95

سرد موسم اور غربت کے مارے

تحریر: میاں اصغر سلیمی

رات ایک بجے کا وقت تھا، آفس سے گھر جانے کےلیے نکلا تو سردی اتنی تھی کہ خدا کی پناہ۔ ٹھنڈ سے بچنے کےلیے خود کو مکمل طور پرڈھانپ رکھا تھا۔ لیدر شوز کے ساتھ موٹے موزے، ہاتھوں میں گلووز، گرم کپڑوں کے ساتھ لیدر کی جیکٹ، اسکارف اور نہ جانے اور کیا کچھ۔ لیکن پھر بھی سردی سے برا حال تھا۔

رات کا وقت، اوپر سے بہت زیادہ ٹھنڈ ہونے کی وجہ سے مین بلیوارڈ گلبرگ پر ٹریفک بھی بہت کم تھا۔ سگنل پر رکا تو ایک دس، بارہ سالہ لڑکا بھاگتا ہوا آیا۔ بولا ’’بابو جی! انڈے خرید لیں۔‘‘

میں نے اس لڑکے کی طرف دیکھا۔ حلیے کا جائزہ لیا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اس شدید سردی میں بھی اس نے شوز کے بجائے ٹوٹی پھوٹی نائلون کی چپل پہن رکھی تھی۔ سر پر کوئی ٹوپی تھی اور نہ ہی گرم جرسی یا اسکارف وغیرہ۔ میں نے بے اختیار اس سے پوچھا ’’تم ابھی تک یہاں کیا کر رہے ہو اور کیا تمہیں سردی نہیں لگتی؟‘‘
پرنم آنسوﺅں اور افسردہ چہرے کے ساتھ وہ بولا ’’باﺅ جی! جب باپ کا سایہ سر پر نہ ہو، ماں کے ساتھ پانچ بہن بھائیوں کا پیٹ بھی پالنا ہو تو یہ نہیں دیکھا جاتا کہ سردی کتنی ہے اور رات کتنی بیت چکی ہے۔ میری سوچ صرف اس بات سے شروع ہوکر اسی پر ختم ہوجاتی ہے کہ میں نے بیوہ ماہ کے ساتھ چھوٹے بہن بھائیوں کا پیٹ کیسے پالنا ہے۔ گھر اس لیے نہیں جاسکتا کیونکہ ابھی تو بہت سے انڈے باقی بچے ہوئے ہیں۔ ایسے ہی گھر چلا گیا تو گھر والوں کو کیا کھلاﺅں گا اور اگر خود کو سردی سے بچاتا رہا تو گھر کا کرایہ اور بجلی کا بل کیسے ادا ہوگا؟‘‘

گھر پہنچنے کے بعد بھی میں یہی سوچتا رہا کہ انڈے بیچنے والا وہ بچہ ہی نہیں، اس ملک میں نہ جانے کتنے لوگ ہیں جو غربت سے بھی نچلی سطح کی زندگی گزار رہے ہیں۔ کتنے لوگ ایسے ہیں جن کے پاس رہنے کو چھت ہے اور نہ ڈھنگ کے کپڑے اور نہ جانے کتنے ایسے لوگ بھی ہیں جن کو دو وقت کی روٹی بھی نصیب نہیں ہوتی۔

ذوالفقار علی بھٹو نے پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھنے کے بعد ’’روٹی، کپڑا اور مکان‘‘ کا نعرہ لگایا تھا۔ یہ نعرہ اتنا مشہور ہوا کہ اس ملک کے چپے چپے اور کونے کونے میں پیپلز پارٹی کی پہچان بن گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے بعد نہ جانے کتنے سیاستدان آئے اور چلے گئے، لیکن کتنے دکھ اور افسوس کا مقام ہے کہ ’روٹی، کپڑا اور مکان‘ کا نعرے لگنے کے 50 سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی غریب کو آج تک چھت مل سکی اور نہ ہی دو قت کی عزت کی روٹی مسیر آسکی۔ اس ملک کے غریب اور عام آدمی کے حالات میں بہتری آنے کے بجائے مزید بگاڑ ہی آیا ہے۔

ہم آج بھی گرم لحافوں اور مہنگے کمبلوں کو چھوڑ کر اور اپنی نیند کی قربانی دے کر شہر کا جائزہ لیں تو ہمیں رات کے اوقات میں جگہ جگہ فٹ پاتھوں، انڈر پاسز، مزاروں، تاریخی عمارتوں اور بے شمار مقامات پر بے آسرا اور بے سہارا سوتے ہوئے لوگ ملیں گے۔ لیکن ہم اس مادی دنیا میں اتنے مگن ہیں کہ ہمیں ان غریبوں کی مصیبتوں، تکلیفوں، آہوں اور سسکیوں کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ آج صورت حال یہ ہے کہ ہر کوئی زیادہ سے زیادہ دولت کمانے کے چکر میں ہے۔ اس ملک میں ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جن کے پاس بے تحاشا دولت تو ہے، اگر نہیں ہے تو وہ سکون ہے۔ سونے کےلیے نرم و گداز بستر تو ہیں لیکن اس کے باوجود نیند ان سے کوسوں دور ہے۔ میرا ایسے لوگوں کےلیے ایک قیمتی مشورہ ہے کہ وہ اپنی ذات کے علاوہ کچھ وقت غریبوں اور ضرورت مندوں کےلیے بھی نکال لیں۔ صرف ایک لمحے کےلیے سوچ لیجئے کہ اگر ہمیں سردی لگتی ہے تو فٹ پاتھوں پر سونے والوں کو بھی ٹھنڈ لگتی ہے۔ یہ لوگ بھی آخر ہماری طرح انسان ہی ہیں، انہیں بھی ہماری طرح بھوک، پیاس لگتی ہے، یہ بھی بیمار ہوتے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ اس کےلیے پیسہ کا ہونا بھی ضروری ہے۔

ہمارا مذہب اسلام کہتا ہے کہ صدقہ و خیرات تمام بلاؤں کو ٹال دیتا ہے اور مسلمان ہونے کے ناتے اس بات پر ہمارا کامل یقین بھی ہے۔ یہ میرا مشاہدہ ہے کہ میں جب بھی بہت زیادہ پریشان اور بے چینی کا شکار ہوتا ہوں تو کچھ رقم ضرورت مندوں پر خرچ کر دیتا ہوں۔ ایسا کرنے کے بعد جو ذہنی سکون ملتا ہے اس کو الفاظ میں بیان نہیں کرسکتا۔ آج کل سردی عروج پر ہے، دھند بھی شدید پڑ رہی ہے، چند روز تک بارشوں کا سلسلہ بھی شروع ہونے والا ہے۔ ان حالات میں اگر آپ کسی ضرورت مند کےلیے چھت کا انتظام نہیں کرسکتے تو کم از کم ان کےلیے گرم کپڑوں، کمبل اور رضائیوں کا بندوبست کرکے ان کی تکلیفوں کو کسی حد تک کم تو ضرور کرسکتے ہیں۔ اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو آپ کو نہ صرف اس نیکی کا اجر ملے گا، بلکہ غریب، بے سہارا اور ضرورت مند لوگوں کےلیے یہ نئے سال کا ایک تحفہ بھی ہوگا۔
(بشکریہ ایکسپریس نیوز)

میاں اصغر سلیمی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں