹ دستاویزات کے جائزے کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہر محکمے کے ملازمین کی تنخواہوں کے علاوہ الاؤنسز کی کی ایک لمبی فہرست درج ہے جس میں سال 2009-10ءسے 2019-20ء تک متعلقہ حکومتوں کی جانب سے تنخواہوں میں کیا گیا اضافہ الاؤنسز کی فہرست میں ایڈہاک الاؤنس کے نام سے علحدہ علحدہ درج کیا گیا ہے۔ صوبہ پنجاب کے محکمہ لینڈ ریونیو کے بجٹ دستاویزات میں ملازمین کے الاؤنسز کی لمبی چوڑی فہرست دی گئی ہے جن میں صرف ریگولر الاؤنسز کی تعداد 40 بنتی ہے، مجموعی طور پر ان الاؤنسز کی مالیت ایک ارب چھیالیس کروڑ بنتی ہے، اسی طرح محکمہ صحت پنجاب کی جانب سے اپنے ملازمین کو دئیے جانے والے الاؤنسز کی تعداد 65 کے قریب بنتی ہے۔ اس سلسلے میں میڈیا کو بتایا کہ اگر تنخواہوں میں اضافے کو بنیادی تنخواہوں میں شامل کرلیا جائے تو سرکاری خزانے پر بہت بڑا بوجھ پڑیگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں