241

ذخیرہ اندوزوں کو سزا اور تعمیراتی صنعت کیلئے آرڈیننسز کی منظوری

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت سزا اور تعمیراتی صنعت کے لیے آرڈیننسز کی منظوری دیدی ہے۔

وفاقی کابینہ نے کنسٹرکشن انڈسٹری کے لیے آرڈیننس کی منظوری دیدی ہے جس کے تحت تعمیراتی منصوبوں میں سرمایہ کاری پر ذرائع آمدن نہیں پوچھے جائیں گے، بلڈرزاور لینڈ ڈیویلپرز کو خصوصی مراعات دی جائیں گی جب کہ سیمنٹ اور اسٹیل کے علاوہ بلڈنگ مٹیریل پر ود ہولڈنگ ٹیکس بھی لاگو نہیں ہوگا، آرڈیننس کےتحت کم لاگت ہاؤسنگ منصوبوں پر 90 فیصد تک ٹیکس کی چھوٹ ہوگی۔

دوسری جانب وفاقی کابینہ نے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت سزاوؤں پر مشتمل آرڈیننس کی منظوری بھی دیدی ہے، آرڈیننس کے مطابق ذخیرہ اندوزی میں ملوث ادارے کے ملازمین کے بجائے مالک کے خلاف کارروائی ہوگی جب کہ 3 سال قید اور ضبط شدہ مال کی مالیت کا 50 فیصد بطور جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

آرڈیننس میں کہا گیا کہ ذخیرہ اندوزی میں ملوث ادارے کے ملازمین کے بجائے مالک کے خلاف کارروائی ہوگی، ذخیرہ اندوزی کی نشاندہی کرنے والے افراد کو ضبط کی جانے والی اشیاء کی مالیت کا دس فیصد بطور انعام دیا جائے گا۔

آرڈیننس میں کہا گیا کہ سرکاری افسر ڈپٹی کمشنر یا انکی جانب سے مقرر کردہ افسر ہوگا، سرکاری افسر کو کسی بھی گودام پر چھاپہ مارنے اور بند کرنے کا اختیار ہوگا اورآرڈیننس کے تحت ڈپٹی کمشنر کو بغیر وارنٹ کے گرفتاری کا اختیار حاصل ہوگا، سرکاری افسر کو ضبط شدہ سامان کی نیلامی کرنے کا بھی اختیار حاصل ہوگا، جرم ثابت ہونے پر نیلامی کی رقم حکومت پاکستان کے اکاؤنٹ میں جمع ہوگی۔

وزیر اعظم نے اس موقع ہر کہا کہ اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی سے مصنوعی قلت اور قیمتوں میں ناجائز اضافے کا بوجھ عوام برداشت کرتی ہے، انٹیلی جنس ایجنسیوں کی خدمات اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کی نشاندہی کیلئے حاصل کی جائیں۔

وزیر اعظم نے کہا دیانتدار اور فرض شناس افسران کو اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کی روک تھام کے لیے تعینات جائے، صوبوں کے ساتھ کوارڈینیشن کو مزید مؤثر بنایا جائے، صورتحال کی مانیٹرنگ کی جائے اور کسی قسم کی انتظامی رکاوٹ نہ آنے دی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں