86

’’دیریلش ارطغرل‘‘ سے متاثر ہوکر امریکی خاتون نے اسلام قبول کرلیا

انقرہ: ترکی کے مشہور ڈرامے ’’دیریلش ارطغرل‘‘ سے متاثر ہوکر 60 سالہ امریکی خاتون نے اسلام قبول کرلیا۔

ترک نیوز ایجنسی انادولو کے مطابق امریکا کی وسط مغربی ریاست وسکونسن کی رہائشی 60 سالہ خاتون نے قبول اسلام کے بعد اپنا نام ’’خدیجہ‘‘ رکھا ہے۔ ایجنسی سے بات کرتے ہوئے بزرگ خاتون نے بتایا کہ انہیں ’’دیریلش ارطغرل‘‘کے بارے میں نیٹ فلکس سے پتہ چلا۔

انہوں نے کہا میں اس کے بارے میں مزید تفصیلات جاننا چاہتی تھی لہذا میں نے یہ ڈراما دیکھنا شروع کردیا اور ڈرامے کی چند ہی اقساط دیکھنے کے بعد مجھے اسلام میں بے حد دلچسپی ہونے لگی۔ ڈرامے سے متعلق انہوں نے کہا یہ ایک ایسی تاریخ تھی جس کے بارے میں، میں کچھ نہیں جانتی تھی۔
’’ارطغرل‘‘ ڈرامے میں صوفی بزرگ محی الدین ابن العربی کے اقوال نے خدیجہ کی زندگی کو نئے معنی دئیے۔ ان کے الفاظ انہیں بہت سوچنے پر مجبور کرتے تھے اور بعض اوقات ان کے اقوال پڑھ کر وہ رو پڑتی تھیں۔

خدیجہ نے بتایا کہ وہ ’’دیریلش ارطغرل‘‘ ڈرامے کو چار بار دیکھ چکی ہیں اور اب پانچویں بار شروع کیا ہے۔ اس سیریز نے ان کی اسلام سے واقفیت پر بہت گہرا اثر ڈالا۔ خدیجہ نے کہا مجھے نئی تاریخ کے بارے میں جاننا پسند ہے۔ کیونکہ اس طرح آپ کو پتہ چلتا ہے کہ آپ مذہب کے بارے میں کیا جانتے ہیں اور مزید جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

خدیجہ نے بتایا تاریخ کے بارے میں ان کے تجسس نے انہیں سیریز سے جوڑے رکھا اور ارطغرل سیریز دیکھنے کے بعد انہیں اسلام کے متعلق پتہ چلا۔ اگرچہ وہ کیتھولک مذہب سے تعلق رکھتی تھیں۔ تاہم سیریز دیکھنے کے بعد ان کے ذہن میں موجودبہت سے سوالوں کےجواب واضح ہوگئے جس کے بعدانہیں اسلام کے متعلق جاننے میں مزید دلچسپی پیدا ہوئی۔

بزرگ خاتون خدیجہ نے بتایا کہ جب انہوں نے مسلمان ہونے کا فیصلہ کرلیا تو انہوں نے مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن شریف کو انگریزی میں پڑھ کر اسلام کے متعلق مزید معلومات حاصل کیں۔ بعد ازاں وہ اپنے علاقے میں موجود مسجد کو تلاش کرکے وہاں گئیں جہاں عبادت میں مصروف لوگ انہیں دیکھ کر حیران رہ گئے۔ خدیجہ اسی روز دائرہ اسلام میں داخل ہوگئیں۔

مسلمان ہونے کے بعد اپنے قریبی دوستوں کے ردعمل کے بارے میں بتاتے ہوئے خدیجہ نے کہا میرے دوستوں کو لگا کہ میرا برین واش کیا گیا ہے۔ میں اب لوگوں کے ساتھ اس معاملے پر زیادہ بات نہیں کرتی۔ میں ان کے اعتقاد میں مداخلت نہیں کرتی لہٰذا ان کے پاس بھی میرے معاملات میں مداخلت کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہونی چاہئے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل ایک میکسیکو جوڑنے نے بھی ’’دیریلش ارطغرل‘‘سے متاثر ہوکر اسلام قبول کیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں