251

دیکھنا منہ پر پھٹکار تو نہیں، رمیز کا جملہ عاقب کو یاد

لاہور: دیکھنا میرے منہ پر پھٹکار تو نہیں، عاقب جاوید طویل عرصے بعد بھی رمیز راجہ کا یہ جملہ نہ بھول پائے جب کہ انھیں اس سوال کا جواب کمرہ عدالت میں ملا۔
جسٹس قیوم کمیشن میں پیشی کا احوال بیان کرتے ہوئے عاقب جاوید نے کہا کہ مجھ سے پہلے رمیز راجہ کی گواہی تھی، باہر آتے ہوئے آمنا سامنا ہوا تو سابق کپتان نے کہا کہ دیکھنا میرے منہ پر کوئی پھٹکار تو نہیں پڑی، میں سمجھا شاید زیادہ دیر لگ گئی اس لیے کہہ رہے ہیں، مذاق میں کوئی بات کہہ کر میں کمرہ عدالت میں چلا گیا تو وہاں انھوں نے میرا قرآن پاک پر ہاتھ رکھواکر پڑھایا کہ اگر میں کوئی حقائق چھپاؤں یا جھوٹ بولوں تو مجھ پر اللہ کی لعنت اور پھٹکار پڑے، تب مجھے سمجھ آیا کہ رمیزراجہ مجھ سے وہ سوال کیوں پوچھ رہے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ اپنی گواہی میں بمشکل 2 منٹ بھی نہیں بولا تھا کہ جج صاحب نے کہا کہ اس بات کو یہیں روکتے ہیں، عاقب کا بیان اب بند کمرے میں ہوگا، وہاں جسٹس قیوم اور کرکٹرز کے وکیل صفائی موجود تھے، صرف میں تھا جس کا بیان اس انداز میں لیا گیا، میں نے سارا کچھ وہاں بتایا تو انھوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ عاقب حسد کرتا اور چاہتا ہے کہ کیس میں نامزد کرکٹرز باہر ہو جائیں تاکہ وہ خود کھیل سکے۔
سابق پیسر سے پوچھا گیا کہ آپ نے کیا تفصیلات بتائی تھیں، جواب میں انھوں نے کہا کہ میں نے پجیرو گاڑی اور پیسے وغیرہ لینے سمیت سب کچھ بتایا تھا۔انھوں نے کہا کہ اب 90ء کی دہائی میں ہونے والی کرپشن کے بارے میں جو شور سامنے آرہا ہے اس کو ختم ہونا چاہیے، بات دراصل پی سی بی میں نوکری کی ہے،اسی لیے جو لوگ بورڈ میں موجود ہیں ان میں سے کوئی نہیں بول رہا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں